Skip navigation

آخری قسط ۔ غزہ واپس آنے والے طلبہ کی مدد (26/10/2008)

 

اب مجھے ایک طالب علم کی غزہ واپسی میں مدد کرنا ہے۔واپس آنے والے طلبہ کے معاملات رکن ممالک اور اسرائیلی حکام خود طےکرتے ہیں اس میں یورپی یونین کی کوئی مداخلت نہیں ہوتی۔حال ہی میں چند طلبہ کی واپسی ہوئی ہے جس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا ۔ امید تو یہی ہے کہ اس بار بھی کوئی مشکل نہیں ہوگی لیکن بہرحال سفارتی ہمراہی کی ضرورت تو پڑتی ہی ہےلہذا مجھے عنقریب ہی ایلینبی برج اور ایریز تک جانا ہی ہوگا۔

 

میں غزہ کے ان فلسطینی ننھے اور بڑےبچوں کے لئے بھی ویزا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہوں جن کی  یروشلم کے مقاصد ہسپتال میں ہارٹ سرجری کی جائے گی۔رائل برامپٹن ہسپتال سے ڈاکٹر سیٹھیا اور ان کی میڈیکل ٹیم یہاں باقاعدگی سے آتی رہتی ہے اور انہیں بچوں اور ان کے والدین کے لئے غزہ سے نکلنے کے لئے درکار پرمٹ کے لئے ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کا انتظام آئی ڈی ایف کی بجائے غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

 

تاخیر سے پریشانی تو ہوتی ہے لیکن یہ احساس بڑا سکون بخشتا ہے کہ آپ کسی کی زندگی میں چھوٹی سی سہی، ایک تبدیلی پیدا کر سکے ہیں۔ ہمارے نائب کونسل جنرل مجھے ایریز کا فرشتہ کہہ کر پکارتے ہیں۔مجھے شکریے کے بھی چند پیغامات ملے ہیں۔احمد اور اس کے اہل خانہ تو حیران ہیں کہ جب سے وہ آکسفورڈ پہنچے ہیں وہاں مسلسل بارش ہو رہی ہے۔بد قسمتی سے میں بر طانیہ کے موسم کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتی۔ کونسلیٹ میں میری ساتھی نرگس اختر  نے میری گرمائی چھٹیوں کے دوران ایریز میں آئی ڈی ایف سے رابطے میں مدد کی اورمجھے خود کو یہ اطمینان دلانے میں کوئی دشوری نہیں ہوئی کہ میری دوردوین میں چھٹیوں کے دوران طلبہ کوکوئی مشکل پیش نہیں آئےگی۔

 

                                                                                                                                                    تحریر: اینجلا کرامپٹن" ایریز کا فرشتہ"  

 

Back to newsroom




تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر