ایڈوانس تلاش
image
عالمی امور
Last updated at 14:36 (UK time) 25 Jan 2010

بھارت میں برطانیہ کے تعاون سےشمسی توانائی اب گھروں میں

تنگناپت بھارت کا ایک دور دراز گاؤں ہے۔ گارے کے صاف ستھرے گھر، چند پانی کے پمپ، ایک آم کا درخت جہاں لوگ بات چیت کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ لیکن وہاں ہر گھر کی چھت کی اینٹوں پر ایک ایسی شے دکھائی دیتی ہے جو بہت جدید ہے۔ اے 4حجم کی چند کتابوں جتنا بڑا شمسی پینل۔

یہاں سے تار گھروں میں جاتے ہیں جہاں وہ روشنی اور توانائی پہنچاتے ہیں۔ گلی کے پانچ لمبے لیمپ بھی شمسی توانائی کے نظام سے چلتے ہیں اور ساری رات روشنی دیتے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ سبز توانائی کے آنے کا سب سے بڑا فائدہ ان کے لیے یہی ہے کہ اب انھیں ریچھ وغیرہ کے حملے کا خوف نہیں رہا۔ وہ اردگرد پہاڑوں سے یہاں حملہ آور ہوتے ہیں۔

تین سال پہلے اس چھوٹے گاؤں سے چار خواتین ایک غیر معمولی سفر پر روانہ ہوئیں۔ نہ صرف یہ کہ اپنی زندگیوں میں پہلی بار وہ اپنے دور دراز گھروں سے باہر نکلی تھیں بلکہ وہ ایک جدید دنیا میں جا رہی تھیں جو ان سخت بندشوں سے ماورا تھی جنھوں نے انڈیا کے مشرقی گھاٹوں کے قبائل میں عورتوں کی زندگیوں کو جکڑا ہوتا ہے۔

"اس سے پہلے میں نے کبھی کسی باہر سے آئے ہوئے آدمی کونہیں دیکھا تھا۔ ‘‘دادی پلکا وادکا کہتی ہے۔ اسے اپنی عمر کا بھی علم نہیں ہے کیوں کہ اوڑیسہ کی ریاست کے پہاڑوں میں رہنے والی دوسری بہت سی عورتوں کی طرح وہ نہ لکھ سکتی ہے، نہ پڑھ سکتی ہے۔ لیکن وہ سورج سے توانائی حاصل کرنے والے2وولٹ برقی نظام کی وائرنگ کرسکتی اور اسے چلا سکتی ہے۔ یہ سمجھ بوجھ جیسا کہ ہم نے اسے بتایا، اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا ہم اس کے بارے میں رکھتے ہیں۔

خوف ذدہ کرنے والا سفر

شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی کی پانچ مہینوں کی تربیت کے لیے پلکا اور اس کی سہیلیوں کا جنوب میں حیدر آباد شہر تک سفر اوڑیسہ ٹرائبل ایمپاورمنٹ اینڈ لائیولی ہُڈز پروگرام کے تحت کافی تگ و دو کے  بعد ممکن ہوا۔ پروگرام کے لیے ڈیفڈ نے مالی معاونت کی اور اس پروگرام کو اوڑیسہ کی حکومت چلا رہی ہے۔ سب سے پہلے پروگرام کے عملے کو پلکا اور دوسری عورتوں کو اس بات پر قائل کرنا پڑا کہ وہ بڑے شہرتک سفر کریں جہاں کوئی ان کی زبان نہیں بولتا تھا۔

"یہ بہت مشکل تھا" پروگرام ڈائریکٹر دیپک موہنتی نے بتایا،’’شروع میں تو یہ عورتیں اتنی پریشان تھیں کہ وہ ہماری موجودگی میں وہاں بیٹھنے سے بھی ہچکچاتی تھیں۔ ‘‘

"یہ سب بہت عجیب اور ڈراؤنا تھا۔‘‘ پلکا نے یاد کرتے ہوئے کہا،’’شہر کو جانے والی ٹرین ڈرا دینے والی تھی۔ ہمیں گھر کی یاد آئی۔ لیکن گاؤں کی اپنی مدد آپ کے تحت بنے ہوئے گروپ کی میں قائد تھی، مجھے جانا پڑا، اپنی برادری کے لیے۔ میرے شوہر نے اجازت دے دی کہ سب ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے تنبیہ کردی کہ وہاں کسی سے بات نہ کروں"۔

اب وہ یہ سب کچھ یاد کرکے ہنستی ہے۔ تربیت سخت تھی۔ انھیں انگریزی حروف تہجی اور اعداد یاد کرنے پڑے تاکہ سرکٹ کی ڈائیگرام سمجھ سکیں۔ لیکن اب پلکا ایک تربیت یافتہ الیکٹریشن کی طرح چمٹیاںاور ملٹی میٹر کو چلاتی ہے۔

شاید اگر آپ کو بجلی کے بغیر رہنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ تنگناپت کی تعریف کرپائیں گے کہ کیسے وہ پچھلے چند سالوں میں تبدیل ہوگیا۔ شمسی پینلوں نے زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر اثر ڈالا ہے، گو سبھی پہلوؤں پر نہیں۔

پہلے پہل گاؤں والے کیروسین بچا تے تھے اپنے تیل کے دیوں کے لیے۔ کیروسین ایک مہنگی شے ہے اور اس سے آگ لگنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔

اب چمکدار اور ایک سے دوسری جگہ منتقل کی جا سکنے والی روشنیاں دست کاری کے کام میں ان کی مدد کرتی ہیں جیسے جھاڑو بنانا، وہ یہ کام سارا دن کرسکتے ہیں اور صرف دن کی روشنی میں ہی نہیں۔ بچے رات کو اپنے سکول کا کام کرسکتے ہیں۔ اور خاص طور پر ان خاندانوں کے پاس، جو مسلسل بھوک کا شکار رہتے ہیں، اب زیادہ وقت ہوتا ہے کہ وہ کھیتوں میں کام کر سکیں۔ لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔

عوام کی طاقت

تنگناپت کے گرد موجود پہاڑوں میں پائیلون بڑے ہیں جو انڈیا کے شہروں میں ہائیڈرو الیکٹرک توانائی لاتے ہیں لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ خود گاؤں اس توانائی سے محروم ہے۔ اگرچہ انڈیا کی حکومت نے تمام دیہاتی علاقوں میں بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد سست ہے اور یہ مہنگا بھی ہے۔کوئی انیس سال پہلے تنگناپت میں بجلی لانے کی تیاری ہوئی تھی لیکن تاریں چوری ہوجانے سے ایسا ممکن نہیں ہوا۔

اب گاؤں والوں کے پاس توانائی ہے جسے وہ بچا کر رکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ لوگوں میں ’موسمی تبدیلی‘ سے متعلق آگاہی موجود نہیں ہے لیکن وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے پہاڑوں میں کیا ماحولیاتی مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔آموں کے قیمتی درختوں کے علاوہ قریب قریب ہر بڑا درخت آگ جلانے یا تجارتی مقاصد کے تحت کاٹ دیا گیا ہے۔

تنگناپت میں منصوبے کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ شمسی توانائی ضلع بھر میں پھیلائی جا سکتی ہے۔ وہاں 127 ایسے دوسرے گاؤں موجود ہیں جہاں تنظیمی ’بلاک‘ بجلی کے بغیر ہیں اور جہاں روایتی بجلی کے پہنچنے میں پانچ ایک سال لگیں گے۔ سبز توانائی کے ذرائع کی تلاش کے لیے اوڑیسہ کی حکومت کی کوششوں میں شمسی توانائی ایک اہم مقام حاصل کرچکی ہے۔ اسی سال وہاں کی حکومت نے بہت سے بڑے پیمانے کے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔

توانائی سے ماورا

تنگناپت کی خواتین مختلف اسکولوں اور اداروں کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والی تین ہزار لالٹینیں تیار کرنے کا معاہدہ کرچکی ہیں۔ ایک تربیت گاہ بھی قائم کردی گئی ہے تاکہ پہاڑی قبیلوں کے اور بھی لوگوں کو سکھایا جا سکے کہ کیسےاسٹریٹ لائٹس نصب کی جاتی ہیں اور گھریلو توانائی کے سسٹم بنائے جاتے ہیں۔ تربیتی مرکز کی دیوار پر ایک بینر پر فخریہ انداز میں لکھا ہے ، "عورتوں کی نئی کوآپریٹو تنظیم- اوڑیسہ ٹرائبل ویمن بیئر فٹ سولر انجینئرز ایسوسی ایشن"‘۔

ہم نے دیکھا کہ تربیت دینے والی میناکشی دیوان نےکیسے  ایک سولہ سال کی لڑکی جیانتی کو، جو کبھی اسکول نہیں گئی، شمسی لالٹین کی پیچیدہ وائرنگ کے بارے میں بتایا۔ اس دوران پلکا نے ایک بیس سالہ لڑکے کو یہ بتایا کہ ٹانکے لگانے والے سولڈرنگ آئرن کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ کوآپریٹو کو ہر لالٹین سے پچاس بھارتی روپے کی بچت ہوگی جو اس سے دوگنی ہے جو وہاں زیادہ تر لوگوں کی یومیہ کمائی ہے۔ بچے کے سکول کی کتابوں اور یونیفارم کے لیے دو سو روپے بہت سے کنبوں کے بجٹ کی برداشت سے باہر ہیں۔ ہرلا لٹین سے ایسوسی ایشن کو ایک سو پچاس روپے بچتے ہیں جنھیں وہ تربیتی ورکشاپ میں دوبارہ سے لگا دیتی ہے۔

کرشن چندر وادکا نے دھاتی ٹانکے لگانے کا سبق چھوڑ کر ہم سے بات چیت شروع کردی۔ وہ جو کچھ یہاں سیکھ رہا ہے، وہ اس کے اپنے کاروبار میں اضافے کا باعث بنے گا۔ "میں بھی یہ سب کچھ تیار کرنا چاہتا ہوں‘‘ اس نے کہا،’’شمسی توانائی کی بڑی مانگ ہے۔ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ کیسے اس سے روپے کی بچت ہوگی اور زندگی بھی آسان ہوجائے گی"۔‘‘

"یہ اچھی بات ہے،" اس نے کہا،"عورتیں ڈرتی زیادہ تھیں۔ لیکن اب وہ بہت پراعتماد ہیں۔ میں دیکھ سکتا ہوں کہ ان سے سیکھا جا سکتا ہے"۔

 پلکا کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ "جب میں نے دیکھا کہ ہم نے کیا کارنامہ کردکھایا ہے" ، یہ بات اس نے بعد میں بتائی،’’تو مجھے اپنی پوتی کی زندگی میں امید دکھائی دی۔‘‘

سولر انجینئر اور ٹرینر میناکشی اور ٹرینر انجیئنر روہم منیاکا کے تجربات کے بارے میں مزید پڑھئے

مل کر کام کرنا

"ڈیفڈ کے کئی ایک منصوبے اوڑیسہ کے دیہی علاقوں میں کام کر رہے ہیں جہاں حکومت کے ساتھ مل کر وہ روزگار، غربت اور بارشوں کی قلت کے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کررہا ہے۔ ‘‘ یہ بات ڈیفڈ کے روزگار سے متعلق ایک دوسرے منصوبے کے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر پیٹر ریڈ نے کہی،"جو بات میرے لیے اطمینان کا باعث ہے، وہ یہ ہے کہ برادریوں میں آپسی یگانگت میں اضافہ ہورہا ہےخاص طور پر عورتوں کے درمیان۔ یہ سب سے اہم بات بھی ہے کیوں کہ سماجی یگانگت انسانوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ صدمات کو برداشت کرسکیں۔ اس سے انھیں مالی وسائل، معلومات اور مہارتوں تک رسائی بھی ملتی ہے اور انھیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ موسمی تبدیلی کے چیلنجز کے مطابق عمل کریں"۔

ڈیفڈ کی مالی امداد سے چلنے والا پراجیکٹ  اگلے سال ختم ہوجائے گا۔یہ بات اوڑیسہ میں ڈیفڈ کی نمائندہ سپریا پٹنائک نے بتائی۔ " لیکن جب ہم اس سے علیحدہ ہوں گے تو یہ سب کچھ یونہی چلتا رہے گا۔ کیوں کہ اب یہ حکومت کا سب سے بڑا منصوبہ بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہماری شراکت داری کتنی مؤثر ہے۔ اور یہ کہ جن تبدیلیوں کے رونما ہونے کے لیے ہم نے کوشش کی تھی، وہ مستقل ثابت ہوں گی۔ ‘‘