1 فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کا وزر ا اجلاس 25اگست 2009کو استنبول میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت ترکی کے وزیر خارجہ احمت دیوو ٹوگلو اور پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مشترکہ طور پر کی۔
2 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے 2008میں نیویارک میں قائم ہونے والے ادارے فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کی اب تک کی کارکردگی اور ٹوکیو وزرا اجلاس کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ استنبول کا اجلاس نیویارک میں ہونے والے فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے اجلاس کی تیاری کا ایک حصہ ہے۔ نیویارک کے اجلاس کی صدارت صدر بارک اوبامہ، وزیر اعظم گورڈن براؤن اور صدر آصف علی زرداری مشترکہ طور پر کریں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سماجی معاشی ترقی کے لیے حکومت پاکستان کے وژن کی تفصیلات پیش کیں اورجمہوریت کے فروغ، اسلوب حکمرانی کی بہتری، عوام کی فلاح و بہبود اور خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کو یقینی بنانے کے لیے جامع قومی حکمت عملی کا تفصیلی ذکر کیا۔ انھوں نے وزیر اعظم ریسپ طیپ اردوگن کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا کہ وہ آئندہ سمٹ میں5 اگست 2009کو استنبول میں ہونے والے وزراء اجلاس کے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کریں گے۔
وزیر خارجہ احمت داووٹوگلو نے ترکی کی حکومت کا یہ کھلا اور غیر مبہم پیغام دیا کہ وہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کی حکومت کی مدد کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انھوںنے اس بات پر اصرار کیا کہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان ایک جامع عمل ہے جس کی قیادت خود پاکستان کر رہا ہے اور یہ ادارہ خاص طور پر پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہی قائم کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ احمت داوو ٹوگلو نے مزید کہا کہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کو ہمیں ایک طویل المیعاد کوشش کے طور پر لینا چاہئے جو تھوڑے ہی عرصے میں ضرور اپنے نتائج سامنے لانا شروع کردے گی۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان نے اپنے اجراء کے بعد سے اب تک بہت پیش رفت کی ہے لیکن اس انتہائی مؤثر عمل کے تناظر میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے مستقبل سے متعلق استنبول میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
4 اجلاس میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے فیصلہ کیا کہ اس عمل کو آگے بڑھایا جائے گاتاکہ پاکستان اس قابل ہوسکے کہ اپنے دوستوں کی مدد سے وہ اپنے قومی ترقیاتی اہداف حاصل کرے۔ انھوں نے اس بات کی اہمیت پر اصرار کیا کہ پاکستان کے ساتھ بین لاقوامی اور کثیر الجہتی پارٹنرشپس ہونی چاہئیں تاکہ ایسی صورت حال پیدا ہو جس میں ہر دو فریق فائدے میں رہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر کو بھی اس عمل میں شامل کرکے اسے پھیلایا جائے۔
5 اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس خطے میں اور عالمی سطح پر استحکام کے لیے پاکستان کی حیثیت بنیادی ہے۔
6 اجلاس میں پاکستان کے عوام کو اس غیر معمولی جرات مندی اور حوصلے کے لیے اور پاکستان کی حکومت کو اور خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسی ان تھک کوششوں کے لیے خراج تحسین پیش کیا گیا جو انھوں نے سوات اور مالاکنڈ میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیں۔ شرکا نے پاکستان کے ان شہریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیاجو اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد رہے اور اب بھی جمہوری انداز میں ترقیاتی اہداف حاصل کرنے اور پاکستان کو ایک ترقی ےافتہ اور فلاحی ریاست بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔
7 اجلاس نے پاکستان کی اس حوالے سے بھی تعریف کی کہ اس میں بے گھر ہونے والے مہاجرین کے مسئلے کو مئوثر انداز میں حل کیا۔ چودہ لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ متاثرہ افراد کو امداد پہنچانے اور ان کی بحالیء نو اور متاثرہ علاقو ں کی تعمیرِ نو کے لئے معاونت فراہم کی گئی ہے۔
8 اس بات پر زور دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں اور ذہنوں کو جیتنے اور ان کا مکمل تعاون حاصل کرنے کے لئے متاثرہ علاقوں میں امدادی، بحالیِ نو اور تعمیرِ نو کے کاموں کو ترجیحاتی بنیادوں پر کرنا ہوگا۔ اجلاس کو مالاکنڈ سے متعلق حکمتِ عملی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ شرکا ء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس حکمتِ عملی کا اطلاق فوراََ ہونا چاہئے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر دوستوں کا یہ اصرار جائز ہے کہ متاثرہ علاقوں کی معاشی و سماجی بہبود اور تحفظ میں بہتری اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومتِ پاکستان کی کوششوں کی حمائت اور اس کی معاونت کرنا بہت ضروری ہے۔ اس حوالے سے اجلاس میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں، اور تعمیرنو اور بحالیِ نو کی کوششوں کے لیے پاکستانی عوام کا کردار بہت اہم ہے۔
9 اجلاس میں پاکستان کو خوش آمدید کہا گیا کہ وہ کامیابی کے ساتھ مکمل جمہوری عمل میں داخل ہوگیا ہے۔ اس جمہوری ڈھانچے میں ایک فعال پارلیمان ، خود مختارآزاد میڈیا اور متحرک سول سوسائٹی بھی شامل ہے۔
10 انہو ں نے پاکستا ن کی ان کوششوں کی حمایت کی جو وہ ایک جمہوری ترقی پسند فلاحی ریاست کی تشکیل کو ممکن بنانے کے لیے کر رہاہے یعنی ایسی ریاست جو عوام کی سماجی اور معاشی بہبود کے لیے کوشاں ہو۔بہتراسلوب حکمرانی ، نفاذ قانون، معاشی اصلاح سازی اور پائیدار جمہوری اداروں کا فروغ اس ریاست کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
11 اجلاس میں پائیدار اور مساوی سماجی و معاشی ترقی کی اہمیت پر زور دیا گیا اور یہ تسلیم کیا گیا کہ توانائی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے میں پاکستان کو معاونت فراہم کرنی چاہئے۔ اجلاس کے شرکا نے حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستان ڈیولپمنٹ فورم کو نئی توانائیوں کے ساتھ ازسر فعال کیا جائے۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ توانائی، تحفظ اور دوسری قومی ترجیحات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔
12 اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ مجموعی اور انفرادی دونوں سطحوں پر تعاون کو مضبوط کیا جائے اور اسے پھیلایا جائے جیسے مقامی اور قومی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنے میں مدد کی جائے اور نجی او رسرکاری شراکت داری قائم کرنے میں معاونت فراہم کی جائے تاکہ اسے اس قابل بنایا جا سکے کہ وہ اپنی فطری توانائی کو بروئے کار لائے ۔
14 اجلاس میں عوامی ڈپلومیسی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ اس حوالے سے منصوبے تیار کرنے چاہئیں۔
15 سینئر آفیشئل میٹنگ کی رپورٹ کے پیش نظر توانائی، ترقی، تجارت، مالیات، انفراسٹرکچر اور انسٹی ٹیوشنل کپیسٹی بلڈنگ جیسے شعبوں کے تحت کام کرنے والے ورکنگ گروپس سے درخواست کی گئی کہ وہ مختلف سفارشات کے جائزے، تشکیل سازی اور ان کی جانچ پڑتال کا کام کریں اور فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کو پیش کرنے کے لیے تجاویز تیار کریں۔
16 اجلاس میں فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے آئندہ کے کام کے حوالے سے درج ذیل امور زیر بحث آئے:
· فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے آغاز اور اس کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار، اور اس کے قائم رہنے اور توانائی کے ساتھ کام کرنے کی اہمیت پر اصرارکیا گیا۔
· پاکستان کی داخلی قوتوں کو مضبوط کرنے پر بات ہوئی۔
· پائیدار پارٹنرشپس قائم ہونی چاہئیں۔
· مارکیٹ تک رسائی سمیت مختلف معاشی مواقع کو بڑھاناچاہئے۔
· ٹوکیو کانفرنس میں کیے گئے وعدے پورے کیے جانے چاہئیں۔
· توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیے کام کیا جانا چاہئے۔
· ازسر نو فعال کیے گئے ’پاکستان ڈیولپمنٹ فورم‘ کے ذریعے سماجی شعبے کے پروگرامز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔
· تحفظ کے شعبے میں استعداد کار بڑھانے کی پاکستان کی کوششوں میں مدد کی جانی چاہئے۔
· پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان ہی کی قیادت میں اور اسی کی وساطت سے تعمیری سرگرمیاں کی جانی چاہئےں۔
· سیاسی ساکھ اور حمایت کو پروگرامز اور پراجیکٹس میں مدد کی صورت میں بروئے کار لانا چاہئے۔
· توانائی، تجارت، مالیات، تحفظ، ترقی اور اداراتی استعداد میں اضافہ سے متعلق شعبوں سے خصوصی تعاون کرنا چاہئے۔
· پاکستان کی ترجیحات کے مطابق وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے پاکستان کی جامع قومی حکمت عملی کی حمایت کرنی چاہئے۔
· عوامی ڈپلومیسی اور کمیونیکیشنز جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔
· یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ اس خطے میں پائیداری پیدا کرنے کے لیے پاکستان کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ جیسے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینا اور اس کے لیے قربانیاں پیش کرنا ضروری ہے۔
17 اجلاس میں اس بات کا خیر مقدم کیا گیا کہ 24ستمبر 2009کو نیویارک میں ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘کا اجلاس کروایا جائے گا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کی تجویز پر قائم کیے جانے والے ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘کی پہلی سال گرہ مناتے ہوئے ، اس ادارے کی سرگرمی کو پاکستانی عوام کے حق میں آگے بڑھایا جائے۔