عرب- اسرائیلی تنازع پر ہمارا موقف واضح ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ غربت ، عدم تحفظ اور مایوسی کی جگہ امید اور سلامتی آجائے۔ہمارا یقین ہے کہ 1967 ء کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کا کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ایک جمہوری اور قابل عمل فلسطینی ریاست جو ایک محفوظ اسرائیل کے پہلو میں ہو اور اسرائیل حملوں سے محفوظ ہو اور اس کے پڑوسی اسے تسلیم کریں۔ یروشلم دونوں کا دارالحکومت ہو جس میں پناہ گزینوں کی جائز آبادکاری کی جائے۔
عرب امن انی شئیٹو ان اہداف کی جانب پیش رفت کے لئے ایک بہترین بنیاد ہے۔ہم اپنے پارٹنرز کےجن میں یورپی یونین اور امریکا شامل ہیں، ساتھ ملکر امن عمل کے لئے سرگرمی سے کوشش کر رہے ہیں۔
11 مئی 2009 ءکو فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مشرق وسطی پر بحث میں شرکت کی تھی ، جس میں انہوں نے اس خطے میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے جراتمندانہ فیصلوں کا مطالبہ کیا تھا۔
دو ریاستی حل
ہمیں یقین ہے کہ اس علاقے میں جامع امن ہی پائیدار ہو سکتا ہے۔ امن جو خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے ہو جسے اسرائیل اور تمام عرب دنیا کے درمیان امن سے طاقت ملے۔ دوسرے الفاظ میں 23 ریاستی حل جس میں 22 عرب لیگی اراکین اور ایک اسرائیلی ریاست شامل ہو۔
غزہ کے حالیہ بحران نے مشرق وسطی میں پائیدار امن کی فوری ضرورت کو مزید واضح کیا ہے۔ہم اپنے یورپی اتحادیوں اور امریکا کے ساتھ مل کر جامع امن کے لئے کوشش جاری رکھیں گے۔
دوریاستی حل کی کامیابی کے لئے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی دونوں کو پچھلے وعدوں کا پاس کرنا ہوگا۔ان میں ناجائز اسرائیلی مقبوضے اور مقبوضہ فلسطینی علاقے تک رسائی اور اس کے اندر آزادانہ نقل وحرکت کے باب میں کئے گئے وعدے شامل ہیں۔ اسرائیل اور عرب دنیا کو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لئےاب اعتماد کی بحالی اور زمینی صورتحال کی بہتری کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔
مقبوضہ جات
2003
ء میں دستخط شدہ روڈ میپ میں ایسے اقدامات کا تعین کیا گیا تھا جو فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کو ایک مذاکراتی تصفیے کے لئے اختیار کرنا تھے۔دونوں فریقین نے روڈ میپ پر دستخط کئے ہیں اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ اور صدر محمود عباس نے روڈ میپ میں کئے گئے اپنے وعدوں کی نومبر 2007ء میں اناپولس کانفرنس میں تجدید کی تھی۔
دوسری باتوں کے علاوہ ان ذمے داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اسرائیلی حکومت مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مقبوضہ آبادکاری کا سلسلہ بند کردے اور تمام مقبوضہ جات کو مسمار کردے۔
حکومت اس باب میں واضح ہے کہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں آبادکاری ناجائز ہے اور مسلسل جاری آبادکاری روڈ میپ میں کئے گئے اسرائیل کے عہد کی خلاف ورزی ہے۔ہم اس معاملے پر آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔فارن سکریٹری نے اسرائیلی وزیر خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ تمام توسیعی آبادکاری روک دیں جس میں نام نہاد' قدرتی پھیلاو'بھی شامل ہےاور وزیر اعظم نے یہی پیغام 25 اگست کو ملاقات میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کو دیا ہے۔یہ ھوصلہ افزا بات ہے کہ صدر بارک اوباما اور فارن سکریٹری ہلیری کلنٹن نے بھی واضح طور پر تمام آبادکاری روک دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہم ناجائز آبادکاری کی حوصلہ شکنی کے لئے تعمیری اقدامات کی تلاش پر کام کررہے ہیں اور یہ بھی یقینی بنارہے ہیں کہ برطانیہ اور یورپی یونین کی پالیسیوں سے آبادکاری کی غیر ارادی طور پر بھی حوصلہ افزائی نہ ہو۔
یروشلم
یروشلم کی حیثیت کئی عشروں سےبلکہ تاریخی اعتبار سےمتنازع رہی ہے۔۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ یروشلم اس کادارالحکومت ہے لیکن عالمی برادری اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔ اسرائیل میں برطانوی سفارتخانہ یروشلم میں نہیں بلکہ تل ابیب میں قائم ہے۔ مشرقی یروشلم میں ہماری ایک کونسلیٹ جنرل ہے جہاں ایک کونسل جنرل ہیں جو کسی ریاست سےتسلیم نہیں کرائے گئے۔اس سے ہمارا یہ موقف واضح ہوتا ہے کہ اس وقت یروشلم پر کسی ریاست کی حکمرانی نہیں ہے۔
دوریاستی حل کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ یروشلم اسرائیل اور نئی فلسطینی ریاست دونوں کا دارالحکومت ہو۔برطانیہ اس موقف پر قائم ہے۔
نقل و حرکت اور رسائی
ہمیں مغربی کنارے میں کئی اسرائیلی چوکیوں کے خاتمے سے حوصلہ ملا ہے جو فلسطینی سیکیورٹی فورسز کی واضح بہتری کا نتیجہ ہے۔اس کے نتیجے میں مغربی بنک میں رہنے والے کئی فلسطینیوں کے معیار زندگی اور فلسطینی معیشت کی بہتری کی صورت میں نکلا ہے۔
لیکن بعض چوکیاں اپنی جگہ موجود ہیں۔ فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر اسرائیلی حکومت کی پابندیوں سے سنگین انسانی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور مقبوضہ فلسطینی علاقے کی معشت پر اثر پڑا ہے۔
چوکیوں کا مسلسل استعمال، روڈ بلاک، کرفیو، پرمٹ نظام اور رکاوٹیں مغربی کنارے کے اندر فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کرتی ہیں۔
اسرائیلی رکاوٹیں
جہاں ہم اسرائیل کے اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کےحق کو تسلیم کرتے ہیں،یہ طویل عرصے سے ہمارا موقف ہے کہ رکاوٹیں اسرائیل کے اپنےعلاقے میں ہونا چاہئیں۔
منتخب راستوں پر رکاوٹ عالمی قوانین کے خلاف ہےاور اس سے ان راستوں کو استعمال کرنے والےفلسطینیوں کی زندگی اور ان کے روزگار پر برا اثر پڑتا ہے۔
وزارت خارجہ کے وزیرآئیوان لوئیس نے موسم گرما میں خطے کے دورے میں اسرائیلیوں پر اس باب میں زور ڈالا تھا۔
لیبیا کے عوام، اپنے حقوق کے لئے اقتدار کی قوتوں سے نبرد آزما ہیں اور برطانیہ کی حکومت اور عوام،اقوام متحدہ، عرب لیگ ، افریقی یونین اور تمام دنیاان کے ساتھ ہیں۔ ان صفحات پر ہم برطانیہ کے رہنماوں کے بیانات اور تعاون کی تفصیلات دیتے رہیں گے