ایڈوانس تلاش
image
عالمی امور
   
Last updated at 12:03 (UK time) 24 Nov 2011

سرسبز و شاداب انگریزی قصبے میں عزت کے نام پر قتل

زن، زر، زمین

لینڈ، گولڈ، ویمن‘ بولی و و ڈ کی عمومی کہانی نہیں ہے: سرسبز و شاداب انگریزی قصبے میں عزت کے نام پر قتل۔

ممبئی بھارت کی فلمی صنعت کا مرکز ہے جہاں ہر سال سینکڑوں بولی ووڈ فلمیں تیار کی جاتی ہیں۔ اہم بھارتی تہوار دیوالی سے کچھ ہی پہلے انتہائی بڑے بجٹ کے ساتھ بننے والی فلموں میں سے ایک فلم ’را ۔ ون‘بھارت اور لندن میں سینماؤں میں ریلیز ہوئی ہے۔ بتایاجاتا ہے یہ فلم تیس ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہوئی ہے  جب کہ اس میں کام کرنے والے اداکاروں میں بولی ووڈ کے سب سے اہم اداکار شاہ رخ خان شامل ہیں۔

لینڈ، گولڈ، ویمن‘ بولی ووڈکی عمومی کہانی نہیں ہی۔

اسی دوران میں جب کہ راون کی تشہیر کا کام جاری ہے، ایک مختلف طرح کی فلم جسے بنانے والوں میں بھارتی لوگ شامل ہیں،ممبئی میں ریلیز کی گئی ہے،’لینڈ، گولڈ، ویمن‘۔اس کی ہدایت کار بھارتی شہری اوینتیکا ہری ہیں جنہوں نے فلم سازی کی تربیت لندن سے حاصل کی۔

لینڈ، گولڈ، ویمن‘ مکمل طور پر برمنگھم میں فلمائی گئی ہے اور اس میں بولی ووڈ کے مخصوص ٹوٹکے، رقص اور تقریباً ناگزیر طور پر ہونے والا خوش گوار انجام وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے بجائے 95منٹوں کی فلم میں بہت متاثر کن اور زور دار انداز میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے پنجاب سے ایک رشتہ دار کی آمد کے بعد یونیورسٹی کے بھارتی برطانوی پروفیسر کی بظاہر خوش گوار گھریلو زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے۔ وہ اپنی سترہ سالہ بیٹی کی شادی کرانا چاہتے ہیں۔ اہل خانہ کو پتا چلتا ہے کہ اس ٹین ایج لڑکی کا ایک انگریز دوست بھی ہے اور جلد ہی اس جوڑے کے گھر سے بھاگنے کی وجہ سے صورت حال ڈرامائی رخ اپنا لیتی ہے۔

جوڑے کا پولیس اسٹیشن میں جا کر مدد مانگنا سود مند ثابت نہیں ہوتا۔ لڑکی اپنے باپ کو بلانے اور گھر لوٹنے کا فیصلہ کرتی ہے جس کے نتائج اس جوڑے کے وہم و گمان سے بھی باہر ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے والدین کی پیچیدگی سے واقف ہوتے ہوئے جونہی اپنے باپ کے گلے لگتی ہے، اسے عزت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔ لڑکی کی ماں ایک منظر میں جو ہچکاک کی سنسنی خیز فلموں کا سا لگتا ہے، پریشانی کے عالم میں سرسبز و شاداب برمنگھم کے مضافات میں اپنے چار بیڈرومز والے گھر میں باورچی خانے کو صاف کرتی دکھائی دیتی ہے کیوں کہ ہال میں انتہائی سفاکانہ قتل کی واردات ہوئی ہوتی ہے۔

نہایت عمدہ طریقے سے فلم میں ساتھ ساتھ لڑکی کے مجرم ثابت ہونے والے قاتل یعنی اس کے باپ کی اپنے وکیل کے ساتھ گفتگو بھی شامل کی گئی ہے۔ انگریز بیرسٹر اور اس کا پاکستانی نژاد برطانوی اسسٹنٹ عزت کے نام پر ہونے والے اس قتل سے پیدا ہونے والی اخلاقی برہمی اور اس نقطے پر  بات کرتے ہیں کہ کیا اس واقعے کے دفاع میں کوئی دلیل دی جا سکتی ہے یا دی جانی چاہئے؟

ممبئی کے نیشنل سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس میں’لینڈ، گولڈ، ویمن‘دیکھنے کے بعد فلم بینوں کے جذبات نارمل ہونے پر فلم کی ہدایت کار سے کی جانے والی گفتگوہوئی جوہم میں سے بہت سوں کے لیے گہری بصیرت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خیال سے قطع نظر کہ برطانیہ میں ایسے قتل کبھی نہیں ہوسکتے ہیں، سال بھرمیں ایسے کئی واقعات ہوتے ہیں جب کہ مختلف مذہبوں اور ثقافتوں والے بہت سے ملکوں میں ایسے واقعات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

میرا خیال ہے کہ میں اکیلی نہیں تھی جو اسکرین پر ایسی بربریت کا مظاہرہ دیکھنے کے بعد صدمے کی کیفیت میں تھیئٹر سے باہر نکلی۔اس فلم نے اس معاونت کی اہمیت پر یکسر نئے زاویے سے روشنی ڈالی ہے جو ممبئی سمیت بھارت میں ہماری کونسلر ٹیم جبری شادیوں یا اس سے بھی سنگین زیادتیوں کے خدشے میں مبتلا خواتین کو فراہم کرتی ہے۔