برطانیہ نے آج بھارت کے مختلف شہروں میں جھونپڑ پٹی میں آباد 8 ملین غریب افراد کے لئے پانی، بہتر نکاسی آب اور پناہگاہوں کی فراہمی کے لئے ایک نئی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔
بھارت اور افریقہ میں شہروں کے مستقبل کے لئے ایک اعلی سطحی اجلاس میں بات کرتے ہوئے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی، ڈیفڈ کے وزیر گیرتھ تھامس نے کہا کہ5 ء 14 ملین پاونڈ کی یہ رقم بھارت کے چندسب سے زیادہ گنجان آباد شہروں میں غربت سے نمٹنے میں مدد دے گی۔
اس اسکیم سے بھارت کے جواہر لال نہرو اربن رینیول مشن پروگرام کو تعاون فراہم کیا جائےگا۔اور یہ امداد آغاز میں 20 شہروں میں استعمال ہوگی۔
اس رقم سے:
· 20 فی صد زیادہ جھونپڑیوں کو پائپ کے ذریعے صاف پانی مل سکے گا۔اس وقت متعدد افراد مشترکہ ہینڈ پمپوں سے پانی بھرتے ہیں اور انہیں پینے کے لئے صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔
· تمام جھونپڑیوں کی چوتھائی تعداد کے لئے گندے پانی کی نکاسی کا نظام بہتر ہو سکے گا جوسیوریج، غلاظت کی صفائی اور نالیوں کو بہتر بناکے کیا جائے گا۔
· ان جھونپڑ پٹیوں کے مزید 25 فی صد افراد کو کرائے یا ملکیت کے ذریعےان کی رہائش کے قانونی حقوق مل جائیں گے۔
· رہائش گاہ، بستی کے انفرااسٹرکچر اور ان کے علاقے میں پانی کے بارے میں کچھ غریب ترین بھارتی باشندوں کو مشاورت میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔
بھارت میں اگرچہ گزشتہ چند برس میں مستحکم معاشی ترقی ہوئی ہے لیکن اس کی ضروریات اب بھی بہت ہیں، 76 فی صد افراد غریب ہیں، اور تحت- صحارائی افریقہ کے مقابلے میں بھارت میں اب بھی لوگوں کی زیادہ تعداد ایک ڈالر یومیہ سے کم پر گزارہ کرنے کے لئے مجبور ہے۔
گیرتھ تھامس نے اس موقع پر کہا
"لوگوں کو کبھی کبھی یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ کئی اعتبار سے اقتصادی کامیابیاں حاصل کرنے والا بھارت اب بھی بے پناہ غربت کا شکار ہے اور یہاں دنیا کے غریب ترین افراد کی تہائی تعداد آباد ہے۔
سلم ڈاگ ملینئیر جیسی فلموں نے برطانوی ناظرین کو اس حقیقی منظر سے آشنا کیا ہے کہ ان غریب بستیوں میں رہنے والے لوگ کن مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ہمیں ان افراد کی مدد ضرور کرنا چاہئیے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے"۔