Skip navigation

تیسری قسط ۔ احمد اور اہل خانہ پر کیا گزری (18/10/2008)

  اگلا مرحلہ 29 جولائی کو احمد کے خاندان کو ان کے دو بچوں 18 ماہ کے بیٹے اور دو ماہ کی بیٹی سمیت وہاں سے نکالنا تھا۔اس میں دن کا بہت وقت نکل گیا اور رات 10 بجے یہ خاندان سرحد عبور کرکے اردن میں داخل ہو پایا۔ رائیف احمد کو آکسفورڈ یونی ورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کے لئے جگہ ملی تھی اور آکسفورڈ یونی ورسٹی کے پرسنل ڈپارٹمنٹ نے ہم سے رابطہ کیا تھا کہ ہم رائیف خاندان کو غزہ سے بر طانیہ روانہ ہونے میں مدد دیں۔ایریز سے روانگی میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔وہ جلد نکل آئے اور ہم نے ان امریکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جو دہری شہریت کے حامل افراد اور طلبہ سے بھری ایک بس میں انتظار کر رہے تھے۔ ہم اردنی ویزا کے لئے رام اللہ پہنچے جہاں رائیف اور عائلہ کو رام اللہ کی دکانیں دیکھ کر بڑی حیرت ہو رہی تھی کہ وہ غزہ کی دکانوں کے مقابلے میں بہت بھری پری تھیں۔وہ سفر سے پہلے اپنے 18 ماہ کے بیٹے ایاد کے لئے جوتے خریدنا چاہ رہے تھے لیکن انہیں دکانوں میں کچھ نہیں مل سکا۔

 

بالاخر ہم فلسطینی۔ اسرائیلی جانب ایلنبی برج پہنچے اور انتظار کرنے لگے۔تقریبا دو گھنٹے بعد آئی ڈی ایف کے ایک فوجی نے بتایا کہ بچوں کے نئے فلسطینی پاسپورٹوں کا اسرائیلی نظام میں کوئی اندراج نہیں ہے اور اس سے مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔امریکیوں کو بھی یہی مسئلہ درپیش تھا اور ناروے میں ایک بین الاقوامی فٹ بال میچ کھیلنے جانے والے فلسطینی نوعمر کھلاڑیوں سے بھری بس بھی اسی پریشانی کا شکار تھی۔ لہذا ان سب کے پاسپورٹوں کے اپنے کمپیوٹر سسٹم میں اندراج کے لئے ابھی ایک گھنٹا یا اس سے زیادہ وقت مزیددرکار تھا۔ہم سب کو کار میں ائر کنڈیشن چلتا رکھنا پڑ رہا تھا کونکہ بحیرہ مردار کےکنارے واقع ایلنبری برج کے علاقے میں گرمی ناقابل بر داشت تھی ۔ بچوں کے ساتھ تو یہ اور بھی مشکل تھا لیکن تاخیر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بچے بڑی بر داشت کا مظاہرہ کرر ہے تھے۔ہمارا ڈرائیور کار سے اترا تو ایاد اس کی سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا اور ایسی حرکتیں کرنے لگا جیسے گاڑی چلا رہا ہو ، اسکی یہ حرکت دیکھ کر بڑا مزہ آرہاتھا۔جب میں فون پر آئی ڈی ایف سے بات کر رہی تھی تو وہ مجھے بڑے تجسس سے دیکھ رہا تھا کیونکہ اس سے پہلے اس نے کبھی کسی کو غیر ملکی زبان میں بات کرتے نہیں سنا تھا۔انتظار کے دوران ہم لوگ آپس میں بات کرتے رہے اور رائیف نے مجھے غزہ کے مصائب کے بارے میں بتایا کہ وہاں عوام بھوک سے کس قدر کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔

 

آخر کار ہمیں آئی ڈی ایف کے فوجی نے سب ٹھیک ہے کا اشارہ دیا لیکن یہ بھی کہا کہ ہم اس خاندان کو اسرائیلی۔ اردن کی جانب ایلنبی پہنچا سکتے ہیں جو کہ پہلی بار ہو رہا تھا۔عام طور پر تو ہمیں لوگوں کو پہلی فلسطینی۔اسرائیل کراسنگ پر چھوڑنا پڑتا تھا جہاں سے سڑک کے پار سے بس میں سوار ہو کر اسرائیلی۔ اردن سرحدکی جانب روانہ ہوجاتے تھے۔یہ تو ایک مثال قائم ہو گئی تھی کہ ہم اب طلبہ کو لے کر اسرائیلی۔اردن علاقے تک پہنچ کر اس وقت تک وہاں انتظار کر سکتے تھے جب تک کہ طلبہ بحفاظت سرحد پار اردن میں داخل نہ ہوجائیں۔جب ہم اسرائیلی۔اردن سرحد تک پہنچے تو ایسالگتا تھا کہ سب کچھ ٹھیک جارہا ہے، پاسپورٹ کنٹرول سے جلد گزر گئے اور ان کا سامان اردن جانے والی بس پر رکھ دیا گیا لیکن اب ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔

 

وہ مسئلہ کیا تھا؟ یہ اگلی قسط میں ملاحظہ کیجیئے

 

 

 

Back to newsroom




تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر