وزارت خارجہ کی ٹیم کے لئے ایوارڈ (30/10/2009)
اسلام آباد میں ہمارے کونسلر اسسٹنس یونٹ نے تیسرے سول سروس ایکوالٹی اینڈ ڈائیورسٹی ایوارڈ کے موقع پر ایوارڈ برائے اختراع حاصل کیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں 27 اکتوبر کو سٹی ہال لندن میں ایک تقریب میں دیا گیا۔
برطانیہ بھر سے سول سرونٹس کو تنوع کی حوصلہ افزائی اور معاشرے کے بعض کمزور ترین افراد کی مدد کے لئے خود کو وقف کرنے پر اعزازات دئیے گئے۔
کم از کم ہر ہفتے ایک بار اس یونٹ کے اراکین پاکستان کے دیہاتوں میں جاکر نوجوان برطانوی مردوں اور لڑکیوں کو جبری شادی کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں۔یہ کام پیچیدہ اور مشکل ہے، اس میں مقامی پولیس اور کنبوں سے گھنٹوں بات چیت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے لئےصبر، مستقل مزاجی اور کافی ثقافتی حساسیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
البتہ اس کا نتیجہ زندگی بدل دیتا ہے، ہر سال ٹیم 100 سے زیادہ جبری شادیاں روک لیتی ہے اور 50 سے زائد برطانوی شہریوں کو بحفاظت برطانیہ واپس پہنچایا جاتا ہے۔ جن کی مدد ہو پاتی ہے وہ برطانوی معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور افراد ہیں جو مکمل طور سے تنہا اور اکثر تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ یونٹ ان کی راہ نجات ہے۔۔
1999 تک وزارت خارجہ کی پالیسی یہ تھی کہ ہم ان افراد کی مدد نہیں کر سکیں گے کیونکہ یہ برطانوی شہری اپنی دوسری شہریت کے ملک میں ہیں۔لیکن پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ بیوروکریسی سے ہٹ کر ہم انسانی حقوق اور مساوات کی بنیاد پر کام کریں گے۔اگر کسی کو حکومت سے مدد کی ضرورت تھی تو وہ یہی افراد تھے۔لہذا ایک غیر روایتی پبلک سروس کا دلچسپ تجربہ شروع ہوا ۔اب ہم سرگرمی سے اس استحصال کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، دیہاتوں میں جاکر براہ راست متاثرہ نوجوان مردوں یا عورتوں سے بات کرتے ہیں۔ اگر وہ ناخوش ہیں تو ہم ان کی وہاں سے نکلنے میں مدد کرتے ہیں اور انہیں ایک مقامی محفوظ جگہ تک پہنچاتے ہیں۔
اس کے بعد ہم انہیں برطانیہ واپسی میں مدد دیتے ہیں جہاں ہمارا وزارت خارجہ میں موجودجبری شادی یونٹ ان کی مدد کرتا ہے۔ اس یونٹ میں ہوم آفس اور وزارت خارجہ کا عملہ پناہ گاہوں اور این جی اوز کے ساتھ مل کر تعاون اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اس کام کو حال میں بی بی سی کی ڈاکومینٹری "فورسڈ ٹو میری" میں نمایاں طور سے دکھایا گیا ہے جس میں یونٹ کے چھ ہفتے کے کام کو دکھایا گیا ہے ۔ خاص طور پر ہمارے پاکستانی عملے کے مرکزی کردار کو نمایاں کیا گیا ہے جس کی مقامی معلومات اور تجربے کے بغیر ہم یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔ یونٹ کے سربرہ بھی اب ایک پاکستانی البرٹ ڈیوڈ ہیں جن کی ثقافتی حساسیت بچاؤکی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ ایوارڈ ملنے پر البرٹ نے کہا
" مجھے یہ ایوارڈ ملنے پر بہت خوشی ہےکیونکہ اس سے جبری شادی سے متعلق کام کی اہمیت کو، مختلف ٹیموں کے درمیان تعاون کو اور اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ جب ہم روایتی طریقوں سے کام نہ سکیں تو نئے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی"۔
کونسلر سروسز ڈائریکٹر جولئین بریتھوائٹ کا کہناہے
" اسلام آباد ٹیم اور بیرون ملک برطانوی شہریوں کی مدد کے کام کے لئے یہ واقعی ایک کامیابی ہے۔ میں نے پاکستان کے دورے میں ذاتی طور پر دیکھا کہ کمزور نوجوان افراد کے لئے ہماری مدد کتنی متاثر کن ہوتی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ ٹیم کے تنوع اور اختراع کو سراہا گیا ہے اور مجھے ان کی کامیابی پر فخر ہے۔وہ برطانوی سول سروس کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں"۔
روایتی طریقہ کار
یہ یونٹ صرف جبری شادیوں کے کیس میں ہی مدد نہیں کرتا۔اس کے دوسرے کاموں میں برطانوی اور پاکستانی دہری شہریت کے حامل افراد کے لئے سزائے موت کے خلاف لابنگ کرنا، دہشت گردی کے بڑے واقعات کا شکار ہوجانے والے برطانوی شہریوں کی اعانت اور بچوں کے اغوا کے جذباتی اور پیچیدہ واقعات پر کام کرنا شامل ہے۔











