لیپ ٹاپس اور موبائل فونز لیے ہوئے یونین انفارمیشن سنٹروں سے آنے والی عورتیں دیہاتوں میں پھرتی ہیں نئے دور کی بقا کی سب سے قیمتی شے: معلومات بیچتی ہوئی معلومات۔ برطانیہ کے ادارے ڈیفڈ کی مالی معاونت سے یہ عورتیں دیہی علاقوں میں ٹیکنالوجی لے جاتی ہیں تاکہ صحت سے لے کر زراعت اور مذہب تک سب ہی مسئلوں کا احاطہ کرسکیں۔ اس کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ دیہی عورت کے لیے زندگی میں بہتری پیدا ہوئی اور غربت اور صنفی عدم مساوات کے خاتمے کے لیے بنگلا دیش کی مدد کے لیے ٹھوس پیش رفت ہوئی۔
توحید فیروز نے لکھا۔
جیسور کی چچرا یونین کے مدھیہ گاؤں کی پچیس سالہ گھریلوعورت عاصمہ بیگم تتلیوں کی بیماری سے پریشان ہے جو اس کے گھر کے پچھلے صحن میں گوبھی کی کیاری کو متاثر کرر ہی ہے۔ "فصل پر حملہ کرنے والے کیڑے تتلیوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں لیکن بس وہ اتنے ہی تتلیوں سے مماثل ہیں" عاصمہ کہتی ہےاور پھر اپنی بات میں اضافہ کرتی ہے کہ "معصوم تتلیوں کے برعکس یہ ہماری گوبھی کی فصل پر حملہ کرتے اور سبزی کو اندر سے کھاجاتے ہیں اور فصل کو تباہ کردیتے ہیں۔ پیچھے ایک تیز بُو باقی رہ جاتی ہے"۔
تاہم عاصمہ کی پریشانی زیادہ دیر باقی نہیں رہی کیوں کہ وہ جانتی ہے کہ کیڑوں کی وجہ سے پیدا ہونی والی پریشانی تب ختم ہوجائے گی جب وہ موبائل فون والی مددگار عورتوں سے بات کرے گی جو ہر ہفتے وہاں آتی ہیں تاکہ صحت سے لے کر زراعت تک ہر مسئلہ پر مشورہ دیں۔
"مجھے یونین انفارمیشن سنٹر یا پلی تتھیہ کیندرا کی طرف سے آنے والی عورتوں پر بھروسہ ہے کیوں کہ ان کے لیپ ٹاپس میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جومجھے فصلوں کی دیکھ بھال کے لیے جاننے کی ضرورت ہے۔" عاصمہ نے پراعتماد لہجے میں کہا۔