ایڈوانس تلاش
image
نیوزروم
   
Last updated at 13:48 (UK time) 30 Jan 2012

پاکستان مجھے اپنا گھر لگتا ہے

پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن میں سیاسی کونسلر کی حیثیت سے تقرری کے بعد پہلے ہفتوں میں سوسن ہائی لینڈ کے تاثرات۔

چھ ہفتے پہلے اسلام آباد ائر پورٹ پر پہلی بار آمد پر میرے ایک ساتھی مجھے لینے آئے۔ اس بلاگ کے دم تحریر میں پھر بےنظیر ائرپورٹ پر ہوں اور ایک نئے ساتھی کی آمد کی منتظر ہوں۔ میں اس پر ہجوم ' آمد' ہال میں بیٹھے ہوئے میں سوچ رہی ہوں کہ کس طرح پاکستان  پہلے چند ہفتوں میں مجھے اپنا گھر لگنے لگا ہے۔ لوگ بڑے دوست اور خیر مقدمی ہیں۔ اور سیاسی کونسلر کی حیثیت میں پاکستان کے ساتھ عالمی مسائل پر کام کرنے اور برطانویوں کو پاکستانی سیاست کے بارے میں بتانے کا فریضہ سب سے بہترین کام لگتا ہے۔ پاکستانی سیاست پر بات کرتے نہیں تھکتے اور نہ ہی میں اکتاتی ہوں۔ تو پھر سونے کے لئے میں وقت کہاں سے لاؤں؟

ہم وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، وزیر خارجہ حنا ربانی کھراور وزیر خزانہ حفیظ شیخ سے اسلام آباد میں ملے۔ بیرونس سعیدہ وارثی نے انتخابی کمیشن کا دورہ کیا تاکہ ووٹر فہرست کی درستی اور حدبندی کے مسائل کےبارے میں جان سکیں۔ لارڈ گرین نے یہاں برطانوی سرمایہ کاری کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے غیرملکی صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے سرمایہ کاری کے حقیقی مواقع دیکھے ہیں اور خطرات بھی دوسری ابھرتی ہوئی مارکیٹوں سے زیادہ نہیں ہیں۔

میں برطانیہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی گہرائی اورچند مشابہتوں کو دیکھ کر حیران ہوئی۔ کار میں بیرونس سعیدہ وارثی کے ساتھ واپسی پر برطانیہ کی سیاست پر تازہ ترین تبصرے سننے کو ملے۔ہماری معیشت کو بھی ایک موڑ لینا ہے اور اہم انتخابات بھی درپیش ہیں[ مقامی، اور لندن کے مئیر کابھی]۔

چھ ہفتے میں میں نے بہت کچھ جان لیا ہے اور کئی دلچسپ لوگوں سے ملی ہوں۔ میں ان دنوں پاکستانی ناول دریافت کررہی ہوں اوراپنا گھر سجانے کے لئے خوبصورت پاکستانی ظروف اور کپڑے خرید رہی ہوں۔لیکن میں ابھی اسلام آباد سے باہر نہیں نکلی اوراسی لئے میں لاہور، کراچی اور پشاور جانے کی منتظرہوں۔ لوگ مجھے یقین دلاتے ہیں کہ پاکستانی سیاست کی نزاکتوں کو سمجھنے کے لئے عمر درکار ہے لیکن میری ایک سوچ پہلے ہی بن چکی ہے۔ شاید اسی لئے پاکستان مجھے اپنے گھر جیسا لگنے لگا ہے۔