برطانیہ کے سکریٹری برائے کاروبار و اختراعات اور مہارتیں، ونس کیبل کی ممبئی میں تقریر
" برطانوی حکومت کی بھارت پر مسلسل توجہ اس اہمیت کو واضح کرتی ہے جو وہ ہمارے دو طرفہ تعلقات کو دیتی ہے۔یہ تعلقات سیکیورٹی، دہشت گردی کی روک تھام، دفاعی امور سے لے کر کاروبار اور تجارت، ترقیات، تعلیم، سائنس اور تحقیقات اور سماجی، ثقافتی اور تاریخی میدان میں ہیں۔
ہمارے کاروباری رشتے پہلے ہی مستحکم ہیں لیکن یہ مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔ دو طرفہ تجارت 5۔11بلین پاونڈ کی ہے، بھارت کی یورپی یونین کے لئے برآمدات کا 17 فی صد برطانیہ آتا ہے۔تقریبا700 بھارتی کمپنیاں برطانیہ میں سرمایہ کاری کررہی ہیں اور برطانیہ بھارت کی یورپ میں سرمایہ کاری کا 50 فی صد حاصل کرتا ہے۔
یہ بات اب عام ہوچکی ہے کہ بھارت دنیا بھر میں تیز رفتار ترین معیشتوں میں سے ایک ہے جس میں صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں یہ پیش گوئی ہو چکی ہے کہ بھارت کی معیشت میں اگلے پانچ سال میں 4۔8 فی صد سالانہ کی رفتار سے ترقی ہوگی۔
اب یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ اگر بھارت نے چند رکاوٹیں دور کر لیں تو وہ چیں سے آگے نکل جائے گا۔ یہ رکاوٹیں بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور کارپوریٹ گورننس کے شعبے میں ہیں۔
آج میں آپ سے تین اہم امور پر بات کرونگا: گلوبل میکرو اکنامک بیک ڈراپ، بھارت میں موجود برطانوی اور بھارتی کمپنیوں کے لئے کاروباری اور تجارتی مواقع اور برطانیہ میں بھارتی کمپنیوں کے لئے امکانات۔
عالمی معاشی بحران کا ایک نمایاں نتیجہ یہ ہے کہ اس سے عالمی معیشت کا مرکز ثقل ڈرامائی طور پر اس خطے میں منتقل ہو گیا ہے جسے ہم ابھرتی ہوئی مارکیٹین کہتے ہیں یعنی چین، اور بھارت بلکہ برازیل، روس اور انڈونیشیا اور دیگر۔ترقی یافتہ ممالک وہ بھی جو اب بحالی کے مرحلے میں ہیں، 2010 ء میں 3 فی صد سالانہ شرح ترقی حاصل کر سکے۔جبکہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی مجموعی شرح 7 فی صد تھی۔ یہ تعجب خیز بات نہیں ہے کہ ترقی پزیر ممالک نچلی سطح سے اوپر آرہے ہیں اور یہ خوش آءند بات ہے کہ لاکھوں افراد چین، بھارت اور دیگر ملکوں میں غربت کی سطح سے اوپر آرہے ہیں اور ترقی کے لئے داخلی مارکیٹ فراہم کر رہے ہیں۔
عالمی معیشت میں قوت خرید کی یہ نئی تقسیم کا مطلب ہے کہ روایتی کاروباری تعلقات کو دوبارہ متوازن کرنا ہوگا۔ برطانیہ چین ، بھارت اور جاپان کی مجموعی برآمدات سے زیادہ آئر لینڈ کو برآمدات کرتا رہا ہے۔۔یہ تعلقات، یورپی یونین اور امریکا سے تعلقات مستحکم رہیں گے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ہمیں عالمی ترقی کے نئےمراکز سے گہرے تعلقات استوار کرنا ہیں۔بھارت سے تجارتی تعلقات کی سطح کو بلند کرنا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں بھارت سے اور بھارت کے اندر کاروبار کے لئے چھوٹی اور بڑی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔
یہ مفاد مشترکہ ہے اسی لئے وہ رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہے جو تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل ہیں۔
اب میں دوسرے موضوع کی طرف آتا ہوں۔ برطانوی کمپنیوں کے لئے بھارت میں مواقع اوربھارتی کمپنیوں کے لئے برطانوی کمپنیوں سے شراکت کے مواقع۔
برطانیہ بدستور بڑی عالمی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کا چھٹا بڑا مینوفیکچرر ہےاور ہم ترقی یافتہ ترین مینوفیکچرنگ، کم کاربن ٹیکنالوجی، تعلیم،انفرا سٹرکچر، مالیاتی شعبہ، تخلیقی صنعت اور کئی دوسرے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔
انفراسٹرکچر میں مثال کے طور پر، بھارت اپنی سڑکوں، ریلوں اور بندرگاہوں میں بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے، اور برطانوی کمپنیاں اس کے لئے منصوبوں کے انتظام، ڈیزائن، اسٹرکچرل انجینئیرنگ، پاور ڈسٹری بیوشن، آلات اور دیگر میں مہارت فراہم کر سکتا ہے۔
بھارت کی مسلسل ترقی کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن یہاں بھی میں ان برطانوی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کے حقیقی مواقع دیکھ رہا ہوں جو اس شعبے میں مہارت رکھتی ہیں۔ خالص معاشی اصطلاح میں عالمی کم کاربن ماحولیاتی مصنوعات اورخدمات کے شعبے میں 09/2008 میں خریداری 2۔3 ٹریلین پاونڈ رہی جبکہ عالمی مارکیٹ کے 2015 ء تک 3۔4 کی شرح سے بڑھنے کی توقع ہے۔برطانیہ کوشش کررہا ہے کہ وہ کم کاربن شعبوں میں جس میں آف شور ونڈ، ویو اور ٹائیڈل پاور، سول نیوکلئیر سپلائ چین، آٹو موٹو اور ایرواسپیس شامل ہیں، مارکیٹ کی قیادت کرے۔
اختراعات ایک اور شعبہ ہے جس میں میں مزید شراکت کے مواقع دیکھتا ہوں۔وزیر اعظم من موہن سنگھ نے 2010 سے 2020 تک کو بھارت کے لئے اختراعات کا عشرہ قرار دیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اختراعات سے ملازمتیں پیدا ہوں، تجارت بڑھے اور عالمی شراکت داری کو فروغ ہو۔اختراعات ترقی، خوشحالی کے لئے اور صحت عامہ اور ماحولیاتی تبدیلی جیسےعالمی چیلنجز کے لئے کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔