افغانستان میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ برسوں میں مختلف شعبوں میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے
حکومت سازی کی بہتری میں
· ہلمند کے 14 میں سے 12 اضلاع [ نوا، نادعلی، گریشک، سنگین، موسی قلعہ، گرم سیر، نوآزاد، خانشین،دیشو اور کجاکی ] میں ضلعی گورنر تعینات ہیں اور لشکر گاہ میں ایک مئیر۔2008 ء میں صرف 5 ضلعی گورنر تھے
· صوبائی بحالی ٹیم [پی آر ٹی] کے تعاون سے ہلمند میں 4 کمیونٹی کونسلیں قائم کی گئی ہیں تاکہ مقامی نمائندوں کو ترقی کی سمت متعین کرنے اور اپنے اضلاع میں استحکام کے لئے اختیارات دئیے جاسکیں۔ گریشک کمیونٹی کونسل کی 5 اراکین خواتین ہیں۔ ناد علی اور گریشک کمیونٹی کونسل میں حال میں تازہ انتخابات ہوئے جس میں کمیونٹی نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ لوگ مقامی سیاسی عمل میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔
· ضلعی فراہمی پروگرام کے ذریعے پی آر ٹی نے صوبائی انتظامیہ کو بجٹ تعاون فراہم کیا ہے۔
· لشکر گاہ میں 26 افغان لائن وزارتیں موجود ہیں جس میں دیہی بحالی اور ترقی، تعلیم، عوامی صحت، مالیات، توانائی اور پانی [ بشمول ہلمند اور ارغنداب ویلی اتھارٹی] پبلک ورکس، ٹرانسپورٹ، انفارمیشن، میڈیا اور ثقافت اور انسداد منشیات کی وزارتیں شامل ہیں۔
اقتصادی ترقی کی حوصلہ افزائی
· ہم سڑکوں اور علاقائی ٹرانسپورٹ میں بہتری پیدا کر کے انہیں مزید کم قیمت بجلی، مالی مدد تک رسائی، پیشہ ورانہ تربیت، چھوٹے کاروباروں کے لئے زیادہ تعاون فراہم کرکے کسانوں کی مارکیٹوں تک رسائی آسان تر بنارہے ہیں۔ اس سے پائیدارروزگار فراہم ہوگا اور ہلمند میں درمیانی اور طویل المدت استحکام پیدا ہو سکے گا۔
· برطانوی ادارہ بین الاقوامی ترقی [ڈیفڈ] ائر پورٹ کے ملحق زرعی کاروباری پارک کی مزید ترقی کے لئے مالی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد پارک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو محفوط مقام اور کاروباری سہولیات فراہم کر سکے گا۔ اس سے پائیدار روزگاری مواقع بڑھیں گے اور کسانوں کو مارکیٹ تک مزید رسائی اور جائز ذرائع پیداوار میسر آ سکیں گے۔
· ہلمند بھر میں2 ملین ڈالر سے زیادہ کے 3000سے زائد قرضے چھوٹے کاروباروں کو دئیے گئے ہیں۔ پہلا نیشنل ریٹیل بنک لشکر گاہ میں2007 ء میں قائم ہوا تھا ۔اس کے بعد سے دو اور بنکوں نے صوبے میں اپنے دفاتر کھولے ہیں۔
· لشکر گاہ کا یو ایس ایڈ اور ڈیفڈ کے تعاون سے تعمیر ہونے والا ائر پورٹ جون 2009 ء سے کام کر رہا ہے ڈیفد اب اس کی ضروری دیکھ بھال کے لئے امداد فراہم کر رہا ہے جس سے ہلمند میں ہرہفتے 40 سے زیادہ تجارتی پروازیں اتر رہی ہیں جن کی تعداد ایک سال پہلے صفر تھی۔
· اگلے تین سال میں ڈیفڈ کی 28 ملین پاونڈ کی امداد سے چلنے والا ہلمندترقیاتی پروگرام سڑکوں اورمارکیٹ رسائی میں بہتری لاکے، بجلی کی فراہمی آسان تر بناکے اور قرضوں کا حصول ممکن بناکے اور پیشہ ورانہ تربیت اور کاروباری تعاون کے ذریعے اقتصادی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کر سکے گا۔
تعلیم میں اضافہ
· دسمبر 2008ءکے بعد سے ہلمند میں 40 اسکول دوبارہ کھولےجاچکے ہیں۔ اب ہلمند میں 103 اسکول کھلے ہوئے ہیں۔دسمبر 2007 ءمیں یہ تعداد کل 47 تھی۔
· ہلمند میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ 2010ء میں طلبہ کی تعداد 83995 رہی جن میں 64846 لڑکے اور 19149لڑکیاں ہیں۔
· اسکولوں کی تعمیر اور مرمت کے ساتھ ساتھ پی آر ٹی اسکولوں کے لئے سازو سامان ، اساتذہ کی تربیت بھی فراہم کر رہی ہے اور محکمہ تعلیم کی انتظامی استعداد میں اضافے کا بندوبست بھی کر رہی ہے۔
· پیش رفت کی رفتار میں اضافے کے لئے ہالینڈ نے ہلمند میں 2008 ء کے لئے 5۔7 ڈالر کی امداد دی اور فروری 2009 ء میں پی آر ٹی نے ایک سیکنڈ تعلیمی مشیر بھی مقرر کردیا۔ 3 ملین ڈالر کی مزید امداد 12-2010ء کے لئے مختص کی گئی ہے۔
· ہلمند میں خواندگی کی شرح 25 سال اور اس سے زیادہ عمر کے مردوں میں 20 فی صد ہے اور عورتوں میں یہ 11 فی صد ہے جبکہ قومی سطح پر یہ 32 اور 13 فی صد ہے۔
انفرا اسٹرکچر کی بہتری
سڑکیں
· وزارت دیہی تعمیر نو اور ترقی کے ساتھ کام کرتے ہوئے 90 کلومیٹر سے زیادہ طویل سڑکیں بنائی گئی ہیں جو خاص طور پر لشکر گاہ میں 2010 ء میں اور گرم سیر، ناد علی، سنگین، موسی قلعہ اور گریشک کے ضلعی قصبوں میں 10 کلومیٹر طویل سڑکیں بنائی گئی ہیں۔
بجلی
· یو ایس ایڈ نے کجاکی ڈیم پردوسرے ٹربائن کی تعمیر نو کی ہے، جس سے لشکر گاہ کے شہریوں کے لئے بجلی کی فراہمی میں اضافہ ہوا۔ اور اب انہیں 4 گھنٹے روزانہ کی بجائے 12 اور 24 گھنٹے بجلی مل رہی ہے۔
گریشک ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی تعمیر نو کی منصوبہ بندی جاری ہے جس سے 50 ہزار افراد کے لئے بجلی کی فراہمی بہتر ہوگی۔ یہ کام 2013 ء میں مکمل ہوگا۔ یہ 60 ملین ڈالر کا منصوبہ ڈیفڈ[ 15 ملین پاونڈ سے زائد]، ایشیائی ترقیاتی بنک اور ڈنمارک کا ہے۔
برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے وزیر اینڈریو مچل نے افغانستان کا تین روزہ دورہ کیا۔
افغانستان کے بارے میں اکثر کئے جانے والے سوالات
جولائی2011ء میں شروع ہونے والی سکیورٹی کی منتقلی سے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں افغانستان اپنے تحفظ کی ذمے داری خود سنبھالے گا۔