Skip navigation

صوابی کیمپ – 7 جولائی (09/07/2009)

 

پاکستان کے تین روزہ دورے کے پہلے دن فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ لفتنینٹ جنرل ندیم کے ہمراہ صوابی کے نزدیک چھوٹا لاہور کیمپ گئے۔

 

پاکستان پہنچنے کے بعد فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ سیدھے 'چھوٹالاہور' کیمپ پہنچے جو شمال مغربی صوبہ سرحد کے مقام صوابی میں قائم کیا گیا ہے۔ان کا مقصد اپنے گھروں سے بے دخل ان افراد کےمسائل کا ذاتی مشاہدہ تھا۔ بچوں کے ایک گروپ نے کیمپ میں ان کا استقبال کیا جن کی عمرین 4 سے 8 سال تھیں اور جنرل ندیم نے انہیں کیمپ کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔

 

ڈیوڈ ملی بینڈ بے گھر افراد کے ایک گروپ سے ملے اور انہیں بتایا" سب سے پہلے میں ایک کیمپ جا کر پناہ گزینوں کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ ان کی مدد کرنے کے لئے ہم نے طویل المدت عزم کر رکھا ہے۔ان بے دخل افراد کو اس بحران کے نتیجے میں نقصان نہیں بلکہ فائدہ پہنچنا چاہئیے کہ وہ اب اپنے گھر لوٹ کر امن کے ساتھ بلا کسی خوف کے زندگی گزار سکیں"۔

 

اس موقع پر انہوں نے کہا

 

"برطانیہ حکومت پاکستان کی اس تشویش میں برابر کا شریک ہے جو وہ ان داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی دیکھ بھال کے لئے محسوس کر رہی ہے۔ہم ان افراد کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مدد میں تعاون کے پابند ہیں۔ بر طانیہ نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس انٹرنیشنل کمیٹی کی اپیل پر 22 ملین پاؤنڈ دے چکا ہے۔

 

" بر طانیہ انتہا پسندی کو شکست دینے کے لئے پاکستان کی کوششوں میں معاون ہے، یہ انتہا پسندان علاقوں میں بےحد انتشار پیدا کرنے کے ذمے دار ہیں جہاں لوگ امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔ہم حکومت پاکستان کی ان کوششوں میں بھی تعاون کرتے ہیں جو وہ ان بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے گھروں میں امن اور سلامتی کے ساتھ واپسی کو یقینی بنانے کے لئے کر رہی ہے"۔

 

ملتان کا دورہ 8 جولائی2009

 

ڈیوڈ ملی بینڈ نے ملتان میں ایک درگاہ کا دورہ کیا۔ یہاں انہوں نے کہا

 

" پاکستان کے وزیر خارجہ کی دعوت پر یہاں آنا میرے لئے بڑا اعزاز ہے۔ یہ ایک حسین اور اہم درگاہ ہے اور میرے لئے یہ موقع بڑا متا ثر کن رہا ہے"۔

 

ڈیوڈ ملی بینڈ نے ملتان کی بہا الدین ذکریا یونیورسٹی میں طلبہ کے سوالوں کے جواب دئیے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ" بر طانیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات گہرے اور پر جوش ہیں۔ہم آپ کی حکومت اور عوام کے ساتھ ساجھے داری میں فخر محسوس کرتے ہیں"۔ طلبہ سے بات چیت کے بعد انہوں نے کہا" طلبہ کے سوالات بڑے دلچسپ تھے ۔ ہماری بات چیت بڑی بے تکلفانہ اور جاندار تھی"۔

 

ڈیوڈ ملی بینڈ نے الخیر پبلک اسکول اور مدرسے کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہا"میں اس اسکول میں اس لئے آیا ہوں کہ یہ بہتر طور پرجان سکوں کہ پاکستان کے عوام کا کچھ حصہ کیسے سوچتا ہے ۔ میں چند طالب علموں سے ملا ہوں اور مجھے ان کی مذہبی عقیدت اور پاکستان کا سرگرم شہری بننے کے مصمم عزم نے بہت متاثر کیا ہے"۔

 

 

 

لاہور کا دورہ- 8 جولائی 2009

 

 

لاہور میں اپنے قیام کا آغاز ڈیوڈ ملی  بینڈ نے بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ لاہور سے کیا انہوں نے کہا کہ انہیں یہ دو بہت مشہور مقامات دیکھنے کا شوق تھا جن میں روایات، تاریخ اور ثقافت کا خزینہ پوشیدہ ہے۔

 

ڈیوڈ ملی بینڈ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف سے ملے اور اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلی نے کہا کہ صوبے میں اچھی گورننس، معیشت اور تعلیم کے بارے میں ان کی بات چیت بڑی مفید رہی ہے۔انہوں نے گھروں سے بے دخل افراد کی صورتحال پر بھی بات کی ، وزیر اعلی نے ان پناہ گزینوں کی مدد کے لئے بر طانیہ کے 22 ملین پاؤنڈ کے عطیے اور برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی [ڈیفڈ] کی اگلے چند برسوں کے لئے 600 ملین پاؤنڈ امدادکا خیر مقدم کیا۔

 

فارن سکریٹری نےایک فروغ پزیر جمہوریت میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے اہم کردار کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کا صرف اچھے موسموں کا ساتھی نہیں اور اعادہ کیا کہ برطانیہ نہ صرف امداد کے بلکہ تجارت کے میدان میں بھی پاکستان کی مدد کے لئے عزم صمیم رکھتا ہے جو خوشحالی کے لئے اہم راستہ ہے۔

 

ڈیوڈ ملی بینڈ اور پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی ملاقات میں بر طانیہ اور پاکستان کے، خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں مضبوط روابط پر بات چیت ہوئی۔

Back to newsroom




تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر