ایڈوانس تلاش
image
عالمی امور
   
Last updated at 18:46 (UK time) 15 Mar 2012

سکُّو کی لہلہاتی فصل

سکو اپنے کھیت میں

برطانیہ کا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی - ڈیفڈ، وسطی بھارت میں لوگوں تک خوراک پہنچانے میں کسانوں کی مدد کر رہا ہے

سال ایک پہلے سُکو سنگھ کو یہ ناقابل یقین لگتا تھا کہ چند کلو بیجوں سے ایسی عمدہ فصل حاصل ہوسکتی ہے۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پیکٹ کو دیکھا جس میں بس دو کلوگرام بیج تھے۔پھر اس نے اپنا سر جھٹکا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اسے یہ کام کرنا ہی پڑے گا۔ یہی سوچ کر وہ پورے ارادے کے ساتھ اپنے کھیت میں داخل ہوا۔

سکو سنگھ نے اس کے بعد پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کی آنکھیں تب چمکنے لگتی اور چہر ہ دہکنے لگتا ہے جب وہ بیان کرتا ہے کہ کیسے اس نے اپنے خدشات پر قابو پایا اور فیصلہ کیا کہ وہ چاول کی فصل میں اضافے کے لیے استعمال ہونے والے سسٹم فار رائس انٹینسی فیکیشن کے طریقے کو آزمائے گا۔

وہ یاد کرتے ہوئے کہتا ہے،’’میں خوف زدہ تھا۔ لیکن پھر میں نے پانچ مہینوں کے بعد بہت اچھی فصل حاصل کی۔ مجھے کبھی یقین نہیں آیا کہ اتنے سے بیج فصل کے لیے کافی ہوں گی"۔

یہ 2008 ء کی بات ہے کہ اسے پہلی بار چاول کی کاشت سے متعلق اس طریقہ کارکا علم ہوا۔ ڈیفڈ کے   مدھیہ پردیش رورل لائیولی ہُڈ پروگرام کے پراجیکٹ اسٹاف نے ڈنڈوری ضلع میں اس کے گاؤں موہ گون کا دورہ کیا تاکہ وہاں رہنے والوں کو اس طریقہ کار کے فوائد کے بارے میں بتا سکیں۔ کسانوں کو، جن کا انتخاب گاؤں کی کونسل ’گرام سبا‘ کے ذریعے کیا گیا ، بعد ازاں اس طریقے کے بارے میں تربیت دی گئی۔ سُکو بھی ان میں شامل تھا۔

سُکو نے بتایا ’’میرے پاس دو ایکڑ زمین ہے جس کے لیے مجھے پچاس کلو بیجوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ مجھے سال بھر میں کبھی دس ہزار روپے (42ڈالر) سے زیادہ منافع نہیں ہوا جو میرے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی تھا"۔

بیج بونے کے دس دن بعد اس کا کھیت ہرا ہوگیا کیوں کہ پودے اگ آئے تھے۔ ’’یہ بہت سندر منظر تھا۔ مجھے ایک ایکڑ زمین میں سے دس کوانٹل چاول ملے اور میری آمدنی ساٹھ فیصد بڑھ گئی۔ اگرمیں ایس آر آئی کا موازنہ کاشت کاری کے روایتی طریقے سے کروں تو میرا معمول آج بھی پہلے جیسا ہی ہوتا۔ مجھے ایس آر آئی کے طریقہ کار کو استعمال کرنا اچھا لگتا ہے کیوں کہ اس سے اگنے والی فصل کی کٹائی کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔‘‘ سُکونے کہا۔ وہ اب اس طریقہ کار کا قائل ہوچکا ہے۔

اپنے گاؤں میں وہ اب ایک صاحب رائے آدمی ہے اور اس نے اپنے ساتھی کسانوں کو قائل کیا ہے کہ ایس آر آئی کے طریقے کو اپنائیں۔ وہ انھیں ہمیشہ یہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ تمام تجاویز کو اپنائیں جو اس عمل کا حصہ ہیں جیسے مناسب قطاروں میں بیج ڈالنا، قطاروں میں فاصلہ برقرار رکھنا (روایتی طریقہ کار کے چار انچ کے بجائے دس انچ کا فاصلہ)، اور مناسب وقت پر بوائی کرنا۔ اس سے چاول کے پودے کو مدد ملتی ہے کہ وہ کیڑوں اور بیماریوں سے ہونے والے نقصان سے بھی خود کو بچائے۔ یوں کیمیکل کھاد کی ضرورت بھی کم ہوجاتی ہے۔

سُکو کہتا ہے کہ’’میرا یقین ہے کہ ایس آر آئی خاص تجربوں کا مجموعہ ہے نہ کہ محض ایک ٹیکنالوجی  کہ جسے کسان اپنے کھیت سے آمدنی بڑھانے کے لیے استعمال میں لاتے ہیں"۔

ڈیفڈ کی مدد سے چلنے والا مدھیہ پردیش رُورل لائیولی ہُڈ پروگرام، مدھیہ پردیش کی حکومت کے ساتھ مل کر اس کے سب سے غریب اور دور دراز واقع قبائلی ضلعوں میں دیہی روزگار کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ مدھیہ پردیش رُورل لائیولی ہُڈ پروگرام مقامی حکومت کے ڈھانچوں (گرام سبا) کو مضبوط بناتا ہے اور مقامی لوگوں کو براہ راست اس عمل میں شامل کرکے قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کو فروغ دیتا ہے۔

پچھلے دو سالوں میں مدھیہ پردیش رُورل لائیولی ہُڈ پروگرام نے تربیتی منصوبوں اور معلوماتی دوروں کے انعقاد، عملی مظاہروں اور بیج کی بہتر اقسام کے فروغ کے ذریعے پراجیکٹ کے دیہاتوں میں کسانوں کو سسٹم فار رائس انٹینسی فیکیشن متعارف کرایا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔ مدھیہ پردیش رُورل لائیولی ہُڈ پروگرام کے تحت موجود 641دیہاتوں میں 10,181کسانوں نے ایس آر آئی طریقہ کار کو اختیار کرلیا ہے یوں,924 ایکڑ پر یہ طریقہ کار استعمال کیا جا رہا ہے۔اوسطاً ہر کسان دو ایکڑ زمین سے 16,430روپے (35پاؤنڈ) کما چکا ہے۔ ڈیفڈ  2007ء سے 2012ءکے دوران مدھیہ پردیش رورل لائیولی ہڈ پروگرام کو 45ملین پاؤنڈ فراہم کرے گا۔

ایس آر آئی کے نفاذ سے جو نتائج سامنے آئے، وہ کچھ یوں ہیں :

·          بیج کی ضرورت میں کمی

·          نئے پودوں کو اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانے کے وقفے میں کمی

·          کم وقت میں کم خرچ اور آسان نلائی

·          بیماریوں کے حملوں کے امکانات میں کمی

·          پیداوار میں اوسطاً بیس گنا اضافہ

·          روایتی طریقے کی نسبت اناج کے معیار میں اضافہ۔