۔
پاکستان کے باب میں ہماری حکمت عملی
ہم پاکستان کو ایک مضبوط جمہوری اور خوشحال ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لئے برطانیہ کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔
پاکستان کے بارے میں وہ سب کچھ یہاں موجود ہے جو آپ جاننا چاہیں، اس کی آبادی، عوامی ثقافت، ملکی سیاست، تاریخ او رجغرافیہ اور برطانیہ سے اس کے تعلقات
گیارا سالہ دادلاجونیجوسندھ کے ایک گاؤں گڑھی حلیم میں اپنی ماں اور 12 دوسرے افراد خانہ کے ساتھ ایک کمرے کے گھرمیں رہتی ہے۔
یوکے کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا
ادارہ بین الاقوامی ترقی کے وزیر اینڈریو مچل نے کہا،’’برطانیہ نے پچھلے سال کے دوران پنجاب کے اشتراک سے کام کیا ہے تاکہ تعلیم کے شعبے میں بہتر نتائج پیدا کیے جا سکیں اور ہم اسکولوں میں پانچ لاکھ کے قریب بچوں کی مدد کررہے ہیں
2012ءکو ملکہ معظمہ الزبتھ دوم کے دور حکومت کی ساٹھویں سالگرہ ہے اور ساٹھ سال ہی انہیں دولت مشترکہ کی سربراہ بنے ہوئے ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن نے بیوٹی کیئر کی مصنوعات فروخت کرنے والے ادارے کیب ٹری اینڈ ایولن کے کراچی میں ڈولمن سٹی مال میں پہلے پاکستانی اسٹور کا افتتاح......
اس سال دولت مشترکہ نے " خواتین تبدیلی کی عامل'' کا موضوع اپنایا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین اور لڑکیوں پر وسائل صرف کرنے سے ملکوں میں سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی کی رفتار تیز تر ہو سکتی ہے
برطانوی حکومت نے ان گنت زندگیوں کو بچانے کے لیے ملیریا سے نمٹنے اور حمل اور بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والی اموات کو روکنے کے لیے تاریخی منصوبوں کا اعلان کیا ہے
کرکٹ کی چھوٹی سخت اور سرخ گیند برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تعلق کا شاید سب سے معروف استعارہ ہے۔ تاہم جلد ہی اس کا ایک اورحریف بھی میدان میں آجائے گا یعنی نرم، سنہری، آم۔
بہتر طبی دیکھ بھال تک رسائی پاکستان کے لئے ایک حقیقی چیلنج ہے۔ہردس میں سے ایک بچہ اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے ہلاک ہوجاتا ہے
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں ہر تین میں سے ایک عورت صنفی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔
پاکستان میں بالغ افراد کی آبادی کے نصف سے زیادہ اور عورتوں کی آبادی کے دو تہائی کا بنک اکاؤنٹ نہیں ہے یا انہیں مالی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستان میں تنخواہوں کے صنفی تضاد کا ریکارڈ بہت خراب ہے اور اس کا نمبر دنیا کے 1335 ملکوں میں 133 واں ہے۔
فارن سکریٹری ولیم ہیگ کا مضمون جو انہوں نے پاکستان کے پہلے دورے کے موقع پر تحریر کیا۔