برطانیہ یورپ میں باہر سے ہونے والی سرمایہ کاری کی سب سے اہم منزل مانا جاتا ہے۔
سال بھر میں جب کہ اندرونی سرمایہ کاری عالمی بے یقینی پن کے صدمے سے بحال ہورہی ہے، برطانیہ نے 54ملکوں سے سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کرکے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان میں 97نئے منصوبے ایسے شامل ہیں جن سے بھارت سے 6,096 نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے بھارت برطانیہ میں تیسرا سب سے بڑا سرمایہ کار بن جائے گا۔
برطانیہ کے وزیر مملکت برائے کاروبار، جدت اور مہارتیں ڈاکٹر ونس کیبل نے برطانیہ کی اندرون ملک سرمایہ کاری کی رپورٹ برائے سال11--2010 ء کے لندن میں اجرا کے موقع پر اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو پھر سے متوازن بنانے میں اندرون ملک سرمایہ کاری کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
امریکہ سرمایہ کاری کا سب سے بڑا منبع ہے جس سے 388منصوبوں کے ذریعے روزگار کے 36,424مواقع پیدا ہوتے ہیں جب کہ جاپان اپنے 105منصوبوں کے ساتھ برطانیہ میں دوسرا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔
برطانیہ یورپ میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی سب سے پہلی منزل ہے اور ہر ہفتے 28منصوبے حاصل کرتا ہے اور روزگار کے تقریباً دو ہزار مواقع ہر ہفتے پیدا ہوتے ہیں۔ یوکے ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ کی اندرون ملک سرمایہ کاری سے متعلق رپورٹ کے مطابق روزگار کے دو تہائی سے زیادہ مواقع موجودہ سرمایہ کاروں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
یوکے ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ کی بزنس کانفرنس کے موقع پر ونس کیبل نے برطانیہ کے ممتاز سرمایہ کاروں کے سو سے زائد سی ای اوز سےخطاب کرتے ہوئے کہا،’’برطانیہ نے دوسرے ملکوں کو آئیڈیاز اور مصنوعات برآمد کرکے جو حاصل کیا ہے، اس پر ہمیں بجا طور پر فخر ہے۔ لیکن جو نئی ٹیکنالوجیز اور ٹیلنٹ ہم اپنے ملک میں لائے ہے، وہ بھی باعث افتخار ہے۔
"جب کوئی کاروباربرطانیہ میں قائم ہوتا ہے تو اس کے اثرات روزگار کے مقامی مواقع پر ہوتے ہیں اور ملک بھر میں مہارتوں میں ترقی ہوتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی کمپنیاں کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت برطانیہ میں اپنے مرکزی دفاتر قائم کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں، اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہم ان مواقع کو اپنے مفاد میں استعمال کریں۔ ‘‘
سیکرٹری خارجہ ولیم ہیگ نے اس موقع پر کہا،’’پائیدار اندرون ملک سرمایہ کاری ہماری معاشی صحت کو درست رکھنے کے لیے بہت اہم ہے اور اس لیے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ برطانیہ کاروبار کے لیے ایک پرکشش جگہ ہو اور یہ کہ غیر ملکی سرمایہ کار اس سے آگاہ ہوں کہ ہم انہیں کیا پیش کرسکتے ہیں۔ ‘‘
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں اپنی جڑیں مضبوط بنارہی، ترقی کررہی اور پھیل رہی ہیں، جس سے ملک بھر میں ترقی میں اضافہ ہورہا ہے