Skip navigation

جبری شادی کی ایک مثال

  م کی عمر 23 سال ہے وہ ایک بنگلہ د یشی شخص سے شا دی کرنا چا ہتی تھی، جس سے وہ ان دنوں ملی تھی جب وہ اپنے عزیزوں سے ملنے یوکے آیا ہوا تھا۔ اسکے گھر والے اس پر ناخوش تھے اور م کو اکثر ما را پیٹا کر تے تھے۔ م کے گھر وا لے اس کی شا د ی اس کے ایک کزن سے کرنا چا ہتے تھے جو بنگلہ د یش میں رہتا تھا۔

 

 م 10 جولائ2002  کو بنگلہ د یش گئ اور چند روز بعد ا پنے بواۓ فرینڈ سے شا د ی کرلی۔ شا د ی کے بعد اس نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا جو اسے بنگلہ د یش میں تلا ش کرنے میں کا میا ب ہو گۓ۔ انہوں نے اس کو اپنے گا ؤ ں جا نے پر قا ئل کر لیا کیونکہ روایا ت کے مطا بق لڑکی کا گھر وا پس آ نا  ضروری تھا تا کہ اسے عزت کے سا تھہ شوہر کےگھر بھیجا جاۓ۔ لیکن جب وہ آئ تو انہوں نے ا سے گھر میں بند کرد یا۔ اس سے کہا گیا کہ اسے گھر سے تب نکلنے د یا جا ئیگا جب وہ شوہر سے طلا ق لے کر اس شخص سے شا د ی کریگی جسے ا نہوں نے منتخب کیا ہے۔

 

م کے شوہر نے اسے ڈھونڈھ نکا لا اور مجسٹریٹ کی عدالت میں م کی رہائ کے لۓ قا نونی کارروائ کرد ی۔ اسے پتا چلا کہ م پر جسما نی تشد د کیا گیا ہے، وہ بیمار تھی اور اس کا علا ج بھی نہیں کیا جا رہا تھا۔ م کے گھر وا لوں نے اسے د ھمکی د ی کہ اگر اس نے عدالت کو بتا یا کہ اسے اس کی مرضی کے خلا ف گھر میں بند کیا گیا ہے تو وہ اس کے شوہر کو قتل کر د ینگے۔ چنا نچہ م نے کہہ د یا کہ وہ اپنے شوہر کے سا تھہ نہیں جا نا چا ہتی۔

 

م کے شوہر نے ہمت نہ ہا ری اس نے جبری شا د ی یونٹ سے رابطہ کیا، ہم نے ڈھا کہ میں برٹش ہائ کمیشن سے رابطہ کیا انہوں نےایک مقا می این جی او سے رابطہ کیا جو جبری شا د ی کے کئ کیسزمیں مد د کرتی ہے۔ این جی او اور اس کے وکلا نے عدالت میں لڑکی کی پیشی کی درخواست داخل کر د ی، وکیل نے نے یہ بھی درخواست کی کہ عدالت شوہر کو بیوی سے علیحد گی میں با ت کرنے کا موقع د لواۓ۔ جج نے اتفا ق کیا اور م کو شوہر سے با ت کرنےکا موقع ملا۔ اس نے م کو آ مادہ کیا کہ اس کے پاس یہی موقع ہے کہ وہ عدالت میں بیا ن دے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھہ جانا چاہتی ہے۔ م نے ہمت کر کے ایسا ہی کیا اور جج کو اسے رہا کرنا پڑا۔ م ک وکیل نے اصرار کیا کہ انہیں پولیس کی حفاظت میں ڈھا کہ لے جایا جاۓ جہاں م اور اسکا شوہر ہائ کمیشن چلے گۓ۔ اس کے بعد وہ یوکے میں رہ رہے ہیں۔