Skip navigation

دہشت گردی

دہشت گردی سے نمٹنے كے لئےموجودہ ترجیحات

بین الاقوامی كمیونٹی كی مسلسلجدوجہد سے دنیا كے ہر كونے میں بین الاقوامی دہشت گردی كے خلاف خاطرہ خواہ كامیابیحاصل ہوئی ہے اور برطانیہ نے اس مہم میں اہم كردار ادا كیا ہے۔

یہاں خوشفہمی میں مبتلا ہونے كے لئے كوئی گنجائش نہیں۔ حالانكہ ہم اس خطرہ كی نوعیت سےپہلے سے زیادہ باخبر ہیں، دہشت گردی كے خطرے اور اس سے نمٹنے كے لئے پہلے كی بہنسبت زیادہ بہتر طریقہ سے تیار ہیں اور اس خطرے كو كم كرنے كی ہر ممكن كوشش كر رہےہیں، لیكن اب بھی بہت كچھ كرنا باقی ہے۔ القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروپ آج بھیحملہ كرنے كا ارادہ اور صلاحیت ركھتے ہیں جو كہ استمبول میں برطانوی كونسلیٹ پرہونے والے حملے سے ظاہر ہوتا ہے۔ بیرونی ممالك میں برطانوی مفاد آج بھی ایك نشانہہیں۔

ان ہیوجوہات كی بنا پر برطانیہ اپنے ساتھی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہہماری مشترکہ کوششوں سے القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروپس سے تعلق رکھنے والوں کوڈھونڈ کر نکالا جا سکے اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے۔ ہم برطانیہ اوربیرونی ممالک میں برطانیہ کے مفاد کے تحفظ کے لئے کام کرتے رہیں گے تاکہ برطانیہمزید محفوظ اور مضبوط ملک بنے۔

مشرق وسطیٰ،افریقہ اور ایشیائ ممالک نے مغربی ممالک کی بہ نسبت دہشت گردی کا زیادہ سامنا کیاہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے سب سے موثر طریقہ کار بین الاقوامی سطح پر تعاون ہے جسکے ذریعے قانون کے دائرے میں ثابت قدمی سے دہشت گردوں کا پیچھا کیا جا سکتاہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ موجود مسائل جنہیں دہشت گردی کا جواز بنایا جارہا ہے عدل وانصاف کے ساتھ سلجھانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔