1 ۔ برطانیہ ایران کے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال یا جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے حق کو تسلیم نہیں کرتا۔
غلط ۔ ہم نے کبھی ایران کے پر امن جوہری پروگرام پر عملدرآمد کے حق سے انکار نہیں کیا۔لیکن اس حق کے ساتھ ایک ذمے داری آتی ہے ، اس کے علاوہ ایران کو عالمی برادری کے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ہتھیار سازی کی ممکنہ سرگرمیوں کے باب میں ایران کی مسلسل خاموشی اور اس کے ساتھ افزودگی کے خفیہ مقامات اور جارحانہ بیانات اس کے عزائم کے بارے میں اعتماد کی بحالی میں کوئی کردار ادا نہیں کرتےبلکہ اس کے پروگرام کے متعلق ہمارے خدشات میں اضافہ کرتے ہیں۔
2006ء میں برطانیہ کی کوششوں سے فراخدلانہ پیشکشوں کا ایک پیکیج تیار ہوا جس میں ایک پرامن جوہری پروگرام میں مدد اورسائنسی و اقتصادی تعاون کی پیشکش بھی شامل تھی۔یہ پیش کشیں اب بھی موجود ہیں اور عالمی برادری کے ساتھ ایران کا تعاون ہی اس کے لئے ٹیکنالوجی میں پیش رفت، نئی مہارتوں کے استعمال اور خوشحالی سے لطف اندوز ہونے کا بہترین راستہ ہے۔
2۔ برطانیہ نے اسرائیل کے جوہری پروگرام کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں
غلط ۔ برطانیہ ایک ایسے مشرق وسطی کے تصور کی مکمل حمایت کرتا ہے جو جوہری اسلحے سے بالکل پاک ہو۔ برطانیہ باقاعدگی سے اسرائیل پر این پی ٹی پر دستخط کرنے کی اہمیت کےلئے زور ڈالتا ہے لیکن ان کوششوں کو اسرائیل کے یہ خدشات کامیاب نہیں ہونے دیتے کہ اس کی مخالف علاقائی قوتیں اسی قسم کے اپنے پروگرام بنا رہی ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جوہری اسلحے کے پھیلاؤکے دیگر خدشات کو نظر انداز کر دیں۔اگر ایران جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی حاصل کر لیتا ہے تو اس کا بہت امکان ہے کہ خطے میں دوسرے ملک اس کی تقلید کریں گے اور مشرق وسطی کئی جوہری ہتھیاروں کی حامل کئی ریاستوں کی موجودگی میں بے حد عدم استحکام، توانائی کے عدم تحفظ کا شکار ہوجائے گا اور اس سے مشرق وسطی امن عمل کو شدید نقصان پہنچے گا۔
3۔ مغرب واقعی صرف حکومت کی تبدیلی میں دلچسپی رکھتا ہے
یہ حکومت کی تبدیلی کی بات نہیں ہے، ہم جوہری پروگرام کے بارے میں ایرانی رویے میں تبدیلی کے منتظر ہیں۔ان کے رویے میں تبدیلی سے عالمی برادری میں ایران کی تنہائی ختم ہونے کا امکان ہے اور اس سے اس کے عوام کو بے حد فائدہ پہنچے گا۔
4 ایران کتنی بھی رعایتیں دے، عالمی برادری اس پر سختیاں کم نہیں کرے گی
غلط ۔ ایران کو جو شرائط پوری کرنا ہیں وہ 100 فی صد واضح ہیں۔( یورینیم کی افزودگی کو روکنا، اب تک تشنہ سوالوں کے جواب دینا، این پی ٹی کے اضافی پروٹوکول کی پابندی کرنا) یہ وہ فوائد ہیں جو ایران کو تعاون کی صورت میں ملیں گے( پیش کشوں کا ایک وسیع پیکیج جس میں پر امن جوہری پروگرام کے لئے مکمل سیاسی اور ٹیکنالوجیکل تعاون شامل ہے)۔ سلامتی کونسل نے واضح کردیا ہے کہ ایران کے خلاف تمام اقدامات متناسب اور قابل واپسی ہیں۔
5۔ ایران نے این پی ٹی کی خلاف ورزی نہیں کی ہے
ایران نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اٹھارہ سال سے ایک خفیہ پروگرام پر عمل کر رہا تھا اور اس طرح وہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ اور جیسا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر کی رہورٹ تھی کہ اس نے ناجائز بین الاقوامی نیٹ ورک سے دوہرے استعمال کا مواد بھی حاصل کر لیا تھا۔ گزشتہ برس قم میں افزودگی کے خفیہ مرکز کے انکشاف نے ایران کے پروگرام پر بد اعتمادی میں اضافہ کردیا ہے اور نومبر میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی بورڈ نے غالب اکثریت سے ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دئیے جو اقوام متحدہ کی مقاومت میں ایران کی عدم شفافیت اور مسلسل افزودگی کی مذمت کے بارے میں تھی۔
شفافیت کے بارے میں اپنی ذمے داری کی تکمیل میں ایران کی ناکامی اور ایک ممکنہ عسکری پروگرام کے بارے میں پھیلے ہوئے خدشات کو دور کرنے کے لئے اعتماد کی بحالی کے اقدامات سے عدم دلچسپی این پی ٹی کی روح کی واضح طور پر نفی کرتے ہیں۔
6 ۔ایران کو افزودہ یورینیم کی ضرورت ہے اور یہ اس کا حق ہے؟
ایران کو جوہری قوت سے مستفید ہونے کا حق ہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر دئیے گئے نکتے سے واضح ہوتا ہے ایران پر این پی ٹی پر[ ایک غیر جوہری ریاست کی صورت میں] رضاکارانہ دستخط کرنے والے ملک کی حیثیت سے ذمے داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری نہ کرے۔
ایران یہ وضاحت کرنے میں ناکم رہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے لئے عجلت کیوں کر رہا ہے جبکہ اس کے پاس جوہری اسٹیشن نہیں ہیں جہاں وہ ایرانی جوہری ایندھن استعمال کر سکے اور ان کی تعمیر میں اسے کئی سال لگ جائیں گے ، خاص طور پر اس صورت میں کہ اسے بین الاقوامی شراکت داروں کو تعاون بھی حاصل نہ ہو(ایران میں روس کا بنایا ہواجوہری پلانٹ اس سال کام شروع کردےگا اور اسے ایندھن روس فراہم کرے گا)
7۔ برطانیہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کی تیاری کررہا ہے۔
غلط ۔ برطانوی حکومت نے باربار یہ واضح کیا ہے کہ وہ سفارتی حل کے لئے پوری طرح کوشاں ہے جو اس کے خیال میں ضروری نتائج برآمد کر سکتا ہے۔
8- اس مسئلے کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ذریعے حل کیا جانا چاہئیے نہ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے
برطانیہ اس مسئلے کے باب میں تشنہ سوالات کے جوابات کے لئے امانو کی مسلسل کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی کوششیں جاری رہیں گی۔البتہ ایک راستہ دوسرے راستے کی نفی نہیں کرتا۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی قراردادوں پر عمل سے ایران کے مسلسل انکار پر معاملے کی رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کی گئی تاکہ وہ ایجنسی کی اتھارٹی پر زور دےاور ایرانی حکومت پر مزید دباو ڈالے۔
9۔ یعنی یہ امریکا اور اس کے اتحادیوں اور ایران کے درمیان طویل مدت سے جاری تنازع کا ایک اور راونڈ ہے
ایرانی پروگرام کے بارے میں خطے کے ممالک میں اپنی سلامتی، ماحولیاتی اور سیاسی اثرات کے باب میں خدشات اور اس حساس خطے کے عدم استحکام اور جوہری اسلحے کی دوڑ کے خطرات مغربی ملکوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
روس، چین اور کئی دوسرے ملک ایران کے جوہری پروگرام کے باب میں مکالمے اور دباو کی دوہرے ٹریک کی حکمت عملی کے بارے میں بالکل واضح ہیں۔ برطانیہ نے ہمیشہ ایران سے اچھے تعلقات کی کوشش کی ہے، ایران میں ہمارا ایک متحرک سفارتخانہ ہے اور ہم نے کبھی ایران سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع نہیں کئے۔
10۔مغرب ایک اسلامی ملک کو اس قسم کی اہلیت حاصل کرتے نہیں دیکھ سکتا۔ جبکہ مغربی ممالک اور ان کے اتحادیوں کے پاس جوہری اسلحے کے انبار ہیں
مذہب سے اس کا تعلق جوڑنا مضحکہ خیز بات ہے۔کوئی یہ دعوی نہیں کر رہا کہ جوہری ہتھیاروں کے انبار پسندیدہ امر ہے۔این پی ٹی جوہری قوتوں کو بتدریج تخفیف اسلحہ کی پابند بناتی ہے۔
برطانیہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاستوں میں سب سے پہلا ہے جس نے اپنے اسلحے کے ذخیرے میں کمی کی ہے اور سرد جنگ کے خاتمے سے لے کر اب تک جوہری اسلحے کی دھماکا خیز قوت میں 75 فی صد کمی کی ہے۔ اگر این پی ٹی معاہدے کے ایران پرتحت عائد ہونے والی ذمے داریوں سے آنکھ بند کر لی جائے تو مستقبل میں جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات سنگین طور پر کمزور ہو جائیں گے اور سرکش ممالک اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے لئے اس قسم کے بے حد تباہ کن ہتھیاروں کا حصول آسان ہو جائے گا۔