القاعدہ اور دوسرے گروپس
القاعدہ اور دوسرے گروپ
القاعدہ 1979ء میں روسی فوجی کارروائی کے دوران گروپ کی حیثیت سے ابھری لیکنروسی فوجیوں کے افغانستان سے انخلاء کے بعد بھی بڑھتی رہی۔
1993ءمیں سعودی عرب سے بن لادن کو نکال دیا گیا جہاں سے وہ سوڈانمنتقل ہو گیا۔سوڈان سے اس نے ایسے کاروبار شرع کئے جن کی آمدنی سے اس نے شدت پسند مجاہدینکی مدد کرنی شرع کر دی جو افغانستان چھوڑ چکے تھے۔ سوڈانی حکومت کی پالیسی میںتبدیلی کے وجہ سے بن لادن اور القاعدہ کو 1996ء میں سوڈان چھوڑ کر واپس افغانستانآنا پڑا۔
بعد میں القاعدہ جہادی تعلیمات کو فروغ دینے میں والی تنظیم کی حیثیت سے سامنےآئی۔ اسلام میں جہاد مے معنی صحیح مقصد کے حصول کی لئے جدوجہد کرنا اور مخالف اوربرائی کے خلاف کامیابی حاصل کرنا ہے۔ جہاد کو اکثر خدا کی مرضی کی لئے ذاتی جدوجہدبھی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کا تاریخی پس منظر اسلام کے دشمنوں کے خلاف ابتدائیجدوجہد ہے۔اور اسی وجہ سے القاعدہ نے افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف مسلحمزاحمت کو جہاد کا نام دیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 2000افراد کوبن لادن کی زیر نگرانی کیمپس میں تربیت دی جاتی تھی۔
1999ء کی دہائی کے وسط میں القاعدہ جیسی بین الاقوامی جہادی تنظیماور دوسری تنظیموں نے جن کے مقاصد اس سے ملتے جلتے ہیں، دہشت گردی کے حملے کئےہیں۔ مثلاً1999ء کے دوران دہشت گردوں نے مصر میں سرکاری افسروں اور سیاحوں پر حملےکئے۔ الجزائر میں مسلسل کئی حملے کئے اور فرانس میں یکے بعد دیگرے بم کے حملے کئےمرنے والے 58 سیاحوں میں سے 6 برطانوی تھے جنہیں 1997ء میں لکسر میں انتہا پسندوںنے قتل کیا تھا۔ اس کے علاوہ 11ستمبر2001ء کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کےحملوں میں 65 برطانوی مارے گئے تھے۔ القاعدہ نیروبی اور دارالسلام میں ہونے والے1998ء کے بم حملوں کے بھی ذمہ دار رہی ہے۔ ان حملوں میں کئی کینیائی اور تنزنیائیباشندے بھی ہلاک ہوئے تھے القاعدہ استنبول میں برٹش کونسل اور ایچ ایس بی سی کیعمارت پر 2009ء میں ہونے والے حملوں کی ذمہ دار رہی ہے۔ دہشت گرد گروپس نے عراق،یمن ، انڈونیشیاء سعودی عرب اور اسپین میں بھی خوفناک حملے کئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسنوعیت کے کئی حملوں کو متعلقہ ممالک میں اتھارٹیز کی مداخلت سے ناکام بنا دیا گیاہمارے[ٹریول ایڈوائس ویب سائٹ] سے آپ حال میں ہوئے دہشت گردی کے حملوں کے بارے میںمزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔