Skip navigation

افغانستان کے استحکام اور پاکستان کی مضبوطی میں برطانیہ کا تحفظ ہے (14/10/2009)

مقام دارالعوام

اسپیکر گورڈن براؤن

تاریخ 14/10/2009

 وزیر اعظم گورڈن براؤن نے 14 اکتوبر کودارالعوام میں ایک بیان دیا ہے جو پاکستان اور افغانستان کے بارے میں ہے۔

انہوں نے افغانستان میں برطانیہ کی موجودگی اور پاکستان میں حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بارے میں کہا

ہمارا مقصد صاف اور واضح ہے، القاعدہ کو ہماری سڑکوں پر مزید حملوں سے اور افغانستان اور پاکستان کی جائز حکومتوں کو دھمکیاں دینے سے روکنا۔لیکن اگر ہم اپنی کارروائی کو صرف القاعدہ کو نشانہ بنانے تک محدود رکھتے ہیں اور افغانستان اور پاکستان کی دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی سے نمٹنے کی اہلیت کی تشکیل نہیں ہوتی تو سلامتی دیرپا نہیں ہو سکتی۔

لہذا گزشتہ دو سال میں ہم نے افغان فوج کی تشکیل اور اس سے تعاون میں اور پاکستان کی سیکیورٹی سروسز کے ساتھ مل کرکام کیا ہے۔ہماری حکمت عملی شورش کے تدارک اورجسے ہم  'افغانائزیش' کہتے ہیں، پرمرکوز رہی ہے۔یہی رہبر مقصد جو اپریل میں ہماری اور نیٹو کی حکمت عملی میں ازسر نو متحرک ہوا ہے آج کے اعلانات کا مرکز ہے۔

سب سے پہلے پاکستان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ہمارے کام کو لیتے ہیں۔ احباب پاکستان(فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان)  کی 24 ستمبر کی نیویارک میٹنگ جس کی صدارت میں نے صدر باراک اوباما اور صدر آصف زرداری کے ساتھ کی تھی، استحکام اور تعمیر نو کے لئے ایک واضح منصوبہ ہے۔ہم نے پاکستانی طالبان کے خلاف سوات، دیر اور بونیر میں پاکستانی حکومت کی حالیہ کامیاب کارروائی کا خیر مقدم کیا۔ اپوزیشن کی حمایت یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا حصہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے لئے بھی اتنا ہی سنگین خطرہ ہے جتنا باقی دنیا کے لئے۔ یہ ضروری ہے کہ جیسے ہی علاقے صاف کرائے جائیں وہاں تحفظ بحال ہوتے ہی بنیادی سہولتیں اور معاشی تعاون فراہم کیا جائے۔لہزا ڈیولپمنٹ سکریٹری آج مزید 10 ملین پاونڈ کی برطانوی امداد کا اعلان کر رہے ہیں جو 22ملین پاونڈ کی اس امداد کے علاوہ ہے جو ہم نے انسانی فلاح کے لئے پہلے ہی دے رکھی ہے۔

دوسرے یہ کہ ہم افغانستان میں اپنی حکمت عملی پرعملدرآمد کے لئے مزید اور تیز تر کارروائی کریں گے وہ حکمت عملی جو افغان فوج اور پولیس کی تربیت، سرپرستی اورساجھے داری سے شروع ہوتی ہے۔  افغان اپنی سلامتی کی جتنی ذمے داری سنبھالیں گے اتنا ہی ہماری اتحادی افواج کی ضرورت طویل مدت میں کم ہوتی جائے گی اور اتنی ہی جلد ہمارے فوجی گھر واپس آسکیں گے۔

حالیہ ہفتوں میں اس بارے میں، میں نے صدر اوباما، ہلیری کلنٹن، نیٹو کے سکریٹری جنرل راموسین، ایڈمرل مولن اور جنرل پیٹرائیس اور جنرل میک کرسٹل کے علاوہ اپنے فوجی کمانڈروں سے یہاں اور افغانستان میں بات چیت کی ہے۔

افغانوں نے اگلے موسم بہار سے ہرماہ 5000 فوجی بھرتی کرنے کا عزم کیا ہے، اسٹراسبرگ میں نیٹو کا نیا مشن 2010 میں 40000 افغان سپاہیوں کو تربیت دےگا اور برطانیہ ایک نیا تربیتی مرکز قائم کر رہا ہے جہاں ہرماہ 900 جونئیر افسر اور نان کمیشنڈ افسروں کو تربیت دی جائے گی۔

پچھلے سال ہلمند میں 4200 افغان فوجی تھے اب ان میں  50 فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔ ہماری درخواست پر افغان حکومت نے آپریشن پینتھرز کلا سے تعاون کے لئےمزید یونٹ بھیجے لیکن جب وہ یونٹ آئے تو وہ مضبوطی میں کم اور مقصد کی تکمیل کے لئے مکمل طور سے تیار نہیں تھے۔۔ ایک ایسے صوبے میں جہاں ملک بھر میں ہونے والے تشدد کا 30 فی صد برپا ہو ہمیں مزید اور بہتر افغان کارکردگی کی ضرورت ہے۔

لہذا میں آج یہ اعلان کرتا ہوں کہ

·         افغان ہلمند میں ایک کور ہیڈ کوارٹر قائم کریں گے

·         برطانوی فوج ان 10000 افغان فوجیوں میں 5000 ہزار برطانوی فوجی شامل کرے گی جو ہلمند میں اتحادی فورسز تربیت دیں گی، وہ صرف افغان یونٹوں کے ساتھ نگران کے طور پر نہیں ہونگے بلکہ کمانڈ سلسلے کے آخر تک ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

مستقبل کی کارروائیوں میں آباد علاقے، افغانوں اور اتحادی فوجوں کی مشترک ذمے داری ہونگے۔

ہم اپنی افواج کو ان وسائل کی فراہمی کے پابند ہیں جن کی انہیں اپنے تحفظ کے لئےضرورت ہو  ۔لیکن ہم آلات اور فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں صحیح فیصلے کرنے کے بھی پابند ہیں جو کہ ہماری وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔

وسطی ہلمند میں مہم کےبدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت ہماری فورسز کی مزید ضرورت ہے اس لئے ہم نے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے جو ہم نے موسم گرما میں کیا تھا کہ ہم ایک برطانوی یونٹ یعنی جنوبی افغانستان کا ایک علاقائی جنگی گروپ فوری طور پر ہلمند میں دوبارہ تعینات کررہے ہیں۔

مزید افغان فوج اور پولیس کی تربیت کے ہمارے منصوبے کی تقویت کے لئے جس کے ساتھ ہماری فورسز کے تحفظ کو بھی برقرار رکھا جارہا ہو، میں نے اصولی طور پر ایک نئے فورس لیول پراتفاق کرلیا ہے بشرطیکہ یہ شرائط پوری کی جائیں۔ ہم فورس کی سطح 9000 سے بڑھاکر 9500 کردیں گے

پہلی یہ کہ نئی افغان حکومت ہماری افواج کے ساتھ لڑنے کے لئے افغان فوجیوں کو تربیت کے لئے آگے لانے کا وعدہ پورا کرے، میں نے کل صدر حامد کرزائی اور ڈاکتر عبداللہ سے بات کی اور انہوں نے یقین دلایا کہ ایسا ہی ہوگا۔

دوسرے یہ کہ پہلے کی طرح ہر فوجی اور ہر یونٹ افغانستان میں تعیناتی سے پہلے کارروائی کے لئے پوری طرح لیس کیا جائےگا۔

تیسرے یہ کہ ہمارا کمٹ منٹ عالمی اتحاد کے ساتھ اتفاق کردہ اندازکار کا حصہ ہو جس میں تمام ممالک اپنا جائز حصہ ادا کریں۔

ایک محفوظ ترافغانستان ایک محفوظ تربرطانیہ ہے۔

ایک مضبوط تر پاکستان ایک محفوظ تر برطانیہ ہے"۔

 

 

 

Back to newsroom




تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر