وزارت خارجہ نے انتباہ کیا ہے کہ اپنےبچے کو بغیر اپنے شریک حیات کی مرضی کے بیرون ملک لے جانا برطانوی قانون کی رو سے اغوا کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
وزارت خارجہ کے بچوں کے اغوا سیکشن(چائلڈ ایبڈکشن سیکشن) کے مطابق بچوں کےاغوا کے بین الاقوامی واقعات موسم گرما میں زیادہ ہو جاتے ہیں جن میں بغیر شریک حیات کی مرضی کے یا کورٹ آرڈرکی مخالفت کرتے ہوئے کسی بچے کو غیر ملک لے جایا جاتا ہے۔
کئی کیسوں میں والدین یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بچے کو اپنے آبائی ملک میں چھٹیوں کے لئے لے جارہے ہیں اور وہ پھر واپس نہیں آتے۔
پریشانی کی بات یہ ہے کہ والدین کو عام طور پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ انہوں نے بچے کے اغوا کا جرم کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی کرائی ہوئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ لوگوں کی تہائی تعدادکو یہ علم نہیں کہ اگر آپ اپنے بچے کو بغیر اپنےشریک حیات کی مرضی کے بیرون ملک لے جائیں تو برطانوی قوانین کی رو سےیہ ایک جرم کہلایا جا سکتا ہے۔
وزارت خارجہ کے بچوں کے اغوا سیکشن نے اپریل 2009 ء اور مارچ 2010 ء کے دوران بچوں کے اغوا کے 200 سے زائد کیس کئے ۔ان میں سے کئی کیس میں وہ ملک ملوث ہوتے ہیں جنہوں نے 1980 ء کے ہیگ کنونشن کی توثیق نہیں کی ہوتی جہاں والدین کو بچوں کو واپس لانے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔نان ہیگ ممالک جیسے پاکستان، بھارت، تھائی لینڈ، نائیجیریا اور گھانا میں اغوا کر کے لے جائے جانے والے برطانوی بچوں کی تعداد میں 39 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
وزارت خارجہ کے وزیر برائے کونسلر پالیسی جیریمی براؤن نے کہا
"والدین کے ہاتھوں بچوں کا بین الاقوامی اغوا خواہ وہ ارادی ہو یا نہیں خاندانوں کے لئے بے پناہ پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔
اگر کوئی ماں یا باپ اپنے بچے کو کسی نئے ملک میں لے جاکر بساناچاہتاہوتو انہیں یا تو اپنے شریک حیات یا پھر برطانوی عدالت کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں والدین کے ہاتھوں بچوں کے اغوا کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔جو والدین اس معاملے میں پریشان ہوں انہیں خصوصی قانونی مشورہ لینا یا ہمارے چائلڈ ایبڈکشن سیکشن اور ری یونائٹ چیرٹی سے رابطہ کرنا چاہئیے، جو انہیں وہ معلومات فراہم کر سکتے ہیں جن سے اغوا کو روکا جا سکتا ہے یا اگر بچے کو بیرون ملک لے جایا جا چکا ہو تو والدین کے درمیان جھگڑے کوسلجھایا جا سکتا ہے۔
ایسے کیس بھی ہمارے سامنے آتے ہیں جہاں برطانوی شہری بیرون ملک قیام کے دوران آپس میں اختلاف کی صورت میں بچے کو لے کر برطانیہ لوٹ آتے ہیں۔ اسے بھی اغوا میں شمار کئے جانے کا امکان ہے۔ عام طور پر ایک باپ یا ماں کو بچے کے دوسرے پیرنٹ سے یا پھر عدالت سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے قانونی مشورہ لینا بہت اہمیت رکھتا ہے۔
اگر آپ کو یہ خدشہ ہے کہ آپ کے بچے کو اغوا کرکے بیرون ملک لے جایا سکتا ہے تو آپ:
· کسی وکیل سے مشورہ کرکے حکم امتناعی (یا اس کے مساوی کوئی حکم جو برطانیہ میں اس مقام کی مناسبت سے ہوگا جہاں آپ رہائش پزیر ہیں) حاصل کرلیں جس سے آپ کے بچے کو برطانیہ سے باہر لے جانے پر پابندی عائد ہو جائے گی۔
· اغوا کے فوری خدشےکی صورت میں( اگلے 24 یا 48 گھنٹے میں) پولیس سے رابطہ کیجئیےجو تمام پورٹس کو الرٹ کردے گی اور بچے کے باہر جانے کو روکا جاسکے گا۔انگلینڈ اور ویلز میں پولیس کو پورٹ الرٹ کے لئے کورٹ آرڈر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ اسکاٹ لینڈ کی پولیس کو کورٹ آرڈر درکار ہوتا ہے
· بچے کے پاسپورٹ کو محفوظ جگہ پر رکھئیےاور آئیڈینٹٹی اینڈ پاسپورٹ سروس کو (دہری شہریت کی صورت میں متعلقہ مقامی سفارت خانے کو) درخواست دے دیجئیے کہ آپ کی اجازت کے بغیر بچے کا دوسرا پاسپورٹ نہ جاری کیا جائے۔