پاکستان میں ماؤں اور نومولودبچوں کے لئے برطانیہ کا نیا امدادی فنڈ (31/10/2009)
برطانیہ اور آسٹریلیا نے3۔18 ملین پاؤنڈ کا ایک نیا ریسرچ اور ایڈووکیسی فنڈ قائم کیا ہے جوپاکستان بھر میں ماؤں اور بچوں کی زندگی میں بہتری لانے کے لئے ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا فنڈ ہوگا۔
ہرسال پاکستان میں 15000 عورتیں حمل اور ولادت کی پیچیدگیوں سے موت کے گھاٹ اتر جاتی ہیں۔60 فی صد زچگیاں کسی ہنرمند ماہر کی مدد کے بغیر ہوتی ہیں۔
نیا انی شئیٹو ان تنظیموں اور افراد کو گرانٹ دے گا جو ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو پاکستان میں ماں اور نوزائیدہ بچے کی صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات تک رسائی اور اس کے معیارکی بہتری کو یقینی بنا سکیں۔
برطانیہ کا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی - ڈیفڈ اور آسٹریلوی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی نے نئے فنڈ کو 500،000پاؤنڈ کی چھوٹی اور بڑی گرانٹس کے مجموعے کے طور پر قائم کیا ہے۔ اس کے لئے عوامی اداروں، شہری معاشرے کی تنظیموں ، تحقیقی اور علمی اداروں، نجی مشاورتی فرموں اور قومی اور بین الاقوامی کنسورشیم سے تجاویز کا خیر مقدم کیا جائیگا۔اس پانچ سالہ منصوبے کو پاکستان کی ایجنسیوں اور برطانیہ کی برٹش کونسل کا ایک کنسورشیم سر انجام دے گا۔
وزیر ترقیات مائیک فوسٹر نے اس بارے میں کہا
" پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں ماؤں کی اموات کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور ہر دس میں سے ایک بچہ پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے موت کا شکار ہو جاتا ہے۔اسی لئے ڈیفڈ نے ملک کی ماؤں اور بچوں کی صحت بہتر بنانے کا عزم کر رکھا ہے۔ ہم پہلے ہی حکومت کے ماں اور نوزائیدہ بچوں کے صحت پروگرام کو 69 ملین پاؤنڈ فراہم کرتے ہیں۔لیکن یہ نیا منصوبہ ایک اور اہم قدم ہے جو پالیسی اور عمل کی سطح پر سہولیات کی فراہمی میں تبدیلیوں میں تیزی لائےگا۔
تحقیق کی قدر وقیمت اس پر منحصر ہے کہ پالیسی ساز اسے کیسےاستعمال کرتے ہیں۔ان کے پاس ملک بھر میں عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کا اختیار ہے۔ ان افراد کو اپنے کنبے کے لئےطبی سہولیات کے مطالبے کے لئے آواز بلند کرنے کا حق دیا جانا لازمی ہے تاکہ پاکستان میں ماؤں اور بچوں کی زندگی بچائی جاسکے اور اس میں بہتری لائی جاسکے"۔











