بر طانیہ مشرق وسطی امن عمل کی حمایت کا پابند ہے اور اسے وسیع تر عرب دنیا میں استحکام پیدا کرنے کا ذریعہ گردانتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اسرائیلی/ فلسطین امن عمل کو علیحدہ نہ لیا جائے بلکہ اسے ایک محفوظ اور پر اعتماد مشرق وسطی کے وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ بر طانوی حکومت مشرق وسطی میں امن کے جامع نقطہ نظر کا پرچار کرتی ہے اور اس کا مرکزی نکتہ فلسطینی ریاست ہے جسے اسرائیل اور تمام عرب دنیا کے درمیان وسیع تر امن کی تقویت حاصل ہو اور اس میں تمام فریقین اپنے حقوق حاصل کر نے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں۔
بر طانوی حکومت کا موقف
ہم:
· 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستوں کے قیام
· اسرائیل کےحملوں سے محفوظ ہونےاور پڑوسی ممالک سے تسلیم کئے جانے اور ان کے ساتھ پر امن رہنے
· ایک جمہوری، عملی اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام جو اسرائیل کے پڑوس میں امن سے رہ سکے
· یروشلم کے دونوں ریاستوں کا دارالحکومت ہونے
· فلسطینی مہاجرین کا منصفانہ اور متفقہ تصفیہ کئے جانے
کی حمایت کرتے ہیں ۔
فارن سکریٹری نے ستمبر 2008 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہمارے موقف کو مزید تفصیل سے بیان کیا تھا۔
ہماری کاوشیں
· ہم وسیع تر بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے لئے کوشش کر رہے ہیں تاکہ دونوں ریاستیں بین الاقوامی سرحدوں کے اندر تحفظ اور باہمی احترام کے ساتھ رہ سکیں
· ہم فلسطین اور اسرائیل دونوں کو سیاسی تعاون کی پیش کش کر رہے ہیں
· ہم مغربی کنارے میں اسرائیلی مقبوضاتی سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ مقبوضاتی سر گرمی پر بر طانوی حکومت کا موقف واضح ہے ، یہ غیر قانونی ہے اور امن عمل کو کمزور کرتا ہے۔
· فلسطین کےباب میں ہم فلسطینی گروہوں کے متحد ہونے کی اور عدم تشدد کی حمایت کرتے ہیں
· ہم نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں داخل ہونے والی سرحدی چوکیوں کو بند کرنے کا سلسلہ ختم کرے اور انسانی ضروریات کی اشیا کی فراہمی کی اجازت دے جو کہ عالمی قوانیں بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کا تقاضا ہے ۔