عورتوں پر تشدد کے خا تمے کا عالمی دن یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ایک ایسے مسئلے پر توجہ مرکوز کریں جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ملکوں میں عورتوں کو درپیش ہے۔
’ مجھے یاد ہے یہ سوچنا کہ کوئی مجھے ایک اور آئینہ دے کیوں کہ یہ آئینہ تو بالکل ٹوٹ چکا ہے.
میں بس یہی چاہتی تھی کہ اس آئینے کو اپنے چہرے پر دے ماروں، اپنے چہرے کو کاٹ کر رکھ دوں اور ہر شے کو چیر پھاڑ دوں’.
ماڈل کیٹی پائپر اپنے ساتھ ہونے والے تیزاب چھڑکنے کے ہولناک واقعے کو یاد کرکے اذیت محسوس کرتی ہے ۔یہ تیزاب اس کے سابقہ بوائے فرینڈ نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کرنے اور مارنے پیٹنے کے بعد چھڑکا۔ یہ واقعہ اس سال برطانیہ کے میڈیا میں سامنے آنے والی چونکا دینے والی اسٹوریز میں سے ایک ہے۔
یہ حملہ مارچ 2008ء میں دن کی روشنی میں لندن میں ہوا جس سے وہ ایک آنکھ سے اندھی ہوگئی اور حلق کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے وہ کچھ بھی کھانے پینے سے قاصر تھی۔اسے علاج کے لیے تیس سے زائد بار آپریشن کے عمل سے گزرنا پڑا۔
وہ ان تیس لاکھ عورتوں میں سے ایک ہے جو ہر سال برطانیہ میں زنا، گھریلو تشدد، جبری شادی، انسانی خرید و فروخت یا کسی بھی اور طرح کے تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔
دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں تشدد کی کسی نہ کسی صورت میں مبتلا ہوتی ہے۔
ڈیفڈ صنفی مساوات کو بہتر بنانے کا عزم رکھتا ہے کیوں کہ یہی بہترین راستہ ہے غربت ختم کرنے اور خاص طور پر ذہنی صحت کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے میلینئم ترقیاتی ہدف حاصل کرنے کا۔
سیکرٹری داخلہ ایلن جونسن نے برطانیہ میں عورتوں پر تشدد سے نمٹنے کے لیے ایک شعبہ جاتی حکمت عملی کا اجراء کیا۔
وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا،"عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف تشدد بے حیائی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ ایسا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے اور تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کو تحفظ اور معاونت فراہم کی جائے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس رویے کو بھی چیلنج کیا جائے جو عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد کا باعث بنتا ہے"۔
ایک منصفانہ اور ذمہ دار برطانیہ میں کسی قسم کے تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
عالمی مسئلہ
لیکن یہ مسئلہ عالمی نوعیت کا ہے۔
عورتوں پر تشدد کی کئی صورتیں ہیں: متنازعہ اور غیر متنازعہ علاقوں میں، جنسی اور گھریلو زیادتی، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل،انسانی خرید و فروخت اور عورتوں کے جنسی اعضا کاٹنا۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سال ہا سال سے کی جانے والی معاونت اور مداخلت کے باوجود عورتوں پر تشدد کی سنگینی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا میں ہر دو میں سے ایک عورت اپنے گھر میں تشدد کا شکار ہوتی ہے۔
بین الاقوامی برادری کئی برسوں سے ان عورتوں کو معاونت فراہم کر رہی ہے جو تشدد کا شکار ہوئیں۔ قوانین اور پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے وہ پولیس کے ساتھ کام کررہی ہے اور عورتوں کی تنظیموں کی مدد کر رہی ہے۔
یہ سب بہت ضروری ہے لیکن ہمیں رویوں اور سوچوں کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ جن کے تحت معاشرے میں عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ خاص طرح سے سلوک کیا جاتا ہے۔
مردوں کو بھی مسئلے کو حل کرنے کے عمل میں شامل ہونا چاہئے اور انہیں صرف ایک مسئلہ یا مجرم ہی نہیں تصور کرنا چاہئے۔
یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں ڈیفڈ تشدد کو روکنے کی خاطر صنفی مساوات کے پروگراموں اور پالیسیوں میں مردوں اور لڑکوں کو شامل کرنے کے نئے نئے طریقے تلاش کرتا ہے۔
عورتوں کی حیثیت میں بہتری کی صورت میں بچوں کی صحت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے موجود اعداد و شمار کے مطابق عورتوں پر تشدد کم ہونے سے زائد وزن والے بچوں کی تعداد میں ایک کروڑ تیس لاکھ سے بھی زیادہ کمی واقع ہوگی۔
جنوبی ایشیا میں عورتوں کی خواندگی کی شرح مردوں کی 73فیصد شرح خواندگی کی نسبت صرف 52فیصد ہے۔ اس خطے میں موجود لیبر فورس میں عورتیں 37فیصد ہیں۔ زیادہ تر ان کی محنت کی اجرت نہیں دی جاتی اور ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔
ڈیفڈ کا جینڈر پالیسی فنڈ 2009ء میں شروع ہوا تھا اور اس کا مقصد اس خطے میں تین حوالوں سے عورتوں کے لیے کام کو آگے بڑھانا تھا: صنفی تشدد، غذائیت اور عورتوں کے لیے روزگار۔یہ فنڈ عورتوں اور مردوں کے درمیان رویوں اور سوچوں کو تبدیل کرکے صنفی بنیادوں پر کیے جانے والے تشدد کی روک تھام کرے گا جب کہ حکومتوں، سول سوسائٹی اور مختلف جہتی شراکت داروں جیسے عالمی بنک کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالیں۔
ایک پروگرام کی مدد سے جو ’ایسڈ سروائیورز فنڈ‘کے تحت شروع ہوا ہے، ڈیفڈ تیزاب کے حملوں کے بارے میں آگاہی بڑھانے، اور ایسے حملوں سے بچ جانے والوں کو طبی، مالی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنے میں مدد کرے گا۔
ڈیفڈ کے ساؤتھ ایشیا ڈویژن کے ڈائریکٹر جم ڈرمونڈ نے اس حوالے سے کہا،" ہمیں اس علاقائی فنڈ کی مدد سے جاری ہونے والے تین پروگراموں میں سے پہلے پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے۔ ‘‘
’’یواین پارٹنرز فار پری وینشن پروگرام‘ایشیا میں اقوام متحدہ کے ان مشترکہ منصوبوں میں سے ایک ہے جنھیں جاری کرنے کا مقصد خاص طور پر لڑکوں اور مردوں کو ساتھ ملا کر صنفی تشدد کے مسئلے پر قابو پانا ہے"۔
’یہ پروگرام پچھلے سال اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس بیان کے تجزیے کے بعد شروع کیا گیاکہ عورتوں پر تشدد کے اشاریوں میں اضافہ ہورہا ہے اور کہیں کمی نہیں ہوئی حالانکہ اس حوالے سے سال ہا سال سے کوششیں اور مدد کی جارہی ہیں'۔
ڈیفڈ کی معاونت سے 2005 میں ہونے والی دس ملکوں پر محیط ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ 12عورتیں حمل کے دوران تشدد سے دوچار ہوتی ہیں۔
جنوبی ایشیا میں ماؤں کی اموات کی تعداد ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں میں سے 500ہے ۔جب کہ افغانستان میں یہ شرح ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں میں سے1800 ہے۔
اسکول کی بنیادی تعلیم صنفی تشددکی ایک اور بدلتی ہوئی صورت ہے۔
جو لڑکیاں اسکول میں تشدد کا شکار ہوتی ہیں، وہ اسکول چھوڑ دیتی ہیں اور اس وجہ سے ان کے پھر سے سب کچھ شروع کرنے کے مواقع پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔
اس حوالے سے مالاوی میں ڈیفڈ کی معاونت سے ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ہر پانچ میں سے ایک لڑکی جنسی زیادتی کا شکار ہوئی اور ہر دس میں سے ایک لڑکی کے ساتھ زنا کیا گیا یا ایسا کرنے کی کوشش کی گئی۔
ڈیفڈ نے وہائٹ پیپر ’ہمارے مشترکہ مستقبل کی تعمیر‘میں صنفی تشدد پر اپنے کام کو ترجیحاً اہم قرار دیا جس سے ترقی پذیر ملکوں میں نتائج سامنے آرہے ہیں۔
طالبان کے دور میں افغانستان میں لڑکیوں کا اسکول جانا غیر قانونی تھا لیکن اب وہاں بیس لاکھ لڑکیاں سکول جاتی ہیں۔
ڈیفڈ کے اعلی عزائم میں سے ایک اہم ترین یہ ہے کہ ایسے ملکوں میں عورتوں کو مضبوط بنایا جائے جہاں ان کے پاس انتخاب کا حق نہیں، جس سے شادی ہورہی ہواس کے انتخاب کا بھی نہیں۔
مثال کے طور پر پاکستان، افغانستان اور تنزانیہ میں ڈیفڈ نے چھ لاکھ سے زائد عورتوں کو چھوٹے پیمانے کے قرضے اور دیگر مالی سروسز کی فراہمی کے لیے کام کیا ہے۔
ایک سے زائد جہتوں میں کام کرتے ہوئے ڈیفڈ اقوام متحدہ کے عورتوں پر تشدد کے خلاف معاہدے ’یو این کنونشن آن دی ایلیمینیشن آف آل فارمز آف ڈسکریمینیشن اگینسٹ ویمن‘کی حمایت جاری رکھے ہوئےہے۔ اس معاہدے کی عمر اس سال تیس سال ہوجائے گی۔
خاص طور پر برطانیہ نے برازیل، سیرالیون، نائیجیریا اور گھانا سمیت ترقی پذیر پارٹنر ملکوں میں سول سوسائٹی کی تبدیلی اور ایسے قوانین کے نفاذ کے لیے مدد کی ہے جو عورتوں کی حفاظت کریں۔
ترقی پذیر ملکوں میں ڈیفڈ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے کہ عورتوں کو مضبوط اور آزاد بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے تاکہ وہ تشدد کے آسیب پر غالب آسکیں، اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرسکیں اور اپنے ملکوں کو غربت کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے آگے بڑھ سکیں۔
بنیادی حقائق
نائیجیریا میں ڈیفڈ نے دو کروڑ ساٹھ لاکھ پاؤنڈ چھ شمالی ریاستوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے منصوبے کے لیے مہیا کیے جس سے وہاں ایک سال میں اسکولوں میں داخلے کی شرح میں 15فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان، نیپال اور افغانستان میں اسکولوں میں لڑکیوں کے داخلے کی شرح کم ترین ہے۔بنگلہ دیش میں بچوں کی دو تہائی سے بھی کم تعداد اپنی پانچ سالہ ابتدائی تعلیم مکمل کرپاتی ہے۔
بھارت میں حمل کے دوران مرنے والی ماؤں کی تعداد پوری دنیا میں حمل کے دوران مرنے والی ماؤں کے پانچویں حصے کے برابر ہے۔
چالیس فیصد افغانی عورتیں اٹھارہ سال سے پہلے ہی بیاہی جاتی ہیں اور ان میں سے ایک تہائی کے تب بچے بھی ہوجاتے ہیں۔
نیپال میں ڈیفڈ خصوصی طور پر لڑکیوں، دلّتوں اور جسمانی و ذہنی نقائص کے حامل بچوں کے لیے مدد فراہم کر رہاہے۔ پرائمری اسکول میں داخلے کی شرح اب 90فیصد ہے اور ان میں سے پچاس فیصد لڑکیاں ہیں۔
ڈیفڈ نے 88بچوں کو ویکسین دی ہے اور اس کے نتیجے میں بچوں میں مرنے کی شرح 40فیصد تک کم ہوئی ہے۔