Skip navigation

'پاکستانی نوجوانوں کے لئے 'پانچ بڑے سوالات

 

برطانوی فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈنے لاہور میں پاکستانی گلوکار ابرار الحق کے ساتھ ایک گرماگرم بحث میں حصہ لیا جس میں پچیس نوجوان شریک تھے اور اس کا موضوع وہ چیلنجزتھے جو پاکستانی نوجوانوں کو درپیش ہیں۔

 

یہ مباحثہ برٹش کونسل کے 'سرگرم شہری' پروگرام سلسلے کے تحت ہونے والے قومی مباحثوں کا ایک حصہ تھا جس کے نتیجے میں ایک دستاویز مرتب کی جائیگی جس کا عنوان 'پاکستان کی اگلی نسل: ایک رپورٹ' ہوگا۔یہ رپورٹ ہزاروں نوجوانوں کے ان جوابات سے ترتیب دی جائے گی جو پاکستانی نوجوانوں کے بارے میں پانچ سوالوں کے لئے دئیے گئے ہیں۔

 

شرکا نے اس مباحثے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ وہ کس طرح اپنی کمیونٹیز میں مثبت سماجی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔یہ مباحثہ قومی سطح پر ریڈیو کے ذریعے بھی نشر کیا گیا جس میں سامعین نے بھی ٹیلی فون اور ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے حصہ لیا۔

 

ڈیوڈ ملی بینڈ نے نوجوانوں کی ان کوششوں کو سراہا جو وہ پسماندہ طبقے کے نوجوانوں میں تبدیلی لانے کے لئے اور اس پروگرام کے ذریعے بنیادی جمہوریت کے قیام کے لئے کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا" پاکستان اور برطانیہ دونوں کے پائیدار مستقبل کے لئے ایک عالمگیر اور جامع تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے۔ نوجوانوں کے لئےاپنی زندگی میں ایک محفوظ روزگار کے ذریعے بہتری لانے میں فروغ پزیر معیشت کا کرداربھی اہم ہے"۔

 

وہ پانچ بڑے سوال یہ ہیں:

  1. پاکستان کی اگلی نسل کو کیا چیلنجز درپیش ہیں؟
  2. اگلی نسل کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لئے کیا ٹھوس اقدامات کئے جا سکتے ہیں؟
  3. حکومت، نجی شعبے اور شہری معاشرے کو نوجوانوں کے لئے کیا کرنا چاہئیے؟
  4. بین الاقوامی کمیونٹی پاکستان کے نوجوانوں کو کیا دے سکتی ہے؟
  5. پاکستان کو مزیدخوشحال بنانے کے لئے اگلی نسل کس طرح مزید متحرک ہو سکتی ہے؟