Skip navigation

دہشت گردی اور بر طانیہ

بين الاقوامی دہشت گردی

برطانوی حكومت كی طویل مدت منصوبہ بندی اس مقصد كو مد نظر ركھ كر كی گئی ہے كہ بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی كےخطرے سے نمٹا جا سكے اور لوگ اپنی روز مرہ كی زندگی آزادی سے اور خود اعتمادی سےگزار سكیں۔

 

آنے والے پانچ سے دس سالوں میں دنیا كو ایک محفوظ جگہ بنانا اور بین الاقوامی دہشتگردی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے نجات دلانا فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس کی بین الاقوامی ترجیحی پالیسیوں میں سے ایک ہےحد اہم پالیسی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی پچھلے کئی سالوں سے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ لیکن پہلے دہشت گردوں کی پہنچ مخصوص علاقوں تک ہی محدود تھی اور ان کے سیاسی مقاصد بھی ان مخصوص علاقوں سے متعلق تھے۔حالانکہ دہشت گردی کا منطقی جواز بدلا نہیں ہے۔ دہشت گردوں کو یہ یقین ہے کہ دہشتگردی کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا ان کا حق ہے اور یہ ضروری ہے۔

لیکن موجودہ خطرے کی نوعیت مختلفہے۔ بن لادن اور القاعدہ پچھلے چند سالوں میں بارہا اخبارات کی سرخیوں میں رہی ہیں۔ لیکن خطرہ در اصل ایک انسان یا ایک واحد منظم تنظیم سے نہیں ہے جسے فوراً ہیپہچانا جا سکے اور خطرہ قرار دیا جا سکے۔ اصل خطرہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسےلوگوں کے ذریعہ پھیلائے گئے تصورات ہیں جو ایک ملک سے دوسرے ملک میں لوگوں نےاپنائے اور جنہیں یہ باتیں دلچسپ اور صحیح نظر آئیں اور جنہوں نے اپنے مقاصد کےحصول کے لئے موبائل کمیونیکیشن میڈیا جیسے رابطے قائم کرنے کے ذرائع کا استعمال کیا۔ ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر لوگوں کی نقل و حرکت ایک ملک سے دوسرے ملک میںفنڈز بھجوانے اور شناخت چوری کرکے اس کے غلط استعمال کے ذریعے بھی دہشت گردی بینالاقوامی سطح پر پھیلی۔ ان وجوہات کی بنیاد پر خطرہ عالمی سطح پر اور بھی بڑھ گیااور پہلے کی بہ نسبت غیر متوقع نوعیت کا ہو گیا۔

اس خطرہ کا صرف مغربی ممالک ہی سامنا نہیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ دہشتگردوں کے گروہ نے اکثر مغربی مفاد کونشانہ بنایا ہے لیکن یہ مختلف قدروں اور تہذیبوںکے ٹکراؤ کی علامت نہیں ہیں۔

کانٹیسٹ۔ اردو ترجمہ