ایڈوانس تلاش
image
عالمی امور
   
Last updated at 11:01 (UK time) 1 Jul 2010

جبری شادی: 20 فی صد شکارمرد ہیں

Jeremy Brown MP. Crown copyright.

گزشتہ برس مردوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے جبری شادی کا شکار ہونے کے نتیجے میں آج وزرا نے برطانوی مردوں کو خبردار کیا ہے۔

گزشتہ برس حکومت کے قائم کردہ فورسڈ میرج یونٹ کو  2008 ء کی 134 کے مقابلے میں 220 کالیں موصول ہوئیں، یہ اضافہ 65 فی صد تھا۔

لیکن یونٹ کا کہنا ہے کہ یہ اعداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں کیونکہ لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے سلسلے میں پورے کیسز سامنے نہیں آتے۔

گزشتہ برس جبری شادی یونٹ کے پاس 1682 کیس رپورٹ کئے گئے جن میں لڑکوں کی تعداد 14 فی صد تھی۔

اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہرسال در حقیقت تقریبا 10000 برطانوی شہری جبری شادی کا نشانہ بنتے ہیں جن میں سے لڑکوں کی تعداد 20 فی صد کے لگ بھگ ہوتی ہے۔

ان میں سے اکثر کا تعلق مشرقی ایشیا خاص طور پر پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش سے ہوتا ہے۔

جبری شادی کا شکار اکثر قید کرکے جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں اور اگر وہ اپنے گھر والوں کی خواہش پوری کرنے سے انکار کر دیں تو انہیں دوسرے ملکوں میں بھجوادیا جاتا ہے ۔

مردوں کو خاص طور پر اس لئے جبری شادی کا شکار بننا پڑتا ہے کیونکہ ان کے اہل خانہ ان کی ہم جنس پرستی کو قبول نہیں کرتے۔ دوسرے کیسوں میں جائیداد، ویزاکا حصول یا خاندان کی دوسری توقعات وجہ بنتی ہیں۔

اکثر کیسوں میں افراد کی عمر 15 سے 24 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

لیکن جبری شادی یونٹ کوجو وزارت خارجہ اور ہوم آفس کا مشترکہ یونٹ ہےیہ تشویش ہے کہ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ جبری شادی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا شکار مرد بھی ہوتے ہیں۔

گرمیوں کی تعطیلات شروع ہونے کے ساتھ جب نوجوانوں کو ان کی مرضی کے خلاف بڑی تعداد میں برطانیہ سے باہر لے جایا جاتا ہے، وزرا اس کے خلاف شعور بیدار کرنے کی کوششیں شروع کر دیتے ہیں۔

جبری شادی یونٹ کے کیس ورکر مدد کے لئے موجود ہوتے ہیں اور جبری شادی کا شکار ہونے والے یا ان کے دوست یا عزیز یونٹ کے ذریعے فورسڈ میرج پروٹیکشن آرڈر کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔

وزارت خارجہ کے وزیر جیریمی براؤن نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ کمیونٹیز اس مسئلے پر توجہ دیں اور انہوں نے اس کا شکار ہونے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ آواز اٹھائیں۔

"لڑکے اور مرد جب جبری شادی کاشکار ہوتے ہیں تو ان کے لئے لڑکیوں کی نسبت مدد طلب کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ہم جبری شادی سے متاثرہ لڑکوں اور مردوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ سامنے آئیں اور جو مدد دستیاب ہے اس سے فائدہ اٹھائیں"۔

جیریمی براؤن نے مزید کہا" بلاشبہ جبری شادی کا شکار خواتین زیادہ ہوتی ہیں اور گزشتہ برس 1400 ایسے کیسز یونٹ کے سامنے آئے۔

نوجوانوں میں کام کرنے والےکسی بھی پیشہ ور شخص کو اگر شبہ ہو کہ ان میں سے کوئی جبری شادی کا شکار بننے والا ہے تو انہیں فورا فورسڈ میرج یونٹ سے رابطہ کرنا چاہئیے"۔

فورسڈ میرج یونٹ سے رازدارانہ گفتگو کے لئے:

  پر ای میل کیجئیے۔ fmu@fco.gov.uk یا     020 7008 0151 / 020 7008 0151