پاکستان یوتھ پارلیمنٹ
گزشتہ برسوں میں سیاسی عدم استحکام کے مختلف ادوار کے باوجود پاکستانی نوجوان جمہوریت کے سفر پر چل پڑےہیں۔
نوجوانوں کی پارلیمنٹ کا 2006 میں آغاز ہوا جس کا مقصد کئی معاملات پر بحث و مباحثہ کرنا تھا۔یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کو جمہوری طریقہ کار سے روشناس ہونے اور نوجوانوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
2007 میں ہونے والے سیشن بڑے جاندار تھے، کبھی کبھی ان میں گرماگرمی اور تنقید بھی ہوتی لیکن اکثر نوجوانی کی تخئیل پرستی غالب نظر آتی۔ان میں جذبات کی شدت کے ساتھ سخت تجزیہ بھی کارفرما تھا اور پارلیمنٹ کے اراکین کی فیڈبیک سے معلوم ہوا کہ تجربے نے نہ صرف انہیں ایک دوسرے کے نظریات کو بر داشت کرنا بلکہ اختلاف رائے سے کچھ حاصل کرنا بھی سکھایا ہے۔
بر طانوی وزارت خارجہ سے مالی تعاون حاصل کرنے والی یوتھ پارلیمنٹ سال میں 30 دن اسلام آباد میں اجلاس منعقد کرتی ہے۔پچھلے موسم گرما میں بر طانوی فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے 60 اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کیا جو ملک بھر سے آئے تھے ۔ ان کا خطاب یوتھ ایکٹوازم اور پاکستان اور بر طانیہ کے درمیان مشترک اقدار کے موضوع پر تھا۔
پارلیمنٹ کا دورانیہ
ہر پارلیمنٹ جواٹھارہ تا انتیس سال عمر کے 60 نوجوان مرد اور خواتین پر مشتمل ہوتی ہے سال بھر کام کرتی ہے۔
اس کا اجرا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرینسی نے کیا تھا جو یہ یقین رکھتا ہے کہ پاکستان میں پائیدار جمہوریت اور مضبوط اداروں کا قیام، نوجوانوں کے جمہوری اور سیاسی عمل میں شریک ہوئے بغیر ممکن نہیں خواہ وہ ایک شہری یا ووٹر کی حیثیت سے ہی کیوں نہ ہو۔
انسٹیٹیوٹ کا غالب مقصد پاکستان کے جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا اور معاشرے میں جمہوری ثقافت کو فروغ دینا ہے۔یہ اپنی ویب سائٹ پر دلیل دیتا ہے کہ"ہمیں شدت پسندانہ رحجانات اور دوسروں کے عقائد اور نظریات کے لئے برداشت کی کمی کی حوصلہ شکنی اور قانون کی بالادستی کو مستحکم کرنا چاہیئے"۔
قومی اسمبلی کی طرز پر
یوتھ پارلیمنٹ،ملکی پارلیمنٹ یعنی پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرز پر بنائی گئی ہے۔ اس کی رکنیت البتہ اس کے مقابلے میں کم ہے۔یہ قومی اسمبلی کے قواعد کی اس حد تک پابندی کرتی ہے جہاں تک اس کے لئے عملا ممکن ہو۔
یوتھ پارلیمنٹ کے خاص مقاصد یہ ہیں:
متعلقہ قومی اور عالمی امور پر بحث کرنا
حکومت میں موجود افراد سے جوابدہی کا مطالبہ کرنا
کمیٹی میں قانون سازی پر بات چیت کرنا
عام بد نظمی کے بغیر حکومت میں تبدیلی لانا
اپنے طرز عمل کے لئے خود اصول مرتب اور نافذکرنا
اس کے علاوہ یہ نوجوان پاکستانیوں کے لئے ایک مفید فورم ہے جہاں وہ قومی اور بین الاقوامی امور پر اظہارخیال کر سکتے ہیں۔
خواتین کی تعداد
فی الوقت پارلیمنٹ میں 72 فی صد مرد اور 28 فی صد خواتین ہیں۔البتہ امید ہے کہ اگلے چند سال مین خواتین کی تعداد کم از کم ایک تہائی ہو جائے گی۔
یوتھ پارلیمنٹ کے اراکین( ایم وائی پی) کا انتخاب نہیں ہوتا ۔ وہ اشتہار کا جواب دیتے ہیں اور پھر ان کا انٹرویو کرکے انہیں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔
یہ کوشش کی جارہی ہے کہ یوتھ پارلیمنٹ میں پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں اور آزاد کشمیر کی نمائندگی ہو، خواتین کی کافی تعداد ہو اور مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی بھی رہے۔
وابستگی
امیدواروں کو اضافی طور پر یہ دکھانا ہوتا ہے کہ وہ:
سیاست اور جمہوریت سے وابستگی رکھتے ہیں
انہیں معاملات کا شعورہے
سرگرمیوں کا پچھلا تجربہ ہے
رابطے کا سلیقہ رکھتے ہیں
اگلے چند سال میں یہ منصوبہ پاکستان کی سیا سی زندگی کا مستقل حصہ بن جانا چاہئیے۔ کون جانے ان میں سے چند نوجوان ایم وائی پی ملک کی قومی اسمبلی تک جا پہنچیں اور ملک چلانے میں ان کا عمل دخل ہو جائے۔