چوتھی قسط ۔ طویل تاخیر کی وجہ کا انکشاف (20/10/2008)
ہمیں احمد اور اس کے اہل خانہ ، امریکی سفارتکار اور اس کی بس میں سوارغزائی مسافروں اور نوجوان کھلاڑیوں سے بھری بس کے ساتھ چند گھنٹے اور انتظار کرنا پڑا۔نارویجئین بس کو اردن جانے کی اجازت مل گئی لیکن اردنی حکام نے اسے اسرائیل کی طرف یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ ان کے کاغذات مکمل نہیں ہیں۔ہمیں فیصلے کے لئے چار گھنٹے انتظار کرنا پڑا جس کے دوران شام کے 6 بجے میں نے عمان میں ڈیوٹی افسر اور اپنے ڈپٹی کونسل جنرل جان ایڈورڈز کو مدد کے لئےفون کیا ۔آئی ڈی ایف کا کہنا تھا کہ اردن والے انہیں جانے نہیں دیں گے اور ہمیں اگلے روز دوبارہ آنا پڑے گا۔ہم احمد، اس کی بیوی اور بچوں کو اب غزہ نہیں بھیج سکتے تھے لہذا ایسا لگتا تھا کہ ہمیں اب انہیں کونسلیٹ رہائشگاہ میں ٹھیرانا ہوگا۔
ہم لوگ کسی فیصلے کے انتظار میں چار گھنٹے سے زمین پر گرمی میں بیٹھے بیٹھے اکتا سےگئے تھے اور بسوں میں بیٹھے ہوئے کچھ افراد تو گھبرا کر رونے بھی لگے۔اسرائیلی سرحدی محافظوں نے بسوں میں سوار لوگوں کے لئے پانی کے گلاس فراہم کئے۔
آخر کار ان محافظین نے ہمیں بتایاکہ امریکی بس کو اردن جانے کی اجازت مل گئی ہے اب تو ہم اور نارویجئین بس کے مسافر بے حد مایوس ہوئے۔ یہ اتنی مایوس کن صورتحال تھی کہ میں دعا کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ محافظ جو بچے کے دودھ کے لئے گرم پانی لینے گیا تھا یہ خبر لایا کہ وہ سب اردن میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہم برج پر اس وقت تک کھڑے رہے جب تک کہ وہ سب اردن کی جانب پہنچ نہیں گئے اور امیگریشن مکمل نہیں ہو گیا۔ ہم جب رات کے 11 بجے یروشلم پہنچے تو گرمی اور تاخیر کی وجہ سے ہمارا برا حال تھا۔
تاخیر کی وجہ گول پوسٹ میں تبدیلی اور پھر نئے فلسطینی پاسپورٹوں کا اسرائیلی سسٹم میں اندراج نہ ہونا اور پھر اچانک ایک علحدہ اردنی رابطے کا مطالبہ( جس کا انتظام عمام میں ہمارے سفارتخانے کے قاسم ودیان کرتے ہیں جن کی کارکردگی قابل تحسین ہے)۔ہمیں اس وقت تک ایلینبی پر انتظار بھی کرنا پڑتا ہے جب تک کہ وہ اردن کے علاقے میں داخل نہیں ہو جاتے ۔ایک بار تو ہمیں جرمن ریپریزینٹیٹو آفس کے اہلکار کے ساتھ 5 گھنٹے انتظار کرنا پڑا تب کہیں جاکر اسرائیلیوں نے ہمیں باڑھ عبور کرنے کی اجازت دی۔ ہم طلبہ سے برابر رابطہ رکھتے ہیں اور اکثر وہ ہمیں فون کرکےبتاتے رہتے ہیں کہ اب وہ ٹیکسی میں سوارعمان جارہے ہیں وغیرہ ،یہان تک کہ اسرائیلی محافظ ہم سے آکر کہتے ہیں کہ اب ہم جا سکتے ہیں۔
جب ایک طالب علم کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر روک دیا گیا! اگلی قسط میں ملاحظہ کیجیئے