پاکستان کے دورے کے دوران ڈیوڈ ملی بینڈ کےبلاگس
شاندارتاریخ کےرنگ و بو
میں وزیرخارجہ محمود قریشی کے ہمراہ ان کے صوفی بزرگوں کی درگاہ پر گیا جو ملتان میں 13ویں صدی میں بنی تھی۔آج مجھے لاہور میں 16ویں صدی میں تعمیر کی گئی بادشاہی مسجدمیں جانے کا موقع ملاجو برصغیر میں سب سے بڑی مسجد ہے۔اس کے بعد میں شاہی قلعہ لاہور دیکھنے گیا جوبرطانوی حکومت نے سکھوں سے 1850 کی دہائی میں حاصل کیا تھا، یہ قلعہ 16ویں صدی کے مغل شہنشاہوں کا تعمیر کردہ ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ثقافتی تاریخ کی خوشبوؤں اور رنگوں سے لطف اندوز ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس سرزمین پر تاریخی رنگا رنگی یہاں کی آبادی کے اعداد و شمار میں نمایاں نظر آتی ہے۔
9 جولائی کو 2009 کو تحریر کیا گیا
جدید مدرسے؟
پاکستان کی کثیر نوجوان آبادی کو اسکولوں اور ٹیچروں کی ضرورت ہے۔ان کی کمی کی وجہ سے مدرسوں کی بہت بڑی تعداد نے جنم لیا ہے جو تقریبا 18000 کے لگ بھگ ہیں۔ یہ دینی ادارے مغرب میں انتہاپسندی اور خطرناک نظریات کی ایک علامت بن گئے ہیں۔ چند صورتوں میں ان کی یہ شہرت غلط نہیں ہے۔ ان مدرسوں کی تبدیلی یا ان پر ضابطوں کا عائد کیا جاناپاکستان میں ایک زبردست مسئلہ بنا ہوا ہے۔
ملتان کے الخیر پبلک اسکول اور مدرسے نے ' روشن ذہن اور مسلمان قلب' کو اپنا مشن بنایا ہوا ہے۔ میں کل وہاں گیا تھا۔ 8 سے 16 سال کے طالب علموں کو ہل ہل کر قران حفظ کرتے ہوئے دیکھ کر پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ یہ جستجو کی طرف لے جانے والی تعلیم کا انداز نہیں ۔نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ دن بھر میں آٹھ گھنٹے حفظ کے لئے خود کو پوری دینی عقیدت کے ساتھ وقف کر چکےہیں۔ ڈائریکٹر نےکھلے الفاظ میں اور علی الاعلان طور پر 11/9 اور 7/7 کی مذمت کی اور مجھے بین العقائد مکالمے پر اپنی کتاب پیش کی۔یہ مدرسہ پبلک اسکول کے ساتھ ہی بلکہ اس کی عمارت میں ہی قائم ہے۔طلبہ بہت پر جوش نظر آتے تھے۔ اصل مسئلہ مذہب نہیں بلکہ متشدد انتہا پسندی ہے۔
9 جولائی کو تحریر کیا گیا
یہ آپ کی اپنی جدوجہد ہے
جنوری2009 میں میرے گزشتہ دورے کے بعد سے پاکستان میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ملک کے شمال مغرب میں شورش اورپاکستانی فوج کے درمیان محاذ آرائی پھیل گئی ہے۔ میں چند متاثرین یعنی اپنے علاقوں سے بے دخل افراد سے ملاہوں، جو اپنے گھروں سے نکل کر 45 درجے کی شدید گرمی میں اسلام آباد کے شمال میں ایک کیمپ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ہاتھوں وہ اپنے عزیزوں سے محروم ہوگئے، ایک بوڑھے شخص نے بتایا کہ اس کی بیوی اور دو بیٹیاں ختم ہوگئیں ۔ان کا کہنا تھا کہ جونہی حکومت سے انہیں 25 ہزار روپئے (250 پاؤنڈ) کی امداد ملی وہ اپنے گھر لوٹ جائیں گے۔ حکومت/فوج چاہتی ہے کہ سیکیورٹی، گورننس اور سہولیات کے بحال ہوتے ہی وہ جلد سے جلد واپس چلے جائیں۔
شمال مغربی صوبہ سرحد کے وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ یہ اب پاکستانیوں کی اپنی جدوجہد ہے اور اسے خود ہی کرنے کی ضرورت ہے۔بڑے نقصانات کے باوجود اس وقت طالبان کی زیادتیوں کے خلاف اور فوج کے حق میں عوامی جذبہ پایا جاتا ہے۔گورننس اور سیکیورٹی استحکام کے لئے لازمی ہیں لیکن جیسا کہ ایک ممتاز فوجی کمانڈر نےکہا کہ سماجی برابری کے بغیر استحکام نہیں ہو سکتا۔بونیر سے آئے پناہ گزینوں کی خاصی تعداد لوٹ چکی ہے، سوات کے پناہ گزینوں کی واپسی ایک امتحان ہوگی جن کی 80 فی صد تعداد اپنے عزیزوں یادوستوں کے ساتھ مقیم ہے۔ہماری امداد اور امریکا کی کوششیں مختصر مدت کے لئے ہیں۔ تعمیر نو کے لئے ہمارے عطیات طویل مدت کے لئے ہونگے
9 جولائی 2009 کو تحریر کیا گیا