Skip navigation

مشرق وسطی امن عمل

 

ہمارے طریقہ کار کا بنیادی اصول یہ ہے: اول ایک دو ریاستی حل کی حمایت ، دوئم ان تمام فریقین سے تعاون  جو حل کی تلاش میں پر امن مذاکرات سے وابستگی رکھتے ہیں اور  تیسرے وہ اقتصادی، سماجی اور انسانی فلاح کا وہ کام ہے جو لازمی ہے۔

 

 فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے یہ بیان دارالعوام میں3 جولائی 2007 کو دیا۔

 

مشرق وسطی امن عمل میں بر طانیہ کا کردار

 

بر طانیہ مشرق وسطی میں منصفانہ، دیر پا اور جامع امن کا خواہش مند ہے۔

 

وزیر اعظم اور فارن سکریٹری کو یقین ہے کہ خطے میں دیر پا امن کے لئے اسرائیل۔ فلسطین تنازع کا حل ایک اہم شرط ہے۔

 

اس بارے میں اب ایک بین الاقوامی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ بات چیت کے ذریعے ہونے والاحل کس قسم کا ہوگا۔اس کے اہم پہلو، قبضے کا خاتمہ، "زمین کے بدلے امن" کا تبادلہ ہیں جس سے اسرائیلی ریاست کے پہلو میں ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کی تشکیل ہو گی جو تسلیم شدہ سر حدوں کے اندر محفوظ اور قابل احترام حیثیت کی حامل ہوگی۔

 

اتحاد اربعہ( کو آرٹیٹ)

 

کو آرٹیٹ ( امریکا، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور روس) فریقین کو ایک معاہدے تک پہنچنے اور اس پر عمل درآمد میں مدد کے لئے کام کر رہے ہیں۔

 

کو آرٹیٹ کا روڈ میپ جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے قیام کے لئے درکار اقدامات متعین کرتا ہے، اپریل 2003 میں فریقین کے سامنے پیش ہوا اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا۔

 

مشرق وسطی کے بحران کے حتمی اور جامع حل کے لئے ہماری نظر میں روڈ میپ ہی سب سے بڑی امید ہے۔

 

روڈ میپ مر حلے، نظام الاوقات، ہدف کی تکمیل کی تاریخ اور پیش رفت کے سنگ ہائے میل دونوں فریقین کی جانب سے سیاسی، سیکیورٹی سےمتعلق، اقتصادی، انسانی فلاحی اور اداروں کی تعمیر کے شعبوں میں یکساں اقدامات کے ذریعے پیش رفت کا واضح تعین کرتا ہے۔

 

اناپولس کانفرنس

 

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود ایلمرت نے 22 نومبر ک2007 کو انا پولس کانفرنس میں روڈ میپ کے سلسلے میں اسرائیل کی ذمےداری کے کمٹ منٹ کا اعادہ کیا تھا۔

 

ان ذمے داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت آباد کاری کی ہر کارروائی کو بند کردے، مقبوضات کو ختم کرےاور فلسطینیوں کے لئے انسانی بہبود کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرے۔

 

فلسطینیوں کی ذمے داری میں اسرائیلیوں پر پر تشدد حملوں کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کی نمایاں کوشش اور جامع سیاسی اصلاحات شامل ہیں۔

 

کوآرٹیٹ اور بر طانیہ دونوں فریقین کے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لئے کام کر رہے ہیں اور انہیں پختہ یقین ہے کہ روڈ میپ مشرق وسطی میں امن کا بہترین راستہ ہے۔

 

ہم اناپولس کانفرنس کے نتائج کا خیر مقدم کرتے ہیں جس نے 2008 میں اسرائیل اور فلسطین دونوں کو حقیقی مذاکرات کی راہ پر ڈال دیا ہے جس سے دونوں ریا ستوں کی پہلو بہ پہلو امن اور سلامتی کے ساتھ بقا کا حتمی حل نکل آئے گا۔

 

اسرائیل کی سلامتی ایک منصفانہ حل کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور فلسطینی مشکلات کو ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی دور کیا جاسکتا ہے جس سے اسرائیل کے پہلو میں ایک اقتصادی اور سماجی طور پر قابل عمل فلسطینی ریاست کی تخلیق ہو سکتی ہے۔