مشرق وسطٰی
عراق
آخری باراپ ڈیٹ:جون 2008
ملکی معلومات

بنيادی معلومات
رقبہ : 437,072 مربع کلو میٹر
آبادی : 24,683,000 ﴿جولائی 2003 کا تخمینہ﴾
دارالحکومت : بغداد﴿آبادی 3.8 ملین 38 لاکھ 1986 کا تخمینہ﴾
لوگ: عرب 80-75 فی صد، کرد 20-15 فی صد،ترکمانی، شامی اور دیگر 5 فی صد﴿ اندازاً﴾
زبانیں : عربی، کردستانی، شامی، آرمینائی اور ترکمانی
مذاہب : مسلم97 فی صد، عیسائی اور دیگر 3 فی صد﴿اندازاً﴾
کرنسی : نیا عراقی دینار
بڑی سیاسی پارٹیاں : شامی جمہوری تحریک، دعوہ پارٹی، عراقی کمیونسٹ پارٹی، عراقی آزادڈیمو کریٹ پارٹی، عراقی اسلامی پارٹی، عراقی قومی سمجھوتہ پارٹی ، عراقی نیشنل کانگریس پارٹی، کرد جمہوری پارٹی، کرد اسلامی اتحاد، قومی جمہوری پارٹی، محب وطن کرد پارٹی، عراق میں اسلامی انقلاب کی سپریم کونسل، متحدہ عراق سمجھوتہ پارٹی ، کرد اتحاد، عراقی فہرست۔عراقیز
حکومت : عراقی حکومت
سربراہ مملکت : صدر جلال طلبانی
وزیر اعظم : نوری المالکی
وزیر داخلہ : ہشیار زیباری
بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی رکنیت: عراق درج ذیل تنظیموں کا رکن ہے
افریقہ میں اقتصادی ترقی کا عرب بنک ﴿ABEDA﴾
عرب تعاون کونسل ﴿ACC﴾
عرب فنڈ برائے اقتصادی و معاشرتی ترقی ﴿AFESD﴾
عرب لیگ﴿AL﴾
عرب مالیاتی فنڈ ﴿AMF﴾
کونسل برائے عرب اقتصادی اتحاد﴿CAEU﴾
کسٹمز تعاون کونسل﴿ CCC﴾
اقتصادی و معاشرتی کمیشن برائے مغربی افریقہ ﴿ESCWA﴾
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت﴿FAO﴾
19 کا گروپ ﴿G-19﴾
اقوام متحدہ میں 77 کا گروپ ﴿G-77﴾
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ﴿IAEA﴾
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر نو و ترقیات ﴿IBRD﴾
بین الاقوامی تحریک ریڈ کراس و ہلال احمر ﴿ ICRM ﴾
بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی ﴿ IFAD﴾
بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن ﴿ IFC﴾
بین الاقوامی وفاق برائے انجمن ہائے ریڈ کراس و ہلال احمر ﴿IFRCS﴾
﴿اقوام متحدہ کی﴾ بین الاقوامی مزدور تنظیم ﴿ILO﴾
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ﴿ IMF﴾
بین الاقوامی بحری تنظیم ﴿ IMO﴾
بین الاقوامی پولیس برائے مجرمین ﴿ انٹر پولInterpol﴾
بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین ﴿ ITU﴾
غیر جانب دار تحریک ﴿NAM﴾
پٹرول برآمد کرنے والے عرب ملکوں کی تنظیم ﴿OAPEC﴾
تنظیم اسلامی کانفرنس ﴿ OIC﴾
پٹرول برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ﴿OPEC﴾
سمجھوتوں کی مستقل عدالت ﴿PCA﴾
اقوام متحدہ ﴿UN﴾
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقیات ﴿ UNCTAD﴾
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت ﴿UNESCO﴾
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے صنعتی ترقی ﴿UNIDO﴾
عالمی پوسٹل یونین ﴿ UPU﴾
ٹریڈ یونینوں کا عالمی وفاق﴿WFTU ﴾
اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم برائے صحت ﴿WHO﴾
اثاثہ دانش کی عالمی تنظیم ﴿ WIPO﴾
محکمہ ہائے موسمیات کی عالمی تنظیم ﴿WMO﴾
بین الاقوامی تنظیم برائے معیار بندی ﴿ ISO ﴾
مارچ 1999 میں 22 خود مختار ماہرین پر مشتمل اقوام متحدہ کا ایک پینل ﴿المعروف ایموریم پینل﴾ اس نتیجہ پر پہنچا کہ کیمیائی اور بایولوجیکل اہتھیاروں اور بلاسٹک میزائلوں کے بارے میں عراق کے بیانات حقائق سے بہت دور ہیں۔ مثلاً اعصابی ایجنٹ وی ایکس ﴿VX ﴾ کی پیداوار اور اس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی تیاریوں کے بارے میں عراق نے ہر گز سچ نہیں بتایا تھا۔
8 نومبر2002 کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کیونسل کی قرارداد 1441 کی منظوری اور عراق پر بڑھتے ہوئے سیاسی دبائو کے باعث بالآخر عراقی حکومت سچ بولنے پر مجبور ہو ہی گئی۔ اور چار سال کے تعطل کے بعد ہتھیاروں کے معائنہ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکا۔ اس کام کے لئے اقوام متحدہ کے نگرانی ،تصدیق اور معائنہ کمیشن اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے انسپکٹروں پر مشتمل معائنہ ٹیمیں ترتیب دی گئیں ۔ڈاکٹر ہانس بلکس اس کمیشن کے اورمحمد البرادی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ تھے۔
ہتھیاروں کے انسپکٹروں کی واپسی پر بھی بدقسمتی سے عراق نے کھلے اورشفاف انداز میں ان لوگوں کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ اور 18 مارچ 2003 تک کہ جس روز معائنہ کار عراق سے نکلنے پر مجبور ہو گئے تھے، عراق نے کسی بھی جواب طلب سوا ل کا نہ جواب دیا تھا اور نہ ہی کسی وضاحت طلب معاملہ میں کسی قسم کی وضاحت پیش کی تھی۔
امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں کام کرنے والے اتحادی ملکوں کی افواج نے 19 مارچ 2003 کو بالآخر عراق میں فوجی کارروائی شروع کردی۔ برطانیہ نے عراق کے غیر مسلح کئے جانے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرانے کے لئے آخری حربہ کے طور پر اس فوجی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ اس کارروائی کا نام ٫آپریشن عراقی آزادی٬ رکھا گیا تھا۔ 7 اپریل 2003 کو امریکی فوجیں بغداد میں داخل ہوگئی تھیں۔9 اپریل تک عراق کی برسراقتدار بعث پارٹی عملاً ختم ہو چکی تھی۔ صدام حسین کی حکومت سے اظہار نفرت کے لئے عراق کے لوگ بڑے جلوسوں کی شکل میں سڑکوں پر مظاہرے کرنے لگے تھے۔
اگلا صفحہ Economy