بھارت اوربرطانیہ کامشترکہ (نامیاتی ایندھن)بائیوفیول منصوبہ
بر طانیہ نے بھارت کی ایک ایسے منصوبے کے آغاز میں مدد کی ہے جو غالبا دنیا کی سب سے پہلی
پائیدار بایوفیول کمپنی ہے۔
مشترکہ منصوبہ
بھارت کی کلئیر اسٹارٹ ایجنسی اوربر طانیہ کی ری جینیٹک نے جو آکسفرڈ میں واقع ہے ایک مشترکہ منصوبہ بنایا ہے جسے
ری جینا اسٹار کا نام دیا گیا ہے۔اس سے نہایت مسابقتی لاگت پر کھانوں میں استعمال نہ ہونے والے تیلوں سے بایو ڈیزل ایندھن بنایا جائیگا۔
نئی کمپنی کو اس کے قیام میں یوکے ٹی آئی نے مدد دی ہے۔ بیرون ممالک تجارت کے فروغ اور بیرون ملک سے بر طانیہ میں سر مایہ کاری کو راغب کرنے میں یوکے ٹی آئی کا قائدانہ کردار ہے۔
مقامی حصہ دار
بھارتی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے لئے بر طانوی کمپنی کو کسی مقامی حصے دار کی ضرورت پڑتی ہے۔یو کے ٹی آئی کی مدد سے ری جینیٹک کے بانی اور چیف ایگزیکیٹو مائیک لاٹن نے بھارت کی کلین اسٹار نامی کمپنی سے رابطہ قائم کر لیا ۔ یہ کمپنی زرعی ایندھن میں خصوصی مہارت رکھتی ہے اور اسے بھارتی مارکیٹ کی گہری معلومات ہیں۔ ری جینیٹک کی درختوں کے تیل سے ایندھن کی ٹیکنالوجی کا اس سے بڑا اچھا تعلق بنتا ہے۔
ایندھن کے لئے تیل عام طور پر ان درختوں سے حاصل کیا جاتا ہے جو بھارت میں ناقابل کاشت زمین پر اور اخلاقیاتی انداز میں پائیدار طریقے سے اگائے جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ طریقہ اس تنازع سے پاک ہے جو ان دنوں غذا بمقابلہ ایندھن چل رہا ہے۔اس کے علاوہ یہ کمپنی ان کمپنیوں سے بھی مختلف ہے جو پام یا دوسرے درختوں کے تیل سے ایندھن بناتی ہیں۔
فیئر ٹریڈ فیول کمپنی
مائک لاٹن کا کہنا ہے کہ ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ کمپنی"دنیا کی سب سےپہلی حقیقی فئیر ٹریڈ فیول کمپنی ہو جس کی بنیاد سماجی اور اخلاقی معیار پر رکھی گئی ہے"۔
ایندھن جاتروفا اور پونگیمیا تیل ہے جو مغربی بھارت میں مہاراشٹر مین کلین اسٹار نیم بنجرگرم علاقے میں تیار کرتی ہے۔اور لاٹن کے نزدیک اس کی پیداوار کا طریقہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کا ذریعہ۔"ہمارا نمائشی پلانٹیشن یہ دکھانے کے لئے ایک ماڈل بن گیا ہے کہ بایوفیول کے اگانے سے کمیونٹیوں اور زمین کی خوش منظری میں کتنی بہتری پیدا ہوتی ہے"۔
بنجر سخت زمین
پہلا نکتہ جس پر مائیک زور دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ تیل سے مالا مال جاتروفا اور پونگیمیا درخت بنجر سخت زمین پر اگائے جاسکتے ہیں جہاں غذائی اجناس کی کاشت نہیں ہو سکتی۔انکی کاشت کے لئے جنگل صاف کرنے کی ضرورت نہیں نہ ہی ان سے کوئی گھنی کاشت جنم لیتی ہے۔" میڈیا میں ہونے والی بحث میں یہ نکتہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ بایو فیول پیدا کرنے کے کئی طریقے ہیں"۔
کلین اسٹار دستیاب قطعہ اراضی کے حساب سے پیداوار کا پائیدار طریقہ استعمال کرتی ہے۔" جوں جوں درخت بڑے ہوتے ہیں ان کے پتے سایہ فراہم کرتے ہیں اور آخر کار ان سے زمین کو کھاد بھی ملتی ہے ، وہ نمی کو محفوظ کرتے ہیں اور زمین کی اوپری سطح میں متواترجان ڈالتے ہیں"۔
مقامیوں کی طرف سے تعاون
مقامی کمیونٹی کا تعاون حاصل کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔درخت لگانا اور ان کی دیکھ بھال سے مقامی آبادی کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور کلین اسٹار کا بایو فیول پروگرام اب تک 55 مقامی دیہی کونسلوں کا تعاون حاصل کر چکا ہے۔مائیک کا کہنا ہے کہ"یہ کونسل والے ہماری اس نمائشی سائیٹ پر آئے اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دیہاتوں میں اس کی نقل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ اخلاقی اور لاگت دونوں کے اعتبار سے سمجھ میں آنے والی بات نظر آتی ہے"۔
کنورژن سسٹم
ری جینیٹک ایسے کنورژن سسٹم ڈیزائن، تیار اور فروخت کرتی ہے جو کمرشل ڈیزل انجنوں کو اخلاقی ذرائع سے، کم کاربن اور خالص نباتاتی تیل سے(پی پی او) چلانے کے لئے تبدیل کر دیتے ہیں۔
کمپنی ایندھن کی بجائےخود ڈیزل انجن کو تبدیل کر دیتی ہے۔چونکہ ایک نئے ایندھن کے لئے کوئی کیمیائی عمل درکار نہیں ہوتا لہذا پی پی او بایو ڈیزل یا معدنیاتی ایندھن کی تیاری کی نسبت سستا پڑتا ہے۔