پہلی قسط ۔ ایریز سے روانگی (17/10/2008)
جب میں 14 جولائی کو غزہ کے اپنے پہلے طالب علم وسام ابو عجوہ کو لینے ایریز جارہی تھی تو میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ وسام ایریز چوکی پر موجود تھا لیکن فلسطینی حکام نے اس سے کہا تھا کہ اس کے پاس پرمٹ نہیں ہے اس لئے وہ نہیں جا سکے گا۔ میرا دل ڈوب سا گیا۔ ابھی تو مجھے اور بھی تجربہ ہونا تھا کہ غزہ سے تمام طلبہ کو اکھٹا کرنے کے لئے مجھے کتنی جذباتی اتھل پتھل کا سامنا کرنا پڑیگا۔ میں نےفورا اسرائیلی دفاعی فورس(آئی ڈی ایف) کو ٹیلی فون کیا اور انہوں نے یہ مسئلہ حل کردیا، مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے وسام کے پرمٹ کے لئے گراؤنڈ فورس سے رابطہ ہی نہیں کیا تھا۔
شکر ہے کہ یہ کام ہوا اور روزنامہ انڈپنڈنٹ کے رپورٹر ڈان میکنٹائر کے ساتھ ہم وسام سے مل پائے، ڈان نے وسام کی تصویریں لیں جو مسکراتا ہوا اور مطمئن دکھائی دے رہا تھاکیونکہ اس کی پریشانی دور ہو چکی تھی۔
وسام نے ناٹنگھم یونی ورسٹی میں اسکالر شپ کے تحت ستمبر 2007 میں اپنی تعلیم شروع کرنے کا موقع اس وقت گنوادیا تھا جب 18 ستمبر کو اسرائیل نے غزہ کو ایک دشمن علاقہ قرار دے کرسرحد بند کردی تھی۔اس کے بعد سے صرف انسانی بنیاد پر فلسطینی اور ہمارے کونسلر سیکشن کی مدد سے دہری شہریت کے حامل افراد ہی وہاں سے پار جا سکتے تھے۔
وسام اب ناٹنگھم یونی ورسٹی میں ہنسی خوشی تعلیم حاصل کر رہا ہے اور اس نے مجھے ایک خط لکھ کر ہماری مدد کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔
لیکن عبیر ابو وردہ اور ایمن عبدالعزیز شاہین اور وائیل العدایا کے ساتھ کیا گزری یہ اگلی قسط میں ملاحظہ کیجئیے۔