Skip navigation

افغان انتخابات کے اگلے راؤنڈکا قابل اعتمادہونا ممکن ہے (22/10/2009)

 فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے بی بی سی ریڈیو 4 پر افغانستان میں دوبارہ انتخابات کے فیصلے پر ایک انٹرویو دیا۔

جیمز ناٹی انٹرویو کنندہ

کیا آپ کے خیال میں اگلے دو تین ہفتے میں افغانستان میں ایسے انتخابات ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے جو معتبر ہوں؟

ڈیوڈ ملی بینڈ

 ہاں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ممکن ہے کہ انتخابات معتبر ہوں اور اس کے ذریعے افغان عوام کی جائز امنگوں کا اظہار ہو۔بان کی مون نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ میرے خیال میں اہم ہیں اور زیادہ ووٹ لینے والے دونوں امیدوار صدر حامد کرزائی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا یہ تسلیم کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے کہ بڑے پیمانے پر دھاندلی کی کوشش کی گئی تھی جسے خودمختار الیکٹورل کمپلینٹس کمیشن نے خاصی حد تک روکا، میرے خیال میں ایک اور پہلو کلیدی اہمیت کا حامل ہے کہ افغانستان میں نہ صرف ایک معتبر حکومت، ایک جائز حکومت آئے بلکہ یہ حکومت ایک مربوط پروگرام رکھتی ہو، ملک کے مستقبل کے لئے ایک متفقہ پروگرام رکھتی ہو اور ہمیں یہی یقینی بنانا ہے کہ 7 نومبر کے انتخابات سے پہلے اور اس کے دوران یہی صورت نکلے۔

انٹرویو کنندہ

آپ کا کہنا ہے کہ صدر حامد کرزائی نے گزشتہ انتخابات کے نقص کو تسلیم کیا ہے لیکن وہ اس طرف بڑی زبردستی لائے گئے۔ اس بات کی کوئی شہادت نہیں ہے کہ ان کےاس موقف میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں انہیں ہی صدر رہنا چاہئیے تھا۔ ہم کیسے یہ یقین کرلیں کہ جنہوں نے پچھلے انتخابات میں ان کے لئے دھاندلی کی جسے نیویارک میں ، واشنگٹن اور لندن میں تسلیم کیا گیا وہ دوبارا ایسا نہیں کریں گے؟

ڈیوڈ ملی بینڈ

ہم نے خودمختار الیکٹورل کمپلینٹس کمیشن بنایا ہے، جو بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کی حمایت سے کام کر رہا ہے تاکہ دھاندلی کو ہر سطح پر روکا جاسکے۔ صدر کرزائی کو  2004میں 54 فی صد ووٹ ملے تھے، انتخابات میں ہر امیدوار پہلے راؤنڈ میں جیتنا چاہتا ہے۔جیسا کہ صدر کرزائی کو ڈاکٹر عبداللہ سے زیادہ ووٹ ملے لیکن ڈاکٹر عبداللہ کی کارکردگی بڑی نمایاں رہی جو 2004  میں نمبر دو امیدوار کے مقابلے میں بہت بہتر تھی۔ اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ یہ کہہ سکیں کہ اگلا راؤنڈ معتبر ہوگا اور ایک ایسی حکومت آئے گی جو افغان عوام کی امنگوں کی ترجمان ہوگی۔ افغان عوام کی اپنی حکومت سے وفاداری ترقی کی کنجی ہے۔

انٹرویو کنندہ

ہم ایسے انتخابات کے بارے میں بات کرہے ہیں جو نومبر میں ہونگے، افغانستان میں برف باری شروع ہو گئی ہے ۔ کئی علاقوں میں لوگوں کے لئے ووٹ ڈالنا مشکل ہو جائےگا۔ پھر سیکیورٹی کے مسائل اپنی جگہ ہیں۔ اگر ٹرن آوٹ کم رہا جیسے کہ کچھ لوگ 20 فی صد کی توقع کر رہے ہیں تو کیا یہ حکومت قائم کرنے کے لئے معتبر مینڈیٹ ہوگا؟

ڈیوڈ ملی بینڈ

آپ نے مشکلات کی سنگینی اور سیکیورٹی کے مسائل کا صحیح ذکر کیا۔ پہلے راؤنڈ کے نتائج آنے میں ہی اتنا عرصہ لگ گیا۔میں غیر منطقی ٹارگٹ کی بات نہیں کرتا کیونکہ مختلف علاقوں میں ووٹنگ کا تناسب بہت مختلف تھا۔یہ پہلے انتخابات تھے جو افغان قیادت میں ہوئے، کچھ علاقوں میں 50 فی صد پولنگ ہوئی کچھ میں اس سے بھی کم۔۔مجموعی ٹرن آوٹ کے بارے میں بھی اختلاف ہے، شاید 25 سے 30 فی صد تھا۔ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمیں افغان عوام کو انتخابات میں شرکت کےزیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرنے ہیں ار یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کے ذریعے اپنی امنگوں کا اظہار کریں جو ملک کے مفاد میں ہوگا۔یہ بات بڑی اہم ہے کہ 2004 کے انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کو 17 فی صد ووٹ ملے تھے اور اس بار ڈاکٹر عبداللہ کو 30 فی صد سے کچھ اوپر ملے۔اس سے ایک مسابقتی انتخابات کا اشارہ ملتا ہے

انٹرویو کنندہ

کیا ضروری ہے کہ انتخابات ہوں؟عبوری طور پر صدر کرزائی،ڈاکٹر عبداللہ اور دوسرے مل کر قومی اتحاد پر مبنی حکومت بنالیں تو کیا یہ واشنگٹن اور لندن کو قابل قبول ہوگا؟

ڈیوڈ ملی بینڈ

ہمیں افغان طریقہ کار کا احترام کرنا ہے۔کل دونوں امیدواروں نے مخلوط حکومت کی مخالفت کی ہے، اس سے ان کی مراد ایسی حکومت تھی جس کے وزرا اور گورنر پاور بروکنگ کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں ۔ البتہ میں اتفاق رائے کے پروگرام کی بات کرتا ہوں، ایسا پروگرام جس میں افغان کی بڑی اکثریت کو شفاف تقرریاں، مقامی حکومتوں اور گورننس کا کمٹ منٹ، افغان قومی سیکیورٹی فورسز کی بہتری کا عزم ، شورش پر قابو پانے کا عزم، افغان حکومت کا طالبان پیدل سپاہیوں اور کمانڈروں سے بات چیت کا عزم تاکہ ان سے یہ کہا جائے کہ اگر تم آئین کے اندر رہنا چاہتے ہو  تو افغانستان کی سیاست میں تمہارے لئے جگہ ہے، یہ پروگرام اگر ہو تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ انتخابات صحیح نتائج پیدا کریں گے۔

انٹرویو کنندہ

لوگ افغانستان میں عزائم کے بارے میں بہت باتیں کر رہے ہیں کہ شاید وہ 2003 کے بعد سے تبدیل ہو چکے ہیں جب فوجیں وہاں گئی تھیں۔کیا یہ صحیح نہیں کہ اب مقصد اس سے بہت معتدل ہوگیا ہے جو کئی سال پہلے ہم سب کے سامنے بڑے زور شور سے پیش کیا گیا تھا؟

ڈیوڈ ملی بینڈ

افغانستان میں فوجی کوشش کی بنیاد بہت سادہ تھی جو یہ ہے کہ 1990 کی دہائی میں اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں وہ عالمی دہشت گردی کے لئے ایک منتخب مقام تھا جس سے 11/9 کے المناک واقعات پیش آئے۔لہذا افغانستان میں ہمارے فوجی مشن کا مقصد یہ  نہیں ہے کہ وہ دنیا کا پانچواں غریب ترین ملک ہے، کہ وہاں ایک جدید جمہوریت نہیں پائی جاتی،یہ کہ وہ نہ صرف پاکستان کے علاقائی استحکام کے لئے خطرہ ہے جہاں ہمارے بہت مفادات ہیں، بلکہ وہ مغربی دنیا میں ہماری اپنی سلامتی کے لئے براہ راست ایک خطرہ ہے۔لہذا وہ بنیادی مقصد سیکیورٹی سے متعلق تھا اور وہ اب بھی ہے۔البتہ اس مقصد کی تکمیل کے لئے ہمیں صرف فوجی اور سویلین سطح پرعالمی سعی کی ہی ضرورت نہیں، ہم افغانستان کو نو آبادی بنانے کی ہرگزکوشش نہیں کر رہے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہاں ایسی افغان گورننس ہو جو خود اپنے عوام کی نظر میں قابل اعتماد ہو ، ہم چاہتے ہیں کہ افغان سیکیورٹی فورسز اپنے ملک کے دفاع کی خود اہل ہوں، ہم ایسا سیاسی نظام چاہتے ہیں جو شورش کو منتشر کر کے ان افراد کو آئین کی حدود میں لے آئے، اور آخری یہ کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس کے اپنے پڑوسیوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات ہوں، جس میں پاکستان ایک غیر جانبدار ملک ہو اور فریق نہ ہو۔

 

Back to newsroom




تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر