وزارت خارجہ کے وزیرآئیون لوئیس نے لیلی صابرہ کی ہمت کی داد دی ہے جس نے اپنی دو سالہ بچی عائشہ ، جسے پچھلے سال مصر میں اس کے باپ نے اغوا کرلیا تھا، کو پھر سے حاصل کرنے کے لیے جنگ لڑی ۔
جی ایم ٹی وی پر بات کرتے ہوئے آئیون لوئیس نے کہا کہ"لیلی شدید تناؤ اور اضطراب کا شکار ہے۔ وہ غیر معمولی طور پر بہادر اور جرات مند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصری انتظامیہ نے عائشہ کو بازیافت کرنے اور اسے لیلی تک پہنچانے میں غیر معمولی مدد کی۔ بعض اوقات سال ہا سال ایسے معاملات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔عدالتی کارروائی مسلسل مایوس کن ہورہی ہے"۔
آئیون لوئیس جنوری میں مصری وزیر داخلہ سے ملے اورانہوں نے اس معاملے سے متعلق ہماری تشویش ان تک پہنچائی تھی۔
عائشہ کو اس کے باپ نے ہرغدہ، مصر میں تب اغوا کیا تھا جب وہ اپنی ماں کے ساتھ اپنے خاندان میں موجود تھی۔ شدید سفارتی اور قانونی جدوجہد کے بعد لیلی اور عائشہ 21جنوری کو بالآخر پھر سے ایک دوسرے سے مل گئیں۔ وہ بچے کی سرپرستی سے متعلق کیس کے حتمی نتیجے کا انتظار کررہی ہیں۔
وزارت خارجہ میں ’چائلڈ ایبڈکشن سیکشن‘ موجود ہے جو ان والدین کو مدد فراہم کرتا ہے جن کے بچے کو اس کی والدہ یا والد نے اغوا کرلیا ہو یا چھٹی کے دن کے بعد بھی اسے نہ لوٹایا ہو۔ یہ سیکشن اغوا کیے جانے والے بچوں کے والدین کو مشورے بھی فراہم کرتا ہے اور اس سے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: 0878 800 0207
2008/9 میں چائلڈ ایبڈکشن سیکشن نے بچوں کے اغوا سے متعلق 196نئے کیسز پر کارروائی کی جن میں سے زیادہ تر ان ملکوں میں وقوع پذیر ہوئے جنھوں نے ’ہیگ کنونشن آن دی سول ایسپیکٹس آف چائلڈ ایبڈکشن 1980‘ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔
برطانوی حکومت کسی دوسرے ملک میں عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی مجاز نہیں ہے لیکن قونصل خانے کا عملہ دوسرے ملک کی عدالت میں رابطہ کرسکتا ہے تاکہ کسی کیس سے متعلق اپنی دلچسپی کا اظہار کرسکے۔ اگر کسی غیر ملکی عدالتی حکم نامے پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہو تو ہم متعلقہ غیر ملکی انتظامیہ سے اس بارے میں بات کرسکتے ہیں۔
چائلڈ ایبڈکشن سیکشن والدین کومتعلقہ ملک میں موجود انگریزی بولنے والے وکیلوں کی فہرست اور مختلف رسوم و رواج اور قانونی نظام سے متعلق معلومات مہیا کرسکتا ہے۔
اگر یہ معلوم نہ ہو کہ بچہ کہاں ہے تو قونصل خانے کا عملہ بیرون ملک موجود امیگریشن انتظامیہ سے رابطہ کرکے معلوم کرسکتا ہے کہ آیا بچہ ملک میں داخل ہوا ہے یا نہیں۔ اگر بچے کے والدین میں سے کسی ایک نے وہاں پولیس کو بچے کی گم شدگی سے متعلق شکایت درج کرائی ہو تو وہ مقامی انتظامیہ سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں ۔
اگر بچے کی فلاح و بہبود سے متعلق کوئی تشویش ہو اور یہ معلوم ہو کہ بچہ کہاں ہے تو چائلڈ ایبڈکشن سیکشن قونصلر کے دورے کا اہتمام کرسکتا ہے بشرطیکہ اغوا کرنے والے والدین کی اجازت حاصل ہوجائے۔