فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ اتوار 16 نومبر سے شروع ہونے والے مشرق وسطی کے دورے میں خطے میں امن عمل کے لئے
بر طانیہ کے وعدے کی دوبارہ یقین دہانی کرائیں گے۔
اسرائیل میں وہ وزیر اعظم ایہود آلمرت اور وزیر خارجہ زپی لیونی، وزیر دفاع ایہود برک اور اپوزیشن لیڈر لیکود پارٹی کے چئیر مین ایم کے بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ وہ یروشلم میں یہو د۔ عرب اسکول بھی جائیں گے جہاں 400 طلبہ کو عبرانی اور عربی دونوں پڑھائی جاتی ہیں۔ خطے کے گزشتہ دورے میں فارن سکریٹری کو لندن میں اہم پارلیمانی کام کے سلسلے میں واپس آنے کی وجہ سے آخری مر حلے پر اسرائیل کا دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی میں وہ فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیر اعظم سلام فیاض سے ملیں گے۔
دورے پر روانہ ہونے سے پہلے فارن سکریٹری نے ایک بیان میں کہا
"اسرائیل کے دورے کے کئی مقاصد ہیں، سب سے اہم اسرائیل کے سیاسی رہنماؤں سے ملاقات ہے جو مختلف سطحوں پر ہوں گی۔میرے نزدیک اسرائیل اور بر طانیہ کے باہمی تعلقات قریبی اور باہمی تعاون پر مبنی ہیں۔
"میں اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے ملاقات میں امن عمل اور ایک قابل عمل دو ریاستی حل کے لئے بھی بر طانیہ کی حمایت کی یقین دہانی کرونگا۔
" غزہ میں حال میں بڑھتے ہوئے تشدد اور جنوبی اسرائیل پر دوبارہ راکٹ حملوں پر مجھے بڑی تشویش ہے۔ غزہ میں انسانی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے، اسرائیل کو لازمی اشیا کی نقل و حرکت جاری رکھنے کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عام فلسطینیوں کے مصائب میں کمی ہو سکے۔
"مجھے اندازہ ہے کہ دو ریاستی حل کتنا بڑا چیلنج ہے، میں اس کے پیمانے یا اس کی وسعت کو کم نہیں کررہا ہوں، یہ اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کے علاوہ پوری عالمی برادری کے لئے مشترکہ ہدف ہے۔ یہ اس چیلنج کا پیمانہ ہی ہے جس کی وجہ سے ہمارا اس میں ملوث ہونا ضروری ہے"۔