ایڈوانس تلاش
image
عالمی امور
   

لیبیا: عوامی جدوجہد

برطانیہ کیوں مداخلت کر رہا ہے؟

اس سال کے شروع میں لیبیا کے عوام نے ایک مزید کھلے اور جمہوری معاشرے کے لئے پر امن احتجاج شروع کیا-قذافی اوران کی فورسز نے اس کا جواب عوام کے خلاف وسیع پیمانے پر تشدد کر کے دیا اور اس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہونے لگیں۔

فروری میں اقوام متحدہ نے اس بربریت کی مذمت کی اورمزید کارروائی کی دھمکی دی۔وسیع پابندیاں متعارف کی گئیں۔ عرب لیگ اور افریقی یونین میں لیبیا پر اتنی تنقید کی گئی جس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی اور لیبیا کے جرائم کو عالمی عدالت انصاف تک لے جایا گیا۔

لیبیاوہ پہلا ملک بن گیا جسے انسانی حقوق کونسل سے معطل کردیا گیا۔لیکن قذافی نے ان سب اقدامات کو نظر انداز کردیا۔صورتحال مزید خراب ہوئی تو اقوام متحدہ نے 17 مارچ کو 'شہریوں کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات' کا اختیار دے دیا۔ یہ فیصلہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1973 کے عنوان سے جانا جاتاہے۔

اس قرارداد میں مندرجہ ذیل باتیں شامل ہیں:

·          قذافی کی طرف سے فوری حملے روکنے کا مطالبہ

·          نو فلائی زون کانفاذ تاکہ قذافی کی فضائیہ شہریوں پر حملے نہ کر سکے

·          قذافی کی حکومت پر  مزید پابندیاں

قرارداد میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی قابض فوج بھیجنے کو واضح طور پر خارج از امکان قراردیا گیا ہے۔

فوجی کارروائی

لیبیا میں برطانوی فوجی شمولت کا فیصلہ آسانی سے نہیں کیا گیا۔یہ اس لئے کیا گیا کیونکہ یہ لیبیائی عوام کے تحفظ کے لئے ضروری تھا۔ پوری کابینہ اور اراکین پارلیمنٹ کی وسیع اکثریت نے اتفاق کیا کہ یہ درست اقدام تھا۔اہم بات یہ ہے کہ ہماری کارروائی کو اقوام متحدہ کی قانونی حمایت حاصل ہے اور عرب لیگ کا تعاون بھی۔

اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد جو ہم کروارہے ہیں، ضروری، قانونی اور درست ہے۔ضروری اس لئے کہ قذافی حکومت اقوام متحدہ کی قرارداد 1973 کی مخالفت کرتے ہوئے عوام پر ظلم جاری کئے ہوئے ہے۔ قانونی اس لئے کہ ہمیں اقوام متحدہ کی واضح قرارداد دی گئی ہے جو شہریوں کے تحفظ کے لئے'تمام ضروری اقدامات' کا اختیار دیتی ہے۔ اور درست اس لئے کہ مداخلت ہمارا اخلاقی فرض ہے۔

ہمارا مقصد لیبیا میں قذافی اور اس کی فوج کے ہاتھوں معصوم شہریوں کا قتل عام روکنا ہے۔اس ہدف کے حصول کے دوران میں شہریوں کو نقصان پہنچنے سے گریز بھی کرنا ہے۔

اب لیبیا کی حکومت دباو میں ہے۔ان سے جو تقاضا ہے وہ واضح ہے: ایک حقیقی جنگ بندی ہو، شہریوں کے خلاف تمام حملے روکے جائیں، شہروں سے مسلح فوج واپس بلائی جائےاور انسانی امداد کے لئے مکمل دسترس دی جائے۔جب اقوام متحدہ کے یہ تمام مطالبے پورے کر دئیے جائیں گے تو شہریوں کے تحفط کے لئے کئے جانے والے تمام فضائی حملے بند کر دئیے جائیں گے۔ تمام دنیا اس بات پر متفق ہے کہ قذافی حکومت اپنا جواز کھو چکی ہے اور اسے جانا ہوگا۔تاکہ لیبیا کے عوام کو اپنے مستقبل پر اختیار حاصل ہو سکے۔