ایڈوانس تلاش
image
عالمی امور
   
Last updated at 18:46 (UK time) 15 Mar 2012

تحقیق اور تعلیم میں برطانیہ اور بھارت کا اشتراک-دوسرا مرحلہ

David Willets

 

یونیورسٹیوں اور سائنس کے برطانوی وزیر ڈیوڈ ویلٹس نے مہارتوں میں اضافے، مشترکہ جدت طرازیوں اور تعلیم کے شعبوں میں برطانیہ اور بھارت کے درمیان اشتراک عمل کے لیے پانچ ملین پاؤنڈ کی سالانہ مالی اعانت کے لیے پیشکشوں کی دعوت دی ہے۔

اس سے مراد برطانیہ اور بھارت کے منصوبہ برائے تحقیق اور تعلیم (یوکے آئی ای آر آئی) کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہے۔ برطانیہ اور بھارت کی حکومتوں کی مشترکہ مالی اعانت سے شروع ہونے والی سکیم پر اگلے پانچ سالوں میں سالانہ پانچ ملین پاؤنڈ خرچ کیے جائیں گے۔

برطانیہ اور بھارت کا منصوبہ برائے تحقیق و تعلیم (یوکے آئی ای آر آئی)چار حصوں پر مشتمل ہے۔

قیادت :         اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قائدانہ اہلیت پیدا کرنا۔

جدت طرازی میں شراکت داریاں :    اضافی اور اعلی تعلیم کے اداروں کی جدت طرازی کی استعداد کو بڑھانا۔

مہارتوں میں اضافہ :          برطانیہ کے مہارتوں کے شعبے کو اس اہل بنانا کہ وہ اس مقصد کے تحت بھارت کی مدد کرے کہ 2022ء تک پچاس کروڑ افراد کو تربیت فراہم کرنی ہے۔

فعالیت میں اضافہ : تجربات اور کامیابیوں کے باہمی اعتراف کے ذریعے فعالیت میں اضافہ کرنا۔

برطانیہ اور بھارتی حکومتیں یہ توقع کررہی ہیں کہ کاروباری شعبہ برطانیہ اور بھارت کے منصوبے برائے تحقیق اور تعلیم (یوکے آئی ای آر آئی) میں سرمایہ کاری کرے گا۔ ٹاٹا کنسلٹینسی سروسز نے تیس افراد کے لیے مالی اعانت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یوں برطانوی طلبا کو برطانیہ میں سیکنڈری اسکولوں میں واپس جانے سے پہلے اس موسم گرما میں بھارت میں ٹاٹا کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔

اس موقع پر ڈیوڈ ویلٹس نے کہا،’’برطانیہ اور بھارت کا منصوبہ برائے تحقیق اور تعلیم (یوکے آئی ای آر آئی) کامیاب ہے۔ پہلے پانچ سالوں میں اس نے اپنے اپنے ملکوں میں اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں پانچ سو نئی شراکت داریاں قائم کی ہیں۔ اس اشتراک عمل سے ہمیں موقع ملا ہے کہ ایک دوسرے کے کلچر سے متعلق سمجھ بوجھ سے ہم ایک دوسرے کو آگاہ کریں اور تحقیقی منصوبوں کے اثرات اور ان کی کامیابی زیادہ سے زیادہ ہو۔

یہ نیا مرحلہ خاص طور پر دلچسپ ہے۔ اس ہفتے ہم جدت طرازی میں شراکتوں، مہارتوں میں اضافے اور تعلیمی پیشہ وروں کی نئی کھیپ کی تیاری جیسے شعبوں میں اشتراک عمل کے لیے تجاویز کی دعوت دے رہے ہیں۔

میں حیران ہوگیا جب پہلی بار مجھے معلوم ہوا کہ بھارت اگلے بارہ سالوں میں یونیورسٹیوں کے لیے چار کروڑ نئی جگہیں تیار کرنے اور پچاس کروڑ افراد کو پیشہ ور مہارتوں میں تربیت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ برطانیہ اور بھارت کا منصوبہ برائے تحقیق اور تعلیم (یوکے آئی ای آر آئی) جو باقاعدہ تبدیلیاں لائے گا، ان کی مدد سے یہ منصوبے ممکن ہوسکتے ہیں۔ ‘‘

برٹش کونسل بھارت میں موجود برطانیہ اور بھارت کا منصوبہ برائے تحقیق اور تعلیم (یوکے آئی ای آر آئی) سیکرٹریٹ کے ذریعے منصوبے کا انتظام کار جاری رکھے گی۔

برٹش کونسل کے ملکی ڈائریکٹر برائے بھارت روب لائینز نے کہا،’’یہ ایک نہایت اہم منصوبہ ہے اور دنیا بھر میں منفرد ہے کیوں کہ یہ دونوں ملکوں میں بہت سے مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے تاکہ وہ مل کر کام کریں۔ اس سے ہمیں ایسے فوائد حاصل ہورہے ہیں جو ہمارے تعلیمی نظاموں کو بہتر بنائیں گے، ہمارے درمیان پائیدا روابط استوار کریں گے اور ان شراکت داریوں کے ذریعے ہم عالمی چیلنجز کا سامنا کرپائیں گے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے اہم منصوبے کا حصہ ہیں۔ ‘‘