ہر دوسرے روز ایک برطانوی بچے کو اس کا باپ یا ماں اغوا کرکے ایک ایسے ملک لے جاتے ہیں جس نے بین الاقوامی سطح پر والدین کے ہاتھوں بچوں کے اغوا سے متعلق ہیگ کنونشن 1980 ء پر دستخط نہیں کئے ہوتے۔ یہ نئی تحقیق آج وزارت خارجہ نے شائع کی ہے۔
یہ اعداد و شمار حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ ہونگے کیونکہ کئی کیس سامنے نہیں آتے۔
تازہ ترین اعداد وشمار نئے کیسوں کی تعداد میں 10 فی صد اضافے کا پتا دیتے ہیں جو 11/2010ء میں وزارت خارجہ نے حل کئے۔ ان اعداد وشمار کا اجرا بچوں کے اغوا کے بچاو کی مہم کے آغاز پر کیا گیا ہے۔
شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے واقعات اسکول کی چھٹیوں کے دوران ہوتے ہیں جب والدین میں سے کوئی ایک اپنے آبائی وطن سے بچے کو واپس برطانیہ بھیجنے سے انکار کردیتا / دیتی ہے۔
وزارت خارجہ کے اعداد و شمار سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا بڑھ گیا ہے
گزشتہ برس وزارت خارجہ نے 'نان ہیگ' ممالک میں 97 کیس حل کئے جن میں افغانستان سے لے کر زمبابوے شامل تھے۔یہ وہ ملک ہیں جنہوں نے ہیگ کنونشن 1980ء پر دستخط نہیں کئے ہوئے ہیں اور ان سے بچوں کی واپسی پر بات چیت بڑی پیچیدہ ہو تی ہے کیونکہ بچوں کی واپسی کے لئے کوئی بین الاقوامی معاہدہ نہیں ہے۔
وزارت خارجہ کے وزیر جیریمی براون نے بتایا کہ یہ مہم لوگوں میں مزید شعور پیدا کرے گی کہ اگر ان کا بچہ خطرے میں ہے تو وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔۔
'' ہمیں بہت تشویش ہے کیونکہ ہم عالمی سطح پر بچوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ تازہ ترین اعداد وشمار سے پتا چلتا ہے کہ اس مسئلے سے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق لوگ متاثر ہورہے ہیں صرف خاص قسم کے خاندان یا کسی مخصوص ملک کے لوگ نہیں۔ اگر بچے کو کسی نان ہیگ ملک لے جایا جائے تو مسئلہ حل کرنا مشکل ہوجاتا ہےکیونکہ اس ملک میں کوئی عالمی قانون ایسا نہیں جس سے آپ مدد لے سکیں۔ اسی لئے بچاو بہت اہم ہے۔ وزارت خارجہ اپنی ہر ممکن کوشش کرے گی کہ مشورہ اور تعاون فراہم کرے لیکن ہمارا کردار بہت محدود ہے، کیونکہ ہم کسی دوسرے ملک کے قوانین میں مداخلت نہیں کر سکتے"۔
بچون کااغوابین الاقوامی سطح پر
ری یونائٹ