ایڈوانس تلاش
image
عالمی امور
   
Last updated at 18:44 (UK time) 15 Mar 2012

بھارت کی جنانی ایکسپریس

بھارت کے علاقے مدھیا پردیش کے گاؤں میں اپنے گھر کےفرش پر گود میں اپنی نو زائیدہ بچی کو لئے بیٹھی 27 سالہ آشا جاتو خوشی سے پھولے نہیں سمارہی ہے۔

دو روز پہلےکی بات ہے کہ جب اسے جنانی ایکسپریس کے پچھلے حصے میں بڑی احتیاط سے لٹایا جارہا تھا تو اس کا سارا بوجھ اس کی ساس کے کندھوں پر تھا۔

ہندی میں ماں کے نام پر رکھا گیا جنانی ایک مفت ایمبولینس سروس کا نام ہے جو دیہاتوں میں حاملہ عورتوں کو سرکاری اسپتالوں اور کمیونٹی طبی مراکز میں لے جاتی ہے۔

یہ سروس مدھیا پردیش ہیلتھ سیکٹر ریفارم پروگرام کا ایک حصہ ہےجس کی کچھ فنڈنگ ڈیفڈ کرتا ہے۔

اس سروس کامطلب ہے کہ ماؤں اور بچوں کو طبی مرکز میں ماہرانہ مدد مل سکتی ہے جو کسی مسئلے کی صورت میں یا دودھ پلانے اور بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق معلومات کی فراہمی کے لئے ہیلتھ ورکروں کی جانب سے دی جاتی ہے۔

شیوپوری ضلع میں جنانی ایکسپریس نے اسپتالوں اور طبی مرکزوں میں بچوں کی پیدائش میں اضافہ کیا ہے۔ اس کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ستمبر 2008 ء میں آغاز کے بعد سے شیوپوری میں جنانی ایکسپریس نے 10000 کالیں وصول کی ہیں جن میں سے صرف 574 کو کسی اور طرف لوٹایا گیا ہے۔

دیہاتوں سے سوشل ورکر خواتین کو بھرتی کیا جاتا ہے جو حاملہ خواتین کے پاس جاتی ہیں اور انہیں گھر کے مقابلے میں کلینک یا اسپتال میں بچے کی پیدائش کے فوائد سے آگاہ کرتی ہیں اور امیونائزیشن، صفائی اور ماں اور بچے کی غذا کے بارے میں بتاتی ہیں۔

اس میں مالی فوائد بھی بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔طبی مرکزوں سے گھر جاتے وقت ماں کو 1400 روپے کا چیک دیا جاتا ہے تاکہ اس کی آمدنی کے نقصان اور اخراجات کا مسئلہ نہ ہو۔

اس سروس کی بدولت نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت میں 14 فی صد کمی ہوئی ہے۔

مدھیا پردیش میں ہر روز 17 عورتیں بچوں کو جنم دیتے وقت موت کے گھاٹ اتر جاتی ہیں جبکہ بھارت میں ہر ساتویں منٹ میں ایک عورت ولادت کے وقت زندگی کی جنگ ہار جاتی ہے۔