ذرا تصورکریں کہ آپ ایک کم عمر(انیس سال سے کم) لڑکی ہیں۔آپکوشاید یہ فکرہوکہ پتا نہیں آپ کے اے لیول نتائج کیاہونگےیا جی سی ایس ای میں کیا گریڈزآئیں گے۔
پھر اچانک ایک دن آپ کوزبر دستی آپ کےآبائی ملک لے جایا جائے۔وہاں پہنچ کرآپ کا پاسپورٹ اور فون آپ سے لے لیا جائے۔آپ کو گھر میں بندکر دیا جائے اور ایک ایسے شخص سے شادی کرنے کے لئے مار مار کے مجبور کیا جائے جسے آپ نے پہلے کبھی دیکھا بھی نہ ہو۔اور پھر شادی کی رات آپ کی عصمت دری کی جائے۔
اس منظر میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کے گھر والے آپ کی مدد نہیں کررہے ، بلکہ یہ وہی ہیں جو آپ پر جبر کر رہے ہیں۔
جبری شادی یونٹ
ہمارا جبری شادی یونٹ ہر ہفتے اس قسم کے کیسوں سے نمٹتا ہے۔یہ یونٹ ہوم آفس کے ساتھ پارٹنر شپ میں قائم کیا گیا ہے اور دنیا بھر میں واحد سر کاری یو نٹ ہے جو جبری شادی کے بارے میں تحقیق کرتا ہے اور لوگوں کو اس سے فرار میں مدد دیتا ہے۔
فرح کی طرح کے لوگ،جسے اس کی مرضی کے خلاف پاکستان لے جایا گیا اورزبردستی شادی پر مجبور کیاجارہا تھا۔
ایک چال
اس کے گھر والوں نے اس سے کہاکہ وہ بر طانیہ میں اپنے بوائے فرینڈ سے شادی کر سکتی ہےاور پھر بہانے سے یہ کہہ کر پاکستان لے گئے کہ اس کے دادا مرنے والے ہیں۔جب وہ پاکستان پہنچی تو گھر والوں نے اس کا فون قبضے میں لے لیا اور اس سے کہہ دیا کہ اگلے چند روز میں اس کی شادی ایک اجنبی سے کر دی جائیگی۔
اس کے انکار کرنے پر اس کا اپنا بھائی اسے باقاعدگی سے مارتا پیٹتا رہا۔
شبہ
لیکن بر طانیہ میں اس کے بوائے فرینڈ کو شک ہوگیا کہ کچھ گڑ بڑ ہے ۔اس نے ہم سےاور مقامی پولیس سے رابطہ کیااور بتایا کہ فرح کو اس کی مرضی کے خلاف مجبور کیا جارہا ہے۔
جبری شادی یونٹ اوراسلام آباد میں بر طانوی ہائی کمیشن میں ہمارے عملےنے فرح سے اس کے گھرکے فون پر رابطہ کیا ۔ جب ہم نے اس سے بات کی تو اس نے کہاکہ نہ تو اس سے برا سلوک کیا جارہا ہے اورنہ ہی اسے شادی پر مجبور کیا جارہا ہے، لیکن ہمیں شک ہوگیا کہ وہ ہم سے کھل کر بات نہیں کرپا رہی ہے۔چنانچہ ہم نے اسے اپنا ٹیلی فون نمبر دے دیا اور اس کیس فائل کو بند نہیں کیا۔
درخواست
اسی روز بعد میں فرح نے اپنی ایک دوست کے گھر سے ہمیں فون کیا اور حقیقت بتائی ۔اس نے یہ بھی بتایا کہ جب ہم نے اسے فون کیا تھا تو اس کا بھائی کمرے میں موجودتھا اور لکھ لکھ کراسے دے رہا تھا کہ وہ ہم سے کیا بات کرے۔فرح نے ہم سے التجاکی کہ ہم اسےاس مصیبت سے نجات دلائیں جس میں وہ گرفتار ہے۔
ہمارابازیابی آپریشن حرکت میں آیا اور 48 گھنٹےکےاندر ہمارا عملہ فرح تک پہنچ گیا اوراسے بازیاب کراکے اسلام آبادلے آیاگیا ۔اس کے جسم پر ضربوں کے واضح نشانات تھےجہاں اس کے بھائی اور ماں نے اسےماراتھا اور وہ انتہائی تکلیف میں تھی۔
ادھر بر طانیہ میں جبری شادی یونٹ نے اسکے بوائے فرینڈسےفرح کی واپسی کے لئے ٹکٹ کی رقم بھجوانے کے لئے کہا۔اگلے روزوہ دونوں ائر پورٹ پراکھٹا تھے اور اب خوش و خرم شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں۔
کیا آپ کوعلم ہے؟
· جبری شادی یونٹ ہر سال تقریبا 300کیس نمٹا تا ہے
· ایک تہائ متا ثرہ افراد کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے
· متا ثرین میں 15فی صد تعداد مردوں کی ہوتی ہے
· لندن میں ہمارا کل وقتی عملہ چھ افرادپرمشتمل ہےجو دنیا بھر میں ہمارے کونسلرعملے کے ساتھ کام کر تا ہے۔
· ہمارے زیادہ تر کیس پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہمیں آئر لینڈاور ناروے جیسے غیر متوقع مقامات پر بھی کیسوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
· ہم صرف بیرون ملک ہی نہیں بر طانیہ میں بھی لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
اگر آپ جبری شادی کا شکار ہوئے/ ہوئی ہیں تو ہم آپ کے شریک حیات کو بر طانیہ کا ویزا حاصل کرنے سے روک سکتے ہیں
اگر جبری شادی کا کوئ کیس آپ کے علم میں آئے یا آپ رازدارانہ طور سے مشورہ کر نا چاہیں تو جبری شادی یونٹ سے فون
0151 7008 020 یا ای میل پر رابطہ کریں: