چھ سالہ بالاسنگھ ماجھی بڑے فخر کے ساتھ اپنے ننھے کندھوں پر اس 'دن کاانعام' اٹھائے ہوئے ہے۔اس نے اپنے باپ گنڈی ماجھی کے ساتھ مل کر یہ بڑا سا کٹھل پایا ہے جس پر وہ بہت خوش ہیں۔
یہ کٹھل ان کے گھر کے چار افراد کے لئے دن بھر کو کافی ہوگا۔دونوں باپ بیٹے صبح سے جنگل میں پھر رہے تھے۔ اگر یہ کٹھل نہ ملتا تو ان کا گھرانہ بھوکا رہ جاتا۔
گنڈی اور اس کی بیوی دونوں بے روزگار ہیں اور اپنے لئے کھانے پینے کاسامان نہیں خرید سکتے۔جنگل ہی ان کے لئے خوراک کا ذریعہ ہے۔
70 سالہ راننگ دی کے لئے جنگل آمدنی کا ذریعہ ہے ۔ وہ اور اس کا 40 سالہ معذور بیٹا جس کی مخصوص ضروریات ہیں روزانہ جنگل سے پتے اکھٹا کرتے ہیں پھر وہ اسے بانس کی تیلیوں کی مدد سے سیتی ہے اور کپ اور پلیٹیں بناکر مقامی مارکیٹ میں فروخت کرتی ہے۔مقامی تاجر اسے 100 کپ یا پلیٹوں کے لئے 10 روپئِے(12 پنس) ادا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے بارش کے زمانے میں پتے نہیں ملتے اور راننگ دی کی آمدنی بند ہوجاتی ہے۔
کالاہانڈی کے کوندھا قبیلے کے لئےجنگل ان کی ماں ہے۔ اپنی مقامی بولی کوئی میں وہ کہتے ہیں' جنگل آمار ما'۔
اوڑیسا کے 20 فی صد سے زائدقبائل کا انحصار جنگلات اور جنگل کی چھوٹی مصنوعات پر ہے۔ان میں سے اکثر فصلی مزدور ہوتے ہیں اور اضافی آمدنی کے لئے جنگل سےکھانے کی اشیا ،جانوروں کی خوراک، لکڑی اور دواؤں کے لئے جڑی بوٹیاں اکھٹا کرتے ہیں۔ان کی یہ سخت محنت ان کی آمدنی میں حقیر سا اضافہ کرتی ہےکیونکہ دلال ان کا سامان بڑی ارزاں قیمت پر خریدتے ہیں۔
تبدیلی آنے والی ہے
اوڑیسا ٹرائبل ایمپاورمنٹ لائیولی ہڈز پروگرام کوندھا لوگوں کے لئے معیار زندگی بہتر بنا رہا ہے۔اس منصوبے میں برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کا تعاون شامل ہےجس سے قبائلی کمیونٹیز کو جنگلات کے ذرائع کو محفوظ رکھنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔
اس پروگرام سے عورتوں کو اپنی محنت کو مل جل کر اجتماعی شکل دینے اور اپنی مدد آپ گروپ بنانے کا موقع مل رہا ہےاور وہ پتوں کو جمع کرنے، ذخیرہ کرنے، سکھانے اور فروخت کرنے کاکام انجام دے رہی ہیں۔ان عورتوں کو وزن کرنے کی مشینیں فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ دلالوں سے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کی صحیح قیمت وصول کر سکیں۔اس منصوبے سے ولیج فاریسٹ کمیٹیوں کا قیام ممکن ہوا ہے جو جنگلات کے تحفظ کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔
جنوبی اوڑیسا میں بیل گھر گاؤں کی قبائلی عورتیں اب اپنی آمدنی میں 24 فی صد اضافے کی خبر دے رہی ہیں جو کہ جنگل سے اکھٹا کی گئی چھوٹی اشیا کے فروخت کرنے سے ممکن ہواہے۔جنگلات اس علاقے کے ایک اوسط قبائلی کی 70 فی صد آمدنی کا ذریعہ ہیں۔غریبوں کی 79 فی صد تعداد نے بتایا ہے کہ اب جون تا ستمبر انہیں پہلے کے مقابلے میں کم دن خوراکے بغیر رہنا پڑتا ہے۔
2003 ء سے اب تک اس پروگرام نے تین لاکھ سے زائد قبائلیوں کو اپنے روزگار کو بہتر بنانے، ناقص خوراک میں کمی اور صاف پانی اور بہتر حفظان صحت کا موقع فراہم کیا ہے۔پروگرام کے لئے رقم ڈیفڈ اور انٹرنیشنل فنڈ فار ایگری کلچر اور اوڑیسا کی حکومت مل کر فراہم کرتے ہیں۔