Skip navigation

غزہ کے طلبہ کے لئے اسکالر شپ کے حصول میں بر طانیہ کی مدد

 

یرو شلم میں بر طانوی کونسلیٹ جنرل نے 21 طلبہ اور ان کے متعلقین کو غزہ سے نکلنے اور بر طانیہ میں اسکالر شپ کے تحت تعلیم شروع کرنے میں مدد دی ہے۔ان میں وسام ابو عجوہ جو ناٹنگھم یونی ورسٹی میں اینوائرنمینٹل ریسرچ میں ایم اے کرے گا، ورائف احمد جو آکسفورڈ میں کیمسٹری میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ کرے گا اور عمر عتبہ جسے بر طانوی حکومت سے نامور شیوننگ اسکالر شپ ملا ہے، لیڈز یونی ورسٹی میں سائنس منیجمنٹ میں ایم ایس سی کرے گا۔

 

26 جون تک اسرائیلی حکام نے غزہ کے طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کے لئےغزہ کی پٹی سے نکلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بر طانیہ، امریکا اور یورپی یونین کی شدید لابنگ کے بعد اسرائیل اب ان طلبہ کو جنہیں اسکالر شپ ملی ہے ( خود اپنے خرچ پرآنے والے طلبہ کو نہیں) صرف اس صورت میں غزہ کی پٹی سےجانے کی اجازت دے رہا ہے جب وہ اسرائیلی سیکیورٹی چیکنگ میں پاس ہوجائیں اور ان کے متعلقہ سفارتی مشن کے لوگ انہیں ایلنبی کے راستےغزہ سے اردن تک پہنچانے آئیں۔

 

کونسل جنرل رچرڈ میک پیس نے کہا کہ

 

" یہ طلبہ فلسطینی انٹیلیجنشیا کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ وہ بر طانوی یونی ورسٹیوں میں تعلیم حاصل کریں گے۔ ہم ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے کہ ان کی تعلیم مکمل ہو اور وہ اپنی بیش قیمت مہارت اور علم کے ساتھ غزہ لوٹیں تاکہ تمام فلسطینی عوام کو اس کا فائدہ پہنچے".

 

 ان طلبہ کو غزہ سے اردن تک پہنچانے اور عمان سے بر طانیہ کے لئے روانہ کرنے میں کن دشواریوں کا سامنا کر نا پڑا اس کی تفصیل ہم ایک سلسلہ وار مضمون کی شکل میں پیش کررہے ہیں جسے یروشلم میں تعینات برطانوی سفارتکار اینجلا کرامپٹن نے تحریر کیا ہے ۔

فارن سکریٹری اسرائیل اور فلسطین کے دورے پر

فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ اتوار 16 نومبر سے شروع ہونے والے مشرق وسطی کے دورے میں خطے میں امن عمل کے لئے بر طانیہ کے وعدے کی دوبارہ یقین دہانی کرائیں گے

پہلی قسط ۔ ایریز سے روانگی

جب میں 14 جولائی کو غزہ کے اپنے پہلے طالب علم وسام ابو عجوہ کو لینے ایریز جارہی تھی تو میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی

دوسری قسط ۔ تین طلبہ کی مدد

22 جولائی کو میرا دوسرا دورہ ایک بار پھر جذباتی الجھن کا سبب بنا ۔اس بار مجھے تین طلبہ مس عبیر ابو وردہ، ڈاکٹر ایمن عبدالعزیز شاہین اور وائیل الاعدایا کو لے کر آنا تھا

تیسری قسط ۔ احمد اور اہل خانہ پر کیا گزری

اگلا مرحلہ 29 جولائی کو احمد کے خاندان کو ان کے دو بچوں 18 ماہ کے بیٹے اور دو ماہ کی بیٹی سمیت وہاں سے نکالنا تھا۔اس میں دن کا بہت وقت نکل گیا اور رات 10 بجے یہ خاندان سرحد عبور کرکے اردن میں داخل ہو پایا

چوتھی قسط ۔ طویل تاخیر کی وجہ کا انکشاف

ہمیں احمد اور اس کے اہل خانہ ، امریکی سفارتکار اور اس کی بس میں سوارغزائی مسافروں اور نوجوان کھلاڑیوں سے بھری بس کے ساتھ چند گھنٹے اور انتظار کرنا پڑا

پانچویں قسط ۔تمام طلبہ بر طانیہ کے لئے روانہ

اب تک میں نے 19 طلبہ/ طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو غزہ سے بر طانیہ روانہ ہونے میں مدد فراہم کی ہے

آخری قسط ۔ غزہ واپس آنے والے طلبہ کی مدد

واپس آنے والے طلبہ کے معاملات رکن ممالک اور اسرائیلی حکام خود طےکرتے ہیں اس میں یورپی یونین کی کوئی مداخلت نہیں ہوتی



Share this with: