ایڈوانس تلاش
image
عالمی امور
   
Last updated at 18:46 (UK time) 15 Mar 2012

بھارتی کسانوں کی زمین زرخیز ہوگئی

تنو سابر اور اس کا خاندان محنت سے خوفزدہ نہیں، اس کا ثبوت اس کا لہلا تا ہوا فارم ہےجس کی دیکھ بھال بہت اچھی طرح کی جاتی ہے۔

تنو سابر کے کھیت میں سبزیاں بڑی عمدہ اور بھری پری قطاروں میں اگائی گئی ہیں، جس کے کناروں پر آم کے نوخیز پودے لگے ہوئے ہیں جن میں پھول لگنا شروع ہوگئے ہیں جو آئندہ اچھی فصل کا پتا دیتے ہیں۔

تنو پانی کے پمپ کو چلاتے چلاتے وقفہ کرتا ہے، پانی جو کئی میٹر گہرائی میں سے نکالا جاتا ہے۔ پانی نکالنے کا یہ طریقہ بڑا سادہ لیکن کار آمد ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی فوائد کے لئے اس علاقے کےکسان ان پمپوں کو مہنگے ڈیزل پمپوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ تنو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا

" مجھے ڈیزل پر پیسا خرچ نہیں کرنا پڑتا اور میں اس کی مرمت خود کر سکتا ہوں، مجھے مکینک کے پاس جانے کی ضرورت بھی نہیں۔اس سے پہلے میں صرف چھوٹے سے حصے کو پانی دے سکتا تھا، آج میرے پورے کھیت کو پانی ملتا ہے اور میری فصل بہت زیادہ ہوتی ہے۔میری آمدنی میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے"۔

غربت سے نجات کا راستہ

تنو اور اس کے خاندان سے پہلی بار ملنے والے کو اندازہ نہیں ہوسکتا کہ اس نے موجودہ طرز زندگی تک پہنچنے کے لئے بھوک اور مشکلات کا کتنا لمبا سفر طے کیا ہے۔غربت سے باہر آنے کا یہ سفر بھارت کی ریاست اوڑیسا کے گاوں لاڑکی میں تنو کے کئی ساتھی کسانوں نے بھی کیا ہے۔

یہ سفر مغربی اوڑیسا کے دیہی لائیولی ہڈز پروگرام کے تحت ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈیفڈ) کی یوکے ایڈ کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔اوڑیسا کے دیہی لائیولی ہڈز پروگرام میں پہلے کی بجائے ایک مختلف انداز اختیار کیا گیا ہے ، یہ صرف زمین اور ماحولیاتی تحفظ کی بجائے لوگوں کی روزی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ طریقہ کاربہت کامیاب ثابت ہوا ہے، چار اضلاع میں اس نے 800000 غریبوں کی مدد کی ہے جن کی تعداد ڈیفڈ کی توقع کے مطابق ڈیڑھ ملین ہو جائے گی۔ آج لاڑکی اس دیہی لائیولی ہڈز پروگرام کی بدولت ایک خشک اور بنجر گاوں کی جگہ سر سبز نخلستان بن گیا ہے۔ سات سال پہلےلاڑکی بدلتے ہوئے موسمی تقاضوں اور 20 سالہ خشک سالی کے نتائج کے خلاف جدوجہد کر رہا تھا۔ لوگوں کی آمدنی بہت کم تھی جو ان کے گزارے کے لئے ناکافی تھی۔ پورے پورے خاندان بھارت کے دوسرے اضلاع کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ لاڑکی چھوڑنے کی بنیادی وجہ پانی کی قلت تھی۔ پانی کے بغیر زمین کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

تنو وہ دن یاد کرتے ہوئے کہتا ہے۔

"یہاں پر کوئی کام نہیں ملتا تھا۔ہم اپنے کھیتوں کو پانی نہیں دے سکتے تھے تو فصل اگانے کا کیا سوال تھا۔ ہم میں سے کئی حیدر آباد اور بھبنیشور بلکہ سورت تک چلے گئے تاکہ اینٹیں بنانے والی بھٹی میں یا مزدورکے طور پر کام کر سکیں"۔

لیکن اب لاڑکی کے کسان اضافی اجناس کو اس مشترکہ اجناس بنک میں جمع کراتے ہیں جہاں سے ضرورتمندوں کو اجناس فراہم کیا جاتا ہے۔ لاڑکی کی ہی ایک بیوہ جمنا کو کنواں کھودنےکے لئے رقم دی گئی، بیج فراہم کئے گئے اور یہ بھی بتایا گیا کہ کونسی فصل لگائی جائے۔ اس کا ذریعہ آمدنی جو پہلے صفر تھا اب گزارے کے لئے کافی ہوگیا ہے۔ اس کے بیٹے کو کام کی تلاش میں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں رہی وہ اب زمین کے ساتھ اپنے خاندان کی دیکھ بھال بھی کرتا ہے۔ آج جمنا اور اس کا بیٹا مل کر 40 ہزار بھارتی روپے سالانہ کماتے ہیں جو کہ معقول رقم ہے۔ اب انہیں موسم پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں۔

کسانوں کی مدد کے علاوہ برطانیہ کی امداد سے اوڑیسا کے دیہی لائیولی ہڈز پروگرام میں خواتین کے لئے اپنی مدد آپ گروپ بھی قائم کئے گئے ہیں جس سے ان کی اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا رہے۔ اب گھر میں انکی آواز سنی جاتی ہے، وہ بچوں کو اسکول بھیج سکتی ہیں اور مستقبل کے لئے بچت کر سکتی ہیں۔