Skip navigation

پانچویں قسط ۔تمام طلبہ بر طانیہ کے لئے روانہ (23/10/2008)

 

اب تک میں نے 19 طلبہ/ طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو غزہ سے بر طانیہ روانہ ہونے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان میں 3 کا اضافہ 22 ستمبر کو ہوا۔ دس دیگر ( تین طلبہ جو اپنے سیکیورٹی انٹرویو کے نتیجے کے منتظر تھے، ایک طالب علم اور اس کے اہل خانہ اور ایک طلبہ خاندان جو رابطوں کا نتظار کر رہے تھے)کی روانگی میں آئی ڈی ایف نے تاخیر کردی لیکن پھر وہ اس وقت روانہ ہونے میں کامیاب ہو گئے جب رفاہ کراسنگ غیر متوقع طور پر 30 اگست کے ویک اینڈ کو کھول دی گئی۔ایک طالب علم اور اس کے اہل خانہ کو 'سیکیورٹی وجوہات' کی بنا پر روک دیا گیا جبکہ ان کا سیکیورٹی انٹرویو بھی نہیں لیا گیا تھا ۔ اس پر میں نے فارن آفس میں اپنے ڈیسک کو اطلاع دے دی اور وہ لندن میں اسرائیلی سفارتخانے سے مسلسل لابی کرتے رہے۔میرے تمام طلبہ اور ان کے اہل خانہ کی تفصیالت بہت پہلے ہی تل عفیف میں یورپی کمیشن کو بھیج دی جاتی ہیں تاکہ ان کو ایریز میں کوگارٹ [کوآرڈینیشن آف گورنمنٹ ایکٹویٹیز ان ٹیریٹریز(فلسطینی علاقے) ] اور آئی ڈی ایف کو دیا جاسکے۔

 

صورت کچھ اس طر ح ہے کہ غزہ سے روانہ ہونے والے تمام طلبہ کے رابطے اسرائیلی آئی ڈی ایف ایریز میں اس وقت تیار کرتی ہے جب طلبہ کے نام اور تفصیلات اس فہرست میں شامل کر دی جاتی ہیں جو یورپی کمیشن کوگارٹ ( اسرائیل کی خارجہ تعلقات اور بین الاقوامی اداروں کی شاخ) کو فراہم کرتا ہے۔ایریز میں آئی ڈی ایف اس فہرست کی بنیاد پر کام کرتی ہے اور انہی طلبہ کے رابطے تیار کرتی ہے جن کانام اس فہرست میں موجود ہو۔لیکن ان تمام طلبہ کو جانے کی اجازت دینے سے پہلے ان کی سیکیورٹی چیکنگ کی جاتی ہے۔ہم نےایگزٹ پرمٹ کے لئے یورپی یونین میں مشترکہ طور پر اس وقت کوشش شروع کی جب اسرائیل کی جانب سے اس قسم کی درخواستوں کو یکسر مسترد کردیا جاتا تھا۔ کافی مشترکی کوششوں کے بعد ہم نے اسرائیلیوں کو کچھ طلبہ کی درخواست پر غور کرنے پر آمادہ کرلیالیکن یہ وہ طلبہ تھے جنہیں اسکالر شپ مل چکی تھی( یعنی وہ اپنے اخراجات پر تعلیم کے لئے نہیں جارہے تھے) اور انہوں نے اس وقت ہم سے مدد کی درخواست کی تھی۔یہی بنیاد تھی جس پر اسرائیلوں نے 26 جون کو دوبارہ غور کرنا منظور کرلیا اور اسی بنیاد پر ہم نے یورپی کمیشن کے ساتھ مل کر 19 طلبہ یا ان کے اہل خانہ (اب تک) کے لئے بر طانیہ کے ایگزٹ پرمٹ حاصل کر لئے۔ ان سب کی میں نے ایریز کراسنگ سے ایلنبی کراسنگ تک پہنچنے میں ذاتی طور پر مدد کی جہاں سے وہ عمان سے بر طانیہ کے لئے ہوائی سفر کر سکے۔

 

غزہ واپس آنے والے طلبہ پر کیا گزرتی ہے ، یہ آخری قسط میں ملاحظہ کیجیئے 

 

                                                                        

Back to newsroom




تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر