25 ستمبر بروز جمعرات نیویارک میں ہونے والے ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ کے اجلاس کے بعد برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے 50ملین پاؤنڈ کی اضافی امداد فراہم کرے گا۔
یہ اعلان وزیر اعظم نے فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے پہلے اجلاس کے بعد کیا۔ اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے شرکت کی اور اس کی صدارت وزیر اعظم، صدر بارک اوباما اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے مشترکہ طور پر کی۔
جمعرات کو نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں حکومت پاکستان اور عالمی بنک نے ایک'ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ ‘ قائم کرنے کا اعلان کیا جو پاکستان کے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے امداد کا اہتمام کرے گا۔
اجلاس کے بعد صدر پاکستان آصف علی زرداری کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم گورڈن براؤن نے قیام امن اور خاص طور پر سرحدی علاقوں میں طالبان سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
وزیر اعظم نے کہا،"پاکستان تسلیم کرتا ہے کہ متشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ پاکستانی طالبان سے کہیں زیادہ آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہمیں یہ بات خود پر واضح کرلینی چاہئے کہ یہ ایسی جنگ ہے جس میں ہر وہ ملک شامل ہے جس کے نمائندے آج اس اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔برطانیہ اور دیگر ممالک پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ ان مسائل کو حل کیا جا سکے۔ مجھے برطانیہ کی طرف سے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ ہماری طرف سے پاکستان کو 50ملین پاؤنڈ کی اضافی امداد فراہم کی جائے گی۔ تاکہ اس رقم کو سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر، اسلوب حکمرانی اور نفاذ قانون کو بہتر بنانے کے لیے خرچ کیا جائے تاکہ پاکستان کے عوام کو مستقبل میں ایک بہتر صورت حال فراہم کرنے میں مدد کی جائے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا،"پاکستان میں جمہوریت کی روایت مضبوط ہورہی ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو اب تک نہیں ہوسکا ۔ آپ کی مدد اور دنیا کی بڑی جمہوری قوتوں کی مدد کے بغیر پاکستا ن میں جمہوریت کی روایت کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے ہم دہشت گردی اور اس طرح کے خاص ذہنی رویے کے خلاف جنگ لڑیں گے۔ یہ خاص ذہنی رویہ چاہے افغانستان میں ہو، یا پاکستان میں یا دنیا میں کسی بھی دوسری جگہ ہو، اصل میں یہی خاص ذہنی رویہ ہے جس کے خلاف ہم برسرپیکار ہیں"۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق رائے ہوا کہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان اس سے اگلے مرحلے میں اس بات پر توجہ دے گا کہ بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے اور توانائی کا ایک پائیدار منصوبہ تشکیل دینے میں پاکستان کی مدد کی جائے۔
اجلاس کے بعد فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان نے ایک بیان جاری کیا جو کچھ یوں ہے :
"فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان ستمبر 2008میں ایک ادارے کے طور پر قائم ہوا۔ اس کا پہلا اجلاس 24ستمبر 2009کو نیویارک میں ہوا جس کی صدارت مشترکہ طور پر صدر بارک اوباما، صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کی۔ ان کے علاوہ بارہ سربراہان حکومت ، نو ملکوں اور پانچ کثیرالمملکتی اداروں کے سینئر نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
1 اجلاس میں شامل رہنماؤں نے پاکستان کے عوام کو مبارک باد دی کہ انھوں نے ملک کی جمہوری دور میں منتقلی کو ممکن بنانے میں اہم پیش رفت کی۔ رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ اس خطے اور اقوام عالم کی برادری کے استحکام کے لیے پاکستان میں جمہوریت کی بہت اہمیت ہے۔ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جمہوریت کو اس کااہل ہونا چاہئے کہ وہ ایک نئی امید کا وعدہ کرسکے اور لوگوں کی خوش حالی اور امن کی خواہش کو پورا کرسکے۔
2 گروپ آف فرینڈز کے نومبر 2008میں ابوظہبی ، اپریل 2009میں ٹوکیو اور اگست 2009میں استنبول میں ہونے والے وزراء اور سینئر افسران کے اہم اجلاسوں پر بات کرتے ہوئے، کہ جن کے نتائج سے متعلق وزیر اعظم طیپ اردوگن نے تجزیہ پیش کیا تھا، سمٹ میں شامل رہنماؤں نے یقین دہانی کی کہ بین الاقوامی برادری اور بالخصوص فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے اراکین، وسیع تر سماجی ومعاشی ترقی کے حصول اور دہشت گردی، عسکریت اور انتہاپسندی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پاکستانی عوام کی سیاسی اور اسٹریٹجک امداد جاری رکھیں گے۔
3 سمٹ میں رہنماؤں نے دہشت گردی، عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد میں پاکستانی عوام کی پیش رفت اور قربانیوں کا اعتراف کیا۔انھوں نے اس بات کی تعریف کی کہ پاکستانی عوام اور پاکستانی اداروں نے مل کر کام کیا تاکہ ان خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ ان کی طرف سے امداد کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ ان کوششو ں میں پاکستان کی معاونت کریں گے اور اس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
4 سمٹ میں رہنماؤں نے عالمی بنک اور حکومت پاکستان کے اس اعلان کو خوش آمدید کہا کہ دہشت گردی، عسکریت پسندی اور انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کی مالی امداد کا باقاعدہ نظام قائم کرنے کے لیے ایک ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ تشکیل دیا جائے گا۔ انھوں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی پارٹنرز سے اصرار کیا کہ وہ اپنی امداد کا دائرہ بڑھائیں تاکہ حکومت کے مجوزہ جامع منصوبے پر عمل درآمد ہوسکے۔
5 سمٹ میں رہنماؤں نے بجلی کے مسلسل بحران کی وجہ سے پاکستانی عوام کو درپیش مشکلات پر بات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی معاشی اور انسانی ترقی کے لیے فوری امدادی اقدامات میں معاونت کی جائے گی۔ وہ اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان آئندہ اس بات پر توجہ مرکوز کرے گا کہ توانائی کے ایک پائیدار اور مستحکم منصوبے کی تشکیل کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کی جائے۔ انھوں نے ایشیائی ترقیاتی بنک کی ان کوششوں کا حوالہ دیا جو توانائی کے شعبے میں 'فرینڈز'کی معاونت کو ممکن بنانے کے لیے وہ کر رہا تھا۔ رہنماؤں نے طے کیا کہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کی اگلی وزراء میٹنگ میں توانائی پر ایک رپورٹ پیش کی جائے گی۔
6 سمٹ میں رہنماؤں نے دہشت گردی ، عسکریت پسندی اور انتہا پسندی سے متاثر ہونے والے لوگوں سمیت ان لوگوں کے لیے بھی گہری ہمدردی کا اظہار کیا جو صوبہ سرحد اور فاٹا کے علاقے میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے پر مجبورہوئے۔ رہنماؤں نے پاکستان کے تمام عوام پر اس کے بالواسطہ اثرات کو بھی تسلیم کیا۔
57 سمٹ میں رہنماؤں نے مالاکنڈ کے علاقے میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو روکنے اور اس کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کی حالیہ کامیابی کی تعریف کی۔ انھوں نے خاص طور پر حکومت پاکستان کی اس کوشش کو سراہا جو اس نے فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کی مشاورت سے مالاکنڈ ڈویژن میں تعمیر نو اور ترقی کی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے کی۔ سمٹ میں رہنماؤں نے اپنے وعدے کا اعادہ کیا کہ ضرورت مندوں کے لیے انسانی بنیادوں پر فوری بحالی کے کام میں مزید معاونت فراہم کی جائے گی اور لوگوں کی ضرورتوں کے مطابق متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا کام آگے بڑھایا جائے گا۔
8 سمٹ میں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سیکیورٹی اور سماجی و معاشی ترقی کے لیے حکومت پاکستان کی طویل المیعاد حکمت عملی میں بین الاقوامی پارٹنر شپ کا ایک تعمیری فریم ورک موجود ہے جسے دہشت گردی، عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 'فرینڈز' کے گروپ نے فاٹا میں تحفظ اور ترقی سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے ایک مربوط اور جامع منصوبہ تشکیل دینے اور اسے نافذ کرنے کی حکومت پاکستان کی کوششوں کو بھی خوش آمدید کہا۔
9 سمٹ میں رہنماؤں نے اس بات کی ضرورت پر اصرار کیا کہ حکومت پاکستان اور 'فرینڈز' کو اپنی پارٹنرشپ مضبوط بنانی چاہئے تاکہ حکومت کی بیان کردہ اہم ترجیحات کے لیے کام کیا جائے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی بھی تعریف کی کہ وہ امدادی کوششوں کو جاری کرنے اور پارٹنرشپس کو تقویت دینے کے لیے حکومت کی مدد کر رہی ہے۔
10 سمٹ میں رہنماؤں نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ اپنی اداراتی اہلیتوں کو بھرپور انداز میں ترقی دینے کے لیے پاکستان کی مدد کرنابہت ضروری ہے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ 'فرینڈز' اس شراکتی اپروچ میں معاونت فراہم کریں گے۔
11 سمٹ میں رہنماؤں نے حکومت پاکستان کی ان کوششوں کی تعریف کی جو ملک بھر میں نفاذ قانون کو یقینی بنانے کے چیلنج کے حوالے سے کی گئی ہیں۔
12 سمٹ میں رہنماؤں نے حکومت پاکستان کے اس ارادے کا بھی خیر مقدم کیا کہ وہ سالانہ پاکستان ڈیولپمنٹ فورم کا احیائے نو اور اجرائے نو کرنا چاہتی ہے۔ اس فورم کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات پر، جن میں صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، معاشی ترقی اور اداروں کی مضبوطی جیسی ترجیحات شامل ہیں، حکومت اور بین الاقوامی پارٹنرز کے درمیان ایک پائیدار پالیسی ڈائیلاگ شروع کیا جا سکے۔ انھوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کو کامیاب بنانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور دوسرے پارٹنرز معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
13 سمٹ میں رہنماؤں نے ڈونرز پر زور دیا کہ وہ اپریل 2009میں ٹوکیو میں کیے ہوئے اپنے وعدوں کو یقینی بنانے کی کوشش کریں تاکہ اس بات کو ممکن بنایا جا سکے کہ پاکستانی عوام کو جلد از جلد مالیاتی امداد اور ترقیاتی معاونت میسر آئے۔
14 سمٹ میں رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ معاشی سرگرمی کو دوبارہ سے شروع کرنے اور پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مارکیٹ تک رسائی نہایت اہم ہے۔ انھوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں تجارتی ترقی اور مارکیٹ تک رسائی میں اضافے کے لیے پاکستان کی درخواست پر توجہ دینی چاہئے۔
15 سمٹ میں رہنماؤں نےاس بات پر غور کیا کہ پاکستان میں سماجی و معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اور دوسرے ملکوں میں کاروباری شعبے کو زیادہ سے زیادہ فعال بنانا بہت اہم ہے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ سرکاری و نجی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے فروغ اور انھیں سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور تجارت اور سرمایہ کاری میں موجود مشکلات پر قابو پانے کے لیے متعلقہ کاروباری شعبوں سے ایک پائیدار ڈائیلاگ شروع کیا جائے۔
16 سمٹ میں رہنماؤں نے اس بات پر اصرار کیا کہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان ایک سیاسی پلیٹ فارم کی حیثیت سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اصل میں ایک مستحکم، جمہوری اور خوش حال قوم بننے کے پاکستانی عوام کے خواب میں عالمی برادری کی شراکت ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کے لیے مؤثر امداداور پاکستان کے عمدہ ثقافتی ورثے سے متعلق آگاہی میں اضافے کے لیے یہ گروپ ایک اہم محرک کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
17 سمٹ میں رہنماؤں نے اپنے وزرائے خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جب جب ضروری ہو، آپس میں ملاقات کریں تاکہ یہ بات سب کو معلوم ہو کہ اعلی انتظامی سطح پر پاکستان کے عوام کی معاونت پرخصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
اس بیان کو فرینڈز سمٹ کے مشترکہ صدور نے جاری کیا۔
پاکستان اپنے معاشرے کے تمام گروہوں کے لئے ایک زیادہ منصفانہ اور مستحکم تر ملک بننے کا تصور رکهتا ہے اور اس کے حصول ميں بر طانيہ اس کی مدد کرنے کا خواہشمند ہے
ملو جانی لابنگی میں رہتا ہے جو مغربی اوڑیسا کے دور دراز علاقے کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔