ایڈوانس تلاش
image
Last updated at 19:04 (UK time) 20 Mar 2010

بر طانیہ میں ایران کی ایک مختلف تصویر دکھائی جارہی ہے

 

بر طانیہ میں ایران کے بارے میں ثقافتی اور تاریخی زاوئیے سے ایک نئی تصویر کشی کا افتتاح 20 فروری 2009 کو کیا گیا ہے۔برٹش میوزیم میں 'ایران کی تشکیل نو' کے عنوان سے ہونے والی اس نمائش میں  قدیم ایرانی فن پارے دکھائے جارہے ہیں جو شاہ عباس کے عہد سے تعلق رکھتے ہیں جو ملک کے سب سے موثر ترین بادشاہ اور رہنما تھے جو 1587 میں تخت نشین ہوئے تھے ۔ یہ فن پارے دنیا بھر سے لائے گئے ہیں۔

 

ان میں سونے کے تاروں سے بنے ہوئے قیمتی قالین، چینی ظروف اور عکاسی سے مرصع مسودے شامل ہیں جن کا اکھٹا کیا جانا آسان کام نہیں تھا۔ ان کی تہائی تعداد ایران سے آئی ہےجس میں ایرانی حکومت نے تعاون کیا اور کچھ اشیا یورپ اور امریکا یہانتک کہ کویت سے بھی لائی گئی ہیں۔

 

ایران اور یورپ کے درمیان تجارت کے آغاز کا سہرا شاہ عباس کے سر ہے اور انہوں نے مغرب میں ایرانی ٹیکسٹائل ، فنون اور خطاطی کو متعارف کرایا اور چاندی کے بدلے ایرانی نفیس ریشم اور نازک اورعمدہ بنائی والے قالینوں کی تجارت کو رواج دیا۔

 

شاہ عباس نے 1587 سے 1629 تک حکومت کی اور اسی دوران ملکہ الزبتھ اول نے 1600 میں انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی اور چند سال بعد ہی ولندیزیوں نے ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی بناڈالی چنانچہ یورپ سے ایشیا کے سفر اور ایشیا سے تجارت میں یورپ کے لئےایک حقیقی کشش پیدا ہو گئی۔شاہ عباس کو ایران کے لئے چاندی کی ضرورت تھی اور ادھر جنوبی امریکا میں چاندی کی نئی کانیں دریافت ہوئی تھیں جبکہ یورپ میں کافی چاندی موجود تھی۔اس لئے تجارت فروغ پاتی رہی۔ 

ایران کی تشکیل نو میں مذہب کی بڑی اہمیت تھی ۔ شاہ عباس نے جب اقتدار سنبھالا تو ملک میں مختلف عقائد کے پیروکار ان کے اقتدار کے لئے خطرہ بن گئے تھے چنانچہ شاہ نے فارسی میں قوانین تحریر کروائے جن کی بنیادشرعی اصولوں پر رکھی گئی تھی اور انہوں نے عوام کو ایک ماڈل اورمرکزی شیعہ نظام کا پابند بنایا۔

 

{BSNVideoLink:1}