تیسری قسط ۔ احمد اور اہل خانہ پر کیا گزری (18/10/2008)
بالاخر ہم فلسطینی۔ اسرائیلی جانب ایلنبی برج پہنچے اور انتظار کرنے لگے۔تقریبا دو گھنٹے بعد آئی ڈی ایف کے ایک فوجی نے بتایا کہ بچوں کے نئے فلسطینی پاسپورٹوں کا اسرائیلی نظام میں کوئی اندراج نہیں ہے اور اس سے مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔امریکیوں کو بھی یہی مسئلہ درپیش تھا اور ناروے میں ایک بین الاقوامی فٹ بال میچ کھیلنے جانے والے فلسطینی نوعمر کھلاڑیوں سے بھری بس بھی اسی پریشانی کا شکار تھی۔ لہذا ان سب کے پاسپورٹوں کے اپنے کمپیوٹر سسٹم میں اندراج کے لئے ابھی ایک گھنٹا یا اس سے زیادہ وقت مزیددرکار تھا۔ہم سب کو کار میں ائر کنڈیشن چلتا رکھنا پڑ رہا تھا کونکہ بحیرہ مردار کےکنارے واقع ایلنبری برج کے علاقے میں گرمی ناقابل بر داشت تھی ۔ بچوں کے ساتھ تو یہ اور بھی مشکل تھا لیکن تاخیر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بچے بڑی بر داشت کا مظاہرہ کرر ہے تھے۔ہمارا ڈرائیور کار سے اترا تو ایاد اس کی سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا اور ایسی حرکتیں کرنے لگا جیسے گاڑی چلا رہا ہو ، اسکی یہ حرکت دیکھ کر بڑا مزہ آرہاتھا۔جب میں فون پر آئی ڈی ایف سے بات کر رہی تھی تو وہ مجھے بڑے تجسس سے دیکھ رہا تھا کیونکہ اس سے پہلے اس نے کبھی کسی کو غیر ملکی زبان میں بات کرتے نہیں سنا تھا۔انتظار کے دوران ہم لوگ آپس میں بات کرتے رہے اور رائیف نے مجھے غزہ کے مصائب کے بارے میں بتایا کہ وہاں عوام بھوک سے کس قدر کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
آخر کار ہمیں آئی ڈی ایف کے فوجی نے سب ٹھیک ہے کا اشارہ دیا لیکن یہ بھی کہا کہ ہم اس خاندان کو اسرائیلی۔ اردن کی جانب ایلنبی پہنچا سکتے ہیں جو کہ پہلی بار ہو رہا تھا۔عام طور پر تو ہمیں لوگوں کو پہلی فلسطینی۔اسرائیل کراسنگ پر چھوڑنا پڑتا تھا جہاں سے سڑک کے پار سے بس میں سوار ہو کر اسرائیلی۔ اردن سرحدکی جانب روانہ ہوجاتے تھے۔یہ تو ایک مثال قائم ہو گئی تھی کہ ہم اب طلبہ کو لے کر اسرائیلی۔اردن علاقے تک پہنچ کر اس وقت تک وہاں انتظار کر سکتے تھے جب تک کہ طلبہ بحفاظت سرحد پار اردن میں داخل نہ ہوجائیں۔جب ہم اسرائیلی۔اردن سرحد تک پہنچے تو ایسالگتا تھا کہ سب کچھ ٹھیک جارہا ہے، پاسپورٹ کنٹرول سے جلد گزر گئے اور ان کا سامان اردن جانے والی بس پر رکھ دیا گیا لیکن اب ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔
وہ مسئلہ کیا تھا؟ یہ اگلی قسط میں ملاحظہ کیجیئے