دوسری قسط ۔ تین طلبہ کی مدد (17/10/2008)
22 جولائی کو میرا دوسرا دورہ ایک بار پھر جذباتی الجھن کا سبب بنا ۔اس بار مجھے تین طلبہ مس عبیر ابو وردہ، ڈاکٹر ایمن عبدالعزیز شاہین اور وائیل الاعدایا کو لے کر آنا تھا۔ایریز میں کئی گھنٹوں کی تاخیر ہو رہی تھی، ہم نے دیکھا کہ تینوں طلبہ آمد ہال میں اس پار ایک بوتھ میں انتظار کرہے تھے(وہ غزہ کی فلسطینی سمت، حمزہ حمزہ سے گزر چکے تھے، ان کےسامان کی اسکیننگ ہو چکی تھی اور اسرائیلی جانب ان کی سیکیورٹی چیکنگ بھی ہو چکی تھی) ۔میں اور میرا ڈرائیور لوئیس ان سے بات چیت کر سکتے تھے اس لئے ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں تھا۔محافظین نے پہلے دو طلبہ کو جانے دیا لیکن وائیل کی روانگی میں ایک گھنٹے سے زیادہ کی تاخیر کردی۔
دیر ہوتی جارہی تھی ہمیں ایلنبی برج جانے سے پہلے رام اللہ جاکر اردنی ریپریزینٹیٹو آفس سے عبیر کا اردنی ویزا بھی لینا تھا ( ویزا لگنے میں بھی تاخیر ہوئی تھی لیکن اب وہ تیار تھا) ۔میرا آئی ڈی ایف کے لفٹننٹ لیئورفریکنسٹائن سے رابطہ تھا اوروہ بتا رہا تھا کہ وائیل کو ابھی سیکیورٹی سے متعلق مزید سوالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ صحیح طریقہ کار نہیں تھا کیونکہ آئی ڈی ایف کواس سلسلے میں اسے اور مجھے پہلے سے خبردار کر نا چاہئے تھا کہ ایریز پہنچنے سے پہلے اس کا رابطہ مکمل نہیں ہو پایا تھا ( اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی صورتحال میں پہلے سے وارننگ دینا شروع کردی)۔
وائیل کا اصرار تھا کہ ہم اسے چھوڑ کر نہ جائیں کیونکہ اسے خوف تھا کہ آئی ڈی ایف اس سے نہ جانے کیسا سلوک کرے۔ لیکن ہمیں ایریز سے نکلنا تھا تاکہ ایلنبی برج سے گزر سکیں اور دوسرے دو طالب علم نہ پھنس کر رہ جائیں کیونکہ یہ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ آئی ڈی ایف وائیل کو نہیں چھوڑے گی۔وائیل سے ہم فون کے ذریعے رابطے میں تھے اور مجھے اس کو چھوڑ کر جانا برا لگ رہا تھا لیکن کوئی اور صورت بھی نہیں تھی۔کمال کلوب( غزہ میں ہمارے دفتر کے ڈپٹی منیجر) بھی وائیل سے رابطے میں تھے۔ لوئیس کی عمدہ ڈرائیونگ کی بدولت ہم اردنی ویزا وصول کرنے کے لئے رام اللہ روانہ ہو گئے۔ طلبہ کی اردنی ویزا کی وصولی میں مدد کرکے ہم شاید کچھ زیادہ تعاون کر رہے تھے، جرمن رپریزینٹیٹو آفس کے اہل کاروں نے بتا دیا تھا کہ" اگر ان کے پاس اردنی ویزا نہیں ہوگا تو نہیں جا سکیں گے " لیکن طلبہ کی مشکلات آپ کو کچھ زیادہ ہی متاثر کر دیتی ہیں اور آپ کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنی ممکن ہو ان کی مدد کی جائے۔بہر کیف جب عبیر ادائیگی کر کے اپنا ویزا لے رہی تھی تو ڈاکٹر ایمن نے اس اثنا میں فون کر کے اردنی ریپریزینٹیٹو آفس کے باہر اہل خانہ سے ملاقات کا انتظام کر لیا تھا تاکہ وہ اپنے والد سے جو رام اللہ میں رہتے ہیں ملاقات کر لے( دونوں کی ملاقات کو سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا تھا)۔ اس کے بعد ہم نے اپنے سفر کا آخری مرحلہ طے کیا اور ایلنبی برج پہنچے تاکہ اردن میں داخل ہوکے عمان سے بر طانیہ کے لئے سفر کر سکیں۔
رائیف احمد ، اس کی بیوی اور ان کے دوننھے بچوں کے ساتھ جو بیتی
وہ اگلی قسط میں ملاحظہ کیجیئے